صحیح مسلم جلدنمبر6

جاویداقبال

محفلین
: دل اللہ تعالی کےاختیارمیں ہیں۔
6750:- عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےانھوں نےسنارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)سےآپ فرماتےتھےآدمیوں کےدل پروردگارکےدوانگلیوں کےبیچ میں ہیں جیسےایک دل ہوتاہےپروردگاران کوپھراتاہےجس طرح چاہتاہےپھرآپ نےفرمایااللہ دلوں کےپھرانےوالےہمارےدلوں کوپھرادےاپنی اطاعت پر۔
(6750)٭یعنی انسان کادل بھی اس کےقابومیں نہیں وہ بھی خداوندکریم کےہاتھ۔ میں ہےوہ چاہتاہےتوہدایت کی راہ پرلگادیتاہےاورچاہتاہےتوگمراہی کی طرف پھیردیتاہےغرض یہ ہےکہ دل کاخیال بھی خداوندکی طرف سےہےعمل کاکیاذکرہےاللہ قرآن میں فرماتاہےتم کسی کام کوچاہ بھی نہیں سکتےجب تک خداوندتعالی نہ چاہےیہ حدیث احادیث صفات میں سےہےاوراوپرکئی باربیان ہوچکاکہ سلف کامذہب ان آیات اوراحادیث میں یہ ہےکہ وہ اپنےظاہری معنی پرمحمول ہیں اوران کی کیفیت کاعلم خداکوہےبےشک خداکی انگلیاں ہیں جیسےاس کےہاتھ۔ ہیں پرنہ ہاتھ۔ کی حقیقت ہم کومعلوم ہےنہ انگلیوں کی اوروہ پاک ہےمخلوقات کی مشابہت سےاورجنھوں نےتاویل کی ہےوہ کہتےہیں انگلیوں سےمرادیہاں قدرت اوراختیارہےاوران لوگوں نےیہ نہ سمجھاکہ قدرت کاتثنیہ اورجمع کیونکرہوگاقرآن میں صاف صیغہ تثنیہ موجودہےدونوں ہاتھ۔ اس کےکھلےہیں اورحدیث میں اصابع کالفظ جوجمع ہےاصبع کی موجودہے۔
باب: ہرایک چیزتقدیرسےہے۔
6751:- طاؤس سےروایت ہےمیں نےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کےکئی صحابیوں کوپایاوہ کہتےتھےہرچیزتقدیرسےہےاورمیں نےعبداللہ بن عمرسےسناوہ کہتےتھےمیں نےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)سےسناآپ فرماتےتھےہرچیزتقدیرسےہےیہاں تک کہ عاجزی اوردانائی بھی(یعنی بعض آدمی ہوشیاراورعقلمندہوتےہیں بعض بیوقوف کاہل یہ بھی تقدیرسےہے)۔
6752:- ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےقریش کےمشرک جھگڑتےہوئےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کےپاس آئےتقدیرمیں تویہ آیت اتری جس دن گھیسٹےجاویں گےاوندھےمنہ جہنم میں اورکہاجائےگاچکھوجہنم کالگناہم نےپیداکیاہرچیزکوتقدیرکےساتھ۔(اس حدیث سےمعلوم ہواکہ اس آیت میں قدرسےیہی تقدیرمرادہےاوربعضوں نےاس کےمعنی یہ کئےہیں کہ ہم نےہرچیزکواس کےاندازےپرپیداکیایعنی جتنامناسب تھا)۔
باب: انسان کی تقدیرمیں زناکاحصہ لکھاجانا۔
6753:- ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےیہ جواللہ تعالی نےفرمایاجولوگ بچتےہیں بڑےبڑےگناہوں سےاورلمم میں گرفتاہوجاتےہیں توخداتعالی بڑی بخشش والاہےمیں سمجھتاہوں لمم کےمعنی وہ ہیں جوابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نےکہاکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نےفرمایااللہ تعالی نےہرایک آدمی کےلیےزنامیں سےاس کاحصہ لکھ۔ دیاہےجوضرورہونےوالاہےتوزناآنکھوں کادیکھناہے(اجنبی عورت کوشہوت سے)اورزنازبان کاباتیں کرناہے(اجنبی عورت سےشہوت کےساتھ۔)اورزنانفس کاخواہش کرناہےاورفرج اس کوسچاکرتی ہےیاجھوٹا۔
