احمد ندیم قاسمی صحیفے پڑھ رہا ہوں اونچی نیچی رہگزاروں میں

حسان خان

لائبریرین
صحیفے پڑھ رہا ہوں اونچی نیچی رہگزاروں میں​
کئی صدیوں کی گونجیں دفن ہیں ان کوہساروں میں​
​
جنہیں اب روندتا ہے دیوِ ظلمت ارضِ مغرب کا​
کبھی پیغمبروں کی روشنی تھی ان دیاروں میں​
​
انہی کے مطلعِ غیرت سے کل خورشید ابھرے گا​
جو اب شامل ہیں ارضِ ایشیا کے بے وقاروں میں​
​
نہ ان کا ہاتھ ہلتا ہے، نہ ان کا پاؤں اٹھتا ہے​
مری بے دست و پائی کے مگر چرچے ہیں یاروں میں​
​
مری نظروں میں یہ آتش فشانوں کے دہانے ہیں​
جو مرمر کے محل اُگنے لگے ہیں سبزہ زاروں میں​
​
تمازت اس قدر ہے، دھوپ چھَن جاتی ہے پتوں سے​
کہیں سایہ نہیں ملتا درختوں کی قطاروں میں​
​
نمازِ صبح کی مہلت میسر ہو تو کیسے ہو؟​
اذانیں سن کے کھو جاتا ہوں چڑیوں کی پکاروں میں​
​
میں ان لوگوں کو دعوت دے رہا ہوں سیرِ صحرا کی​
جو کھو بیٹھے ہیں اپنی راہ پھولوں کے حصاروں میں​
​
ندیم اب تو سمجھ لو بات قدرت کے علائم کی​
ستارے کچھ تو کہتے ہیں اشاروں ہی اشاروں میں​
​
(احمد ندیم قاسمی)​
اپریل ۱۹۷۷ء​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top