عربی نثری اقتباسات مع اردو ترجمہ

ربیع م

محفلین
قيل لأعرابي : أتحب أن تموت امرأتك ؟
قال : لا .
قيل : ولم ؟
قال : أخاف أن أموت من الفرح

ایک بدو سے کہا گیا : کیا تجھے پسند ہے کہ تیری بیوی فوت ہو جائے؟
اس نے کہا : نہیں۔
کہا گیا : کیوں؟
جواب میں کہا: مجھے ڈر ہے کہیں خوشی سے میں مر نا جاؤں!
 

ربیع م

محفلین
تزوج شاب من فتاة صغيرة السن
وفي أحد الأيام حضر جمع من أصدقائه لزيارته
وكعادتهم في الضيافة والكرم
أحضر الزوج ذبيحة وطلب من زوجته أن تعدها طعاما لضيوفه
ولدهشته الشديدة
قالت الزوجة بأنها لا تعرف كيف تطبخ الذبيحة
فلم تتعلم ذلك في بيت أبيها
انزعج الزوج كثيرا
وغضب من زوجته وطلب منها أن تجهز نفسها
لأنه يريد اعادتها لبيت أهلها
فهي لا تعرف كيف تطبخ الذبيحة،
وبالتالي لا تستحق أن تكون زوجته !
وعندما وصلا بيت أهل الزوجة
قال الزوج لأبيها:
هذه بضاعتكم ردت اليكم،،،،،
ابنتكم لا تعرف كيف تطبخ الذبيحة
ولا حاجة لي بها حتى تعلموها أصول الطبخ
رد الأب بحكمة وعقلانية:
اتركها عندنا شهرين وسنقوم خلال هذه الفترة بتعليمها ما تجهل
وبعدها يمكنك أن تعود لتصحبها الى بيتكم
جلست الزوجة في بيت أبيها مدة شهرين
وحسب الموعد،
جاء الزوج الى بيت أهل زوجته يريد أن يأخذها
على أساس أنه تم تعليمها كيفية طبخ الذبيحة
حيث قال والد الزوجة أن ابنته الآن تتقن فن الطبيخ وخاصة الذبيحة
فقال الزوج اذن على بركة الله دعنا نذهب الى بيتنا
لكن والد الزوجة أبى وأصر أن يتأكد الزوج من ذلك قبل ذهابهم الى بيتهم
وقام فأحضر خروفا حياّ وقال لزوج ابنته
أذبح هذا لنرى ان كانت ابنتنا تعلمت حقاً كيف تطبخ الذبيحة!
فقال الزوج:
ولكني لا أعرف كيف أذبح!!!
عندها قال والد الزوجة:
حسنا أذهب لأهلك كي يعلموك الرجولة
واذا عرفت،،،،،،،،
تعال وخذ زوجتك


ایک نوجوان نے کم عمر لڑکی سے شادی کی
ایک دن اس نے اپنے تمام دوستوں کو ملاقات کیلئے جمع کیا
اور جیسا کہ ضیافت و اکرام میں ان کا معمول تھا
شوہر نے ایک ذبح شدہ جانور منگوایا اور بیوی سے کہاکہ مہمانوں کیلئے کھانا تیار کرے۔
اور وہ ششدر رہ گیا
جب اس کی بیوی نے کہا کہ اسے گوشت پکانا نہیں آتا کیونکہ یہ اس نے اپنے باپ کے گھر میں نہیں سیکھا۔
شوہر شدید زچ ہوا، بیوی پر غضبناک ہوا اور اسے کہا کہ تیاری کرو کیونکہ وہ اسے اس کے گھر پہنچانا چاہتا ہے چونکہ اسے گوشت پکانا نہیں آتا، چنانچہ وہ اس کی بیوی نہیں رہ سکتی۔
جب وہ دونوں بیوی کے گھر پہنچے
شوہر نے اپنے سسر سے کہا:
یہ تمہارا سامان تمہیں لوٹانے آیا ہوں
تمہاری بیٹی گوشت پکانا نہیں جانتی اور مجھے اس وقت تک اس کی ضرورت نہیں جب تک تم اسے گوشت پکانا سکھا نا دو۔
باپ نے بڑی حکمت اور عقلمندی سے کہا: اسے دو ماہ کیلئے یہاں چھوڑ جاؤ اس دوران ہم اسے وہ سب کچھ سکھا دیں گے جس سے وہ ناواقف ہے۔
اس کے بعد تم اسے آ کر اپنے گھر لے جانا۔
بیوی دو ماہ تک اپنے گھر رہی۔
اور حسب وعدہ
شوہر دو ماہ بعد بیوی کے گھر آیا کہ بیوی نے امور خانہ داری سیکھ لئے ہوں گے، اس کے سسر نے کہا کہ اس کی بیٹی نے کھانا پکانے اور خاص طور پر گوشت پکانے میں مہارت حاصل کر لی ہے۔
شوہر نے کہا: اللہ برکت دے، چلو ہم گھر چلتے ہیں، لیکن سسر نے اصرار کیا کہ اس کا داماد گھر جانے سے قبل اس بات کا اطمینان حاصل کر لے کہ اس کی بیٹی کو اچھی طرح گوشت پکانا آ گیا ہے۔
چنانچہ وہ کھڑا ہوا اور ایک زندہ دنبہ لایا اور اپنے داماد سے کہا کہ اس ذبح کرو تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ واقعی ہماری بیٹی نے اچھے طریقے سے گوشت پکانا سیکھ لیا ہے۔
داماد نے کہا:لیکن میں ذبح کرنا نہیں جانتا!!!
تو سسر نے کہا : اچھی بات ہے، اپنے گھر جاؤ، تاکہ وہ تمہیں '' مردانگی" سکھائیں اور جب تم اچھی طرح سیکھ جاؤ تو آ کر اپنی بیوی کو لے جانا۔
 