(6753)٭یعنی اگرفرج حرام فرج میں داخل کی تویہ زنائیں بھی ثابت ہوگئیں اورجوجماع نہ کیاصرف یہی باتیں ہوئیں توحقیقتازنانہیں ہیں بلکہ مجازاہیں اوریہ باتیں لمم میں داخل ہیں جن سےانسان بہت کم بچ سکتاہےاوراگربڑےگناہوں سےبچے تواللہ تعالی اس لمم کوبخش دےگااوربعضوں نےکہالمم سےگناہ کاعزم مرادہےیعنی دل میں گناہ کاخیال آوےلیکن خداسےڈرکرنہ کرےتویہ خیال معاف ہوجائےگا(واللہ اعلم)
6754:- ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نےفرمایاانسان کی تقدیرمیں اس کاحصہ زناکالکھ۔ دیاگیاہےجس کو وہ خواہ مخواہ کرےگاتوآنکھوں کازنادیکھناہےاورکانوں کازناسنناہےزبان کازنابات کرناہےاورہاتھ۔ کازناپکڑنااورچھوناہےاورپاؤں کازناجاناہے(فاحشہ کی طرف)اوردل کازناخواہش اورتمناہےاورشرم گاہ ان باتوں کوسچ کرتی ہےیاجھوٹ۔
باب: بچوں کابیان کہ وہ جنتی ہیں یادوزخی اورفطرت کابیان۔
6755:-ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نےفرمایاہرایک بچہ پیداہوتاہےفطرت پر(یعنی اس عہد پرجوروحوں سےلیاگیاتھایااس سعادت اورشقاوت پرجوخاتمہ میں ہونےوالی ہےیااسلام پریااسلام کی قابلیت پر)پھراس کےماں بات اس کویہودی بناتےہیں اورنصرانی بناتےہیں اورمجوسی بناتےہیں جیسےجانورچارپاؤں والاوہ ہمیشہ سالم جانورجنتاہےکسی کوتم دیکھتےہوکان کٹاہواپیداہواپھرابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتےتھےتمہاراجی چاہےتواس آیت کوپڑھو۔فطر‏ۃ اللہ التی فطرالناس علیھالاتبدیل لخلق اللہ۔یعنی اللہ کی پیدائش جس پربنایالوگوں کواللہ کی پیدا‏ئش نہیں بدلتی۔
6756:- ترجمہ وہی ہےجواوپرگزرا۔
6757:- ترجمہ وہی ہےجواوپرگزرا۔
6758:- ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نےفرمایاہرایک بچہ فطرت پرپیداہوتاہےپھراس کےماں باپ اس کویہودی بناتےہیں نصرانی بناتےہیں مشرک بناتےہیں ایک شخص بولایارسول اللہ اگروہ بچہ اس سےپہلےمرجائےآپ نےفرمایاخداجانےوہ کیاکام کرتا۔
(6758)٭آپ نےفرمایاخداجانےوہ کیاکام کرتاتواللہ تعالی کی مرضی چاہےاسےجنت میں لےجائےچاہےجہنم میں بچوں کےباب میں جوبلوغت سےپہلےمرجاویں علماء کااختلاف ہےنووی نےکہامسلمانوں کےبچےتواجماعاجنتی ہیں اورمشرکوں کےبچوں میں تین مذہب ہیں اکثرکایہ قول ہےکہ وہ اپنےماں باپ کےساتھ۔ جہنم میں جائیں گےاوربعضوں نےتوقف کیااورصحیح جس پرمحققین ہیں یہ ہے کہ وہ جنتی ہیں اوراس حدیث کایہ جواب دیاہےکہ اس میں جہنم میں جانےکاذکرنہیں بلکہ اسکامطلب یہ ہےکہ اگروہ جوان ہوتےتواللہ کومعلوم ہےکیاعمل کرتےلیکن وہ جوان نہیں ہوئےتوجنتی ہیں اورخضرنےجس لڑکےکومارااس کےماں باپ تومسلمان تھےاورحدیث میں جواس کوکافرکہاہےاس کامطلب یہ ہےکہ اگروہ بڑاہوتاتوکافراورماں باپ کوبھی کافرکردیتا۔
 

جاویداقبال

محفلین
