میر عشاق کے تئیں ہے عجز و نیاز واجب : میر تقی میر

فرحان محمد خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 20, 2018

  1. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,109
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    غزل
    عشاق کے تئیں ہے عجز و نیاز واجب
    ہے فرض عین رونا دل کا گداز واجب

    یوں سرفرو نہ لاوے ناداں کوئی وگرنہ
    رہنا سجود میں ہے جیسے نماز واجب

    ناسازی طبیعت ایسی پھر اس کے اوپر
    ہے ہر کسو سے مجھ کو ناچار ساز واجب

    لڑکا نہیں رہا تو جو کم تمیز ہووے
    عشق و ہوس میں اب ہے کچھ امتیاز واجب

    صرفہ نہیں ہے مطلق جان عزیز کا بھی
    اے میر تجھ سے ظالم ہے احتراز واجب
    میر تقی میر
     

اس صفحے کی تشہیر