حسان خان

لائبریرین
"ووصلنا بعد العصر ألی مدينة أصفهان من عراق العجم.....، و مدينة اصفهان من كبار المدن و حسانها إلا أنها الآن قد خرب أكثرها بسبب الفتنة التي بين أهل السنة والروافض، وهي متصلة بينهم حتی الآن، فلا يزالون في قتال."

کتاب: رحلة ابن بطوطة: تحفة النُظّار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار
نویسندہ: أبو عبدالله محمد بن عبدالله اللواتي الطنجي، المعروف بابن بطوطة (مُتَوَفّیٰ: ۷۷۹ھ)

"ہم عصر کے بعد شہرِ اصفہان پہنچ گئے جو عراقِ عجم کا ایک شہر ہے۔ اور شہرِ اصفہان اُس خطے کے بزرگ ترین و خوب ترین شہروں میں سے ہے۔ لیکن الحال اُس شہر کا اکثر حصہ سُنّیوں اور رافضیوں کے مابین منازعہ و آشوب کے باعث ویران ہو گیا ہے۔ اور اُن کے درمیان یہ منازعہ تا ہنوز جاری ہے، پس وہ ہمیشہ جنگ و ستیز کرتے رہتے ہیں۔"
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
"وليس في معمور الأرض أحسن أصواتاً بالقرآن من أهل شیراز."

کتاب: رحلة ابن بطوطة: تحفة النُظّار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار
نویسندہ: أبو عبدالله محمد بن عبدالله اللواتي الطنجي، المعروف بابن بطوطة (مُتَوَفّیٰ: ۷۷۹ھ)

ور روئے زمین پر اہلِ شیراز سے خوب تر آواز میں تلاوتِ قرآن کرنے والا کوئی نہیں ہے۔"
 

حسان خان

لائبریرین
معروف سیّاح ابنِ بطوطہ اپنے سفرنامے میں عبدالرحمٰن جامی اور امیر علی شیر نوائی کے شہر ہِرات کے بارے میں لکھتے ہیں:

"وبعد ذلك كان وصولنا ألی مدينة هراة، وهي أكبر المدن العامرة بخراسان. ومدن خراسان العظيمة أربع: اثنتان عامرتان وهما هرات ونيسابور، واثنتان خربتان وهما بلخ و مرو. ومدینة هراة كبيرة عظيمة کثيرة العمارة، ولأهلها صلاح و عفاف و دیانة. وهم علی مذهب الإمام أبي حنیفة رضي الله عنه، وبلدهم طاهر من الفساد."


کتاب: رحلة ابن بطوطة: تحفة النُظّار في غرائب الأمصار وعجائب الأسفار
نویسندہ: أبو عبدالله محمد بن عبدالله اللواتي الطنجي، المعروف بابن بطوطة (مُتَوَفّیٰ: ۷۷۹ھ)

"اور اُس کے بعد ہم شہرِ ہِرات پہنچے۔ اور یہ خُراسان کا بزرگ ترین آباد شہر ہے۔ خراسان کے چار بزرگ شہر ہیں: اُن میں سے دو آباد ہیں یعنی ہِرات و نیشابور، اور دو ویران ہیں یعنی بلخ و مرو۔ شہرِ ہرات بِسیار بزرگ و عظیم ہے اور اُس میں عمارتیں بکثرت ہیں۔ اُس کے مردُم نیکی و پاک دامنی و دین داری سے متّصف ہیں۔ اور وہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے مذہب کی پیروی کرتے ہیں اور اُن کا شہر فساد و انحراف سے پاک ہے۔"
 

ربیع م

محفلین
لولا المطر

في عصور الرق، اشترى أحدهم عبداً قوي البنية، اسمه: سعيد.

دأب سعيد على التباهي ببطولاته المزعومة، وعنترياته الزائفة، حتى انخدع به سيده.

كانا مسافرين في الصحراء، فخرج عليهما ثلاثون من قاطعي الطريق. استسلم سعيد فوراً، وقاتل السيد ببسالة لكن الكثرة تغلب الشجاعة. كبلهما المجرمون بالقيود، ثم أخذوا يبصقون على شوارب السيد ثم شوارب عبده.

عندما انتهى هؤلاء من سفاهتهم فوجئوا بسعيد يحطم القيود ويمسك بسيفه ثم يقتلهم جميعاً.