6735:- جابررضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےسراقہ بن مالک بن جعشم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کےپاس آیااورعرض کیایارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)ہمارادین بیان کیجئےگویاہم اب پیداہوئےہم جوعمل کرتےہیں تواس مقصدکےلیےکرتےہیں جس کولکھ۔ کرقلم سوکھ۔ گئی اورتقدیرجاری ہوگئی اوراس مقصدکےلیےجوآگےہونےوالا(اورپہلےسےاس کی نسبت کچھ۔ قرارنہیں پایا)آپ نےفرمایانہیں بلکہ اس مقصدکےلیےعمل کروجس کولکھ۔ کرقلم سوکھ۔ گئی اورتقدیرجاری ہوچکی سراقہ نےکہاپھرعمل سےکیافائدہ ہےزہیرنےکہاابوالزبیرنےکچھ۔ بات کہی جس کومیں نہیں سمجھ۔ سکامیں نےپوچھا(لوگوں سےکیاکہا)انھوں نےکہاعمل کروہرایک شخص کےلیےآسان کیاگیا۔
6736:- ترجمہ وہی جواوپرگزرااس میں یہ ہےکہ ہرایک کام کرنےوالےکےلیےاس کاکام آسان کیاگیاہے۔
6737:- عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےلوگوں نےعرض کیایارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ جنت والوں کااوردوزخ والوں کاعلم ہوگیاہے(خداوندتعالی کو)آپ نےفرمایاہاں لوگوں نےکہاپھرعمل کرنےوالےعمل کیوں کرتےہیں آپ نےفرمایاہرشخص کےلیےوہی کام آسان کیاگیاہےجس کےلیےپیداہوا(اب اگراس کےہاتھ۔ سےاچھےکام ہورہےہیں امیدہوتی ہےکہ اس کی تقدیرمیں جنتی ہونالکھاگیاہےاوربرےکام ہورہےہیں توخیال ہوتاہےکہ اس کی تقدیرمیں جہنمی ہونالکھاگیاہےہم کوتقدیرکاعلم نہیں۔حاصل یہ ہے کہ ہمارےاعمال کب تقدیرسےخارج ہیں وہ بھی بہ تقدیرالہی ہیں اورعذاب وثواب اس اختیارپرہےجوبعالم اسباب ہم کودیاگیاہےاورچونکہ تقدیرتک ہماراعمل نہیں پہنچتااس لیےہم سارےکام اپنےاختیارسےکرتےہیں اوراس کی جزااورسزاپانےکےمستحق ہیں)۔
6738:- ترجمہ وہی ہےجواوپرگزرا۔
6739:- ابوالاسوددیلی سےروایت ہےمجھ۔ سےعمران حصین رضی اللہ تعالی عنہ نےکہاتوکیاسمجھتاہےآج جس کےلیےلوگ عمل کررہےہیں اورمحنت اورمشقت اٹھارہےہیں آیاوہ بات فیصلہ پاچکی اورگزرگئی تقدیرکی روسےیاآگےہونےوالی ہےرسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)کی حدیث سےاورحجت سےمیں نےکہاوہ بات فیصلہ پاچکی اورگزرگئی عمران نےکہاتوپھرظلم لازم آیا(اس لیےکہ خدائےتعالی نےجب کسی کی تقدیرمیں جہنمی ہونالکھ۔ دیاتوپھروہ اس کےخلاف کیونکرعمل کرسکتاہے)یہ سن کرمیںبہت گھبرایااورمیں نےکہاظلم نہیں ہےاس وجہ سےکہ ہرایک چیزاللہ کی ہوئی ہےاوراسی کی ملک ہےاس سےکوئی پوچھ۔ نہیں سکتااورلوگوں سےالبتہ پوچھ۔ سکتےہیں عمران نےکہاخداتجھ۔ پررحم کرےمیں نےیہ اس لیےپوچھاکہ تیری عقل کوآزماؤں دوشخص مزینہ کےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کےپاس آئےاورعرض کیایارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)آپ کیافرماتےہیں آج جس کےلیےلوگ عمل کررہےہیں اورمحنت اٹھارہےہیں آیااس کافیصلہ ہوچکااورتقدیرمیں وہ بات گزرچکی یاآئندہ ہونےوالاہےاس حکم کی روسےجس کوپیغمبرلےکرآئےاوران پرحجت ثابت ہوچکی آپ نےفرمایانہیں بلکہ اس بات کافیصلہ ہوچکااوراس کی تصدیق اللہ کی کتاب سےہوتی ہےاللہ تعالی فرماتاہےقسم ہےجان کی اورقسم ہےاس کی جس نےبنایااس کوپھربتادی اس کوبرائی اوربھلائی۔
6740:- ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نےفرمایاآدمی مدت تک اچھےکام کیاکرتاہے(یعنی جنتیوں کےکام)پھراس کاخاتمہ دوزخیوں کےکام پرہوتاہےاورآدمی مدت تک جہنمیوں کےکام کیاکرتاہےپھراس کاخاتمہ جنتیوں کےکام پرہوتاہے۔
6741:- سہل بن ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نےفرمایاآدمی لوگوں کی نظرمیںجنتیوں کےسےکام کرتاہےاوروہ جہنمی ہوتاہےاورآدمی لوگوں کی نظرمیں جہنمیوں کےکام کرتاہےاوروہ جنتی ہوتاہے
باب:۔ حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت موسی علیہ السلام کامباحثہ۔
6742:- ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نےفرمایاحضرت آدم اورحضرت موسی میں بحث ہوئی حضرت موسی نےکہااےآدم تم ہمارےباپ ہوتم نےہم کومحروم کیااورجنت سےنکالا(درخت کھاکر)حضرت آدم نےکہاتم موسی ہوتم اللہ نےاپنےکلام سےخاص کیااورتورات تمہارےواسطےاپنےہاتھ۔ سےلکھی تم مجھ۔ کوطعنہ دیتےہواس کام پرجواللہ تعالی نےمیری قسمت میں میری پیدائش سےچالیس برس پہلےلکھ۔ دیاتھارسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)نےفرمایاآدم بحث میں غالب آئےموسی پر۔
(6742)٭اللہ تعالی نےتورات شریف کواپنےہاتھ۔ سےلکھااس مقام پرالحدیث کایہ مذہب ہےکہ اللہ تعالی کےدونوں ہاتھ۔ ہیں اوردونوں داہنےہیں اورہاتھ۔ اپنےظاہری معنی پرمحمول ہےابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نےفقہ اکبرمیں کہاکہ ہاتھ۔ کی تاویل نعمت اورقدرت سےنہ کریں گےکیونکہ یہ قدریہ اورمعتزلہ کاقول ہےامام نووی نےجوکہاکہ اس کاظاہرمرادنہیں ہےتوظاہرہےظاہرمتعارف مقصودہےیعنی جسمانی ہاتھ۔ جیساہماراہاتھ۔ ہےیہ بےشک مرادنہیں ہےکیونکہ اللہ تعالی کی ذات اورصفت کسی مخلوق کی ذات اورصفت کےمشابہ نہیں ہوسکتی اوریہ مطلب نہیں کہ ظاہرمعنی لغوی مرادنہیں ہےاس لیےکہ اگرظاہرمعنی لغوی مرادنہ ہوتوتاویل کرنےوالوں میں اوراہل حدیث میں کوئی فرق باقی نہیں رہتااوربہت ائمہ نےتصریح کردی ہےکہ تمام صفات الہی اپنےظاہرپرمحمول ہیں تویدکاترجمہ ہاتھ۔ سےاوروجہ کاترجمہ منہ سےاورعین میں اورہم نےاس مسئلہ کومفصل کتاب الانتہاء فی الاستواء میں بیان کیاہےقاضی عیاض نےکہایہ مباحثہ اپنےظاہرپرمحمول ہےاورشایدیہ دونوں پیغمبرایک جگہ جمع ہوئےہوں اورحدیث معراج میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کی ملاقات پیغمبروں سےثابت ہےآسمان میں اوربیت المقدس میں تویہ امربعیدنہیں ہےکہ اللہ تعالی نےان کوزندہ رکھاہوجیسےشہداء کےباب میں آياہےاوراحتمال ہےکہ یہ مباحثہ حضرت موسی علیہ السلام کی زندگی میں ہواہواورانھوں نےخداسےدعاکی ہوکہ ان کوحضرت آدم علیہ السلام سےملاویں اوریہ حضرت آدم نےکہاکہ چالیس برس پہلےمیری پیدائش سےمیری قسمت میں لکھاگیاتویہ تورات شریف میں لکھاہےکیونکہ تورات حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سےچالیس برس پہلے اللہ نےاپنےمقدس ہاتھ۔ سےلکھی اورتقدیرکالکھنامرادنہیں ہےاس لیےکہ تقدیرجوحکم الہی میں تھی وہ توازلی ہے(نووی)