فك سعيد وثاق سيده، ثم راح يفتخر بما فعل وقال لسيده: أرأيتَ كيف قتلتُ ثلاثين من المجرمين الفتاكين؟ قال السيد: رأيتُ .. لكني أخشى أن نلتقي بتسعة وعشرين قاطع طريق، فنلقى مصرعنا، لأنك لا تنتخي قبل أن يبصق ثلاثون شخصاً في وجهك


اگر بارش نہ ہو
دور غلامی ایک شخص نے مضبوط جسامت والا غلام خریدا جس کا نام سعید تھا.
سعید ہمیشہ اپنی بہادری دلیری جانفشانی اور بسالت کے جھوٹے سچے واقعات سنایا کرتا یہاں تک کہ اس کا مالک اس کی باتوں کے دھوکے میں آ گیا.
وہ دونوں صحرا میں سفر کر رہے تھے، کہ تیس ڈاکوؤں نے انھیں آ لیا. سعید نے فورا ہتھیار ڈال دئیے، جبکہ آقا نے بڑی جرات سے مقابلہ کیا لیکن ڈاکوؤں کی کثرت اس کی شجاعت پر غالب آ گئی. مجرموں نے دنوں کو بندشوں میں جکڑ دیا پھر آقا اور غلام کی مونچھوں پر تھوکنے لگے.
جب انھوں نے اپنی یہ گھٹیا حرکت ختم کی تو اچانک سعید بندشیں کاٹ کر تلوار تھام کر ان پر حملہ آور ہوا اور سبھی کو قتل کر ڈالا.
اس کے بعد سعید نے اپنے آقا کو بندشوں سے آزاد کروایا اور اپنے کارنامے پر فخر کرنے لگا.
آقا سے کہنے لگا : آپ نے دیکھا میں نے کس طرح تیس مہلک مجرموں کو قتل کر ڈالا؟ آقا نے کہا : میں نے دیکھ لیا... لیکن مجھے خوف ہے کہ اگر 29 ڈاکوؤں نے ہمیں آ لیا تو ہم مارے جائیں گے کیونکہ تم تو اس وقت تک غیرت نہیں کھاتے جب تک تیس افراد تمہارے منہ پر تھوک نہ دیں.
 

ربیع م

محفلین
سبَّ رجلٌ يحيى بن معين ، فلم يرد عليه . فقالوا له : لماذا لم ترد عليه ؟قال : ولماذا تعلَّمتُ العِلمَ إذن .. ؟حلية الأولياء لأبي نعيم

کسی نے یحیٰ بن معینؒ کو گالی بکی؛ انھوں نے جواب نہیں دیا- پوچھا گیا تو فرمایا: گالی کا جواب ہی دینا ہے تو پھر بھلا میں نے علم کیوں پڑھا ہے؟!
 

ربیع م

محفلین
يحكى أن رجلا وجد أعرابيا عند الماء، فلاحظ الرجل أن حمولة البعير كبيرة

فسأل الأعرابي عن محتواها

أجاب الأعرابي : كيس يحتوي على المؤونة والكيس المقابل يحتوي ترابا ليستقيم الوزن في الجهتين ⚖

قال الرجل: لم لا تستغني عن كيس التراب ثم تنصّف كيس المؤونة في الجهتين فتكون قد خففت الحمل على البعير ... ؟!

قال الأعرابي: صدقت ، وفعل ما أشار إليه.

ثم عاد يسأله : هل أنت شيخ قبيلة أم شيخ دين ... ؟!
أجاب الرجل : لا هذا ولا ذاك بل رجل من عامة الناس،

فقال الأعرابي : قبّحك الله لا هذا ولا ذاك ثم تشير علي ...!
وأعاد حمولة البعير كما كانت ...!

بیان کیا جاتا ہے ایک آدمی نے کسی بدو کو پانی کے قریب پایا اس نے دیکھا کہ بدو کے اونٹ پر کافی بوجھ لدا ہے.

اس نے بدو سے پوچھا اس میں کیا ہے؟

بدو نے کہا ایک تھیلے میں سازوسامان ہے اور اس کے بالمقابل دوسرے تھیلے میں مٹی بھری ہے تاکہ وزن دونوں جانب برابر رہے.
اس آدمی نے کہا تم مٹی پھینک کر دونوں جانب سامان تقسیم کیوں نہیں کر لیتے؟! اس طرح اونٹ پر بوجھ بھی کم ہو جائے گا.
بدو نے کہا بالکل درست اور اس کے مشورے کے مطابق ہی کیا.
پھر پلٹ کر سوال کیا : آپ کسی قبیلے کے شیخ ہیں یا کوئی عالم؟
اس آدمی نے کہا : میں ان دونوں میں سے کوئی نہیں محض ایک عام سا آدمی ہوں.
بدو نے کہا : اللہ تمہیں رسوا کرے نہ کسی قبیلے کے سردار ہو نا کوئی عالم اور مجھے مشورہ دیتے ہو....!
اور اونٹ پر دوبارہ وہی بوجھ لاد دیا....!
 
Top