6743:-ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نےفرمایابحث کی آدم اورموسی نےآدم موسی پرغالب ہوئےموسی نےکہاتم وہی آدم ہوجنھوں نےگمراہ کیالوگوں کواورجنت سےان کونکالاآدم نےکہاتووہی موسی ہوجن کواللہ تعالی نےہربات کاعلم دیااوران کوبرگزیدہ کیالوگوں پراپناپیغمبرکرکےموسی نےکہاہاں آدم نےکہاتوپھرمجھ۔ کوملامت کرتےہواس کام پرجومیرےپیداہونےسےپہلےمیری تقدیرمیں لکھ۔ دیاگیا۔
6744:-ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نےفرمایاآدم اورموسی نےبحث کی اپنےپروردگارکےپاس توآدم علیہ السلام غالب ہوئےموسی علیہ السلام پرموسی نےکہاتم وہی آدم ہوجن کواللہ تعالی نےاپنےہاتھ۔ سےبنایااوراپنی روح تم میں پھونکی اورتم کوسجدہ کرایافرشتوں سے(یعنی سلامی کاسجدہ نہ کہ عبادت کااورسلامی کاسجدہ اس وقت جائزتھا۔ہمارےدین میں سواخداکےدوسرےکوسجدہ کرناحرام ہوگیا)اورتم کواپنی جنت میں رہنےکوجگہ دی پھرتم نےاپنی خطاکی وجہ سےلوگوں کوزمین پراتاراآدم علیہ السلام نےکہاتم وہ موسی ہوجن کواللہ تعالی نےچن لیااپناپیغمبرکرکےاورکلام کرکےاورتم کواللہ تعالی نےتورات شریف کی تختیاں دیں جن میں ہربات کابیان ہےاورتم کواپنےنزدیک کیاسرگوشی کےلیےاورتم کیاسمجھتےہواللہ تعالی نےتورات کومیرےپیداہونےسےکتنی مدت پہلےلکھاحضرت موسی نےکہاچالیس برس پہلےآدم علیہ السلام نےکہاتم نےتورات میں نہیں پڑھاکہ آدم نےاپنےرب کےفرمانےکےخلاف کیااوربھٹک گیاحضرت موسی علیہ السلام نےکہاکیوں نہیں میں نےپڑھاہےحضرت آدم علیہ السلام نےکہاپھرتم مجھ۔ کوملامت کرتےہواس کام کےکرنےپرجومیری تقدیرمیں اللہ نےمیرےپیداہونےسےچالیس برس پہلےلکھ۔ دیارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نےفرمایاتوآدم غالب آئےموسی پر۔
(6744)٭نووی نےکہاکہ اگرکوئی ہم میں سےگناہ کرےپھریہی جواب دےجوحضرت آدم نےدیاتوکیااس سےملامت اورعقوبت جاتی ہےگی جواب یہ ہےکہ نہیں جاوےگی کیونکہ وہ دنیامیں ہےجودارالتکلیف ہےاورآدم علیہ السلام تومرچکےتھےاوران کاگناہ اللہ تعالی نےبخش دیاتھااس وجہ سےان پرملامت نہ رہی۔
6745:- ابوہریرہ رضی اللہ تعالی سےروایت ہےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)
نےفرمایاآدم اورموسی نےتقریرکی موسی نےکہاتم وہی آدم ہوجوگناہ کی وجہ سےجنت سےنکلےآدم نےکہاتم وہی موسی ہوجن کواللہ تعالی نےچنارسالت اورکلام سےپھرتم مجھ۔ کوملامت کرتےہواس کام پرجومیری تقدیرمیںلکھاگیامیری پیدائش سےپہلےتوحضرت آدم غالب ہوئےموسی علیہ السلام پر۔
6746:- ترجمہ وہی ہےجواوپرگزرا۔
6747:- مذکورہ بالاحدیث اس سندسےبھی مروی ہے۔
6748:- عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہ سےروایت ہے میں نےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)سےآپ فرماتےتھےاللہ تعالی نےمخلوقات کی تقدیرکولکھاآسمان اورزمین کےبنانےسےپچاس ہزاربرس پہلےاس وقت پروردگارکاعرش پانی پرتھا۔
(6448)٭نووی نےکہایہ تقدیرکی کتابت کازمانہ ہےنہ کہ اصل تقدیرکاوہ توازلی ہےاس کی کوئی ابتداءنہیں اس حدیث سےیہ نکلاکہ خداوندتعالی کاعرش آسمان اورزمین کےوجودسےپہلےتھااورعرش پانی پرتھااب معلوم نہیں پانی سےپہلےکس چیز پرتھااس کی خبرہم کواللہ اوراس کےرسول نےہیں دی۔
6749:- ترجمہ وہی ہےجواوپرگزرااس پرعرش ہونےکابیان نہیں ہے۔
 
Top