صحيح سائنسى علم ‘ اسلام كا ہم نوا ہوتا ہے

سید عاطف علی

لائبریرین
کوپرنکس سے پہلے تمام کے تمام مسلمان ماہر فلکیات اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے- تو کیا اس زمانے کے مسلمان قرآنی تعلیمات سے ناواقف تھے؟ ان کی کیا بات کریں، جدید دور میں بھی سعودی مفتی اعظم بن باز (وفات 1999) کا یہی عقیدہ رہا ہے۔
جیسا اس مضمون میں ذکر کیا گیا ہے کہ سائنس کے مطابق آسمان گول ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ سائنس کو تو کائنات کی حدود کا علم نہیں ہے تو گول ہونا یا بیضوی شکل میں ہونا تو بہت بعد میں آتا ہے۔
قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے اس لئے اس میں سے سائنس کی چیزیں اخذ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔
کوپر نکس ۔ کے پاس اسلامی فلکیاتی ماہرین کی کتب اور ڈائگرام موجود تھیں جس پر اس نے نتائج اخذ کیے تھے ۔پروفیسر جورج سلیبا ۔کولمبیایونی ورسٹی ۔
اس کی کتاب میں 9 ویں صدی کی البطانی کی کتاب کی مشابہ ڈائگرامز ہیں جو اس سے چار پانچ سو سال قبل لکھی گئی ۔پروفیسر جم خلیلی۔یونیورسٹی سرے ۔
بحوالہ
بی بی سی ڈاکیومینٹری ۔
http://www-history.mcs.st-and.ac.uk/Biographies/Al-Battani.html
ملاحظہ ہو اس یو ٹیوب کی بی بی سی ڈاکویمینٹری کا حصہ ۔ دو گھنٹے سے دو گھنٹے چند منٹس تک۔
تاہم آپ کی بات بالکل درست ہے کہ قران سائنس کی کتاب نہیں۔

Al-Battani is important in the development of science for a number of reasons, but one of these must be the large influence his work had on scientists such as Tycho Brahe, Kepler, Galileo and Copernicus. In [Copernicus. The author suggests that al-Battani obtained much more accurate results simply because his observations were made from a more southerly latitude. For al-Battani refraction had little effect on his meridian observations at the winter solstice because, at his more southerly site of ar-Raqqah, the sun was higher in the sky.

Al-Battani's Kitab al-Zij was translated into Latin as De motu stellarum (On the motion of the stars) by Plato of Tivoli. This appeared in 1116 while a printed edition of Plato of Tivoi's translation appeared in 1537 and then again in 1645. A Spanish translation was made in the 13th century and both it and Plato of Tivoli's Latin translation have survived.
 

سید ذیشان

محفلین
کوپر نکس ۔ کے پاس اسلامی فلکیاتی ماہرین کی کتب اور ڈائگرام موجود تھیں جس پر اس نے نتائج اخذ کیے تھے ۔پروفیسر جورج سلیبا ۔کولمبیایونی ورسٹی ۔
اس کی کتاب میں 9 ویں صدی کی البطانی کی کتاب کی مشابہ ڈائگرامز ہیں جو اس سے چار پانچ سو سال قبل لکھی گئی ۔پروفیسر جم خلیلی۔یونیورسٹی سرے ۔
بحوالہ
بی بی سی ڈاکیومینٹری ۔
http://www-history.mcs.st-and.ac.uk/Biographies/Al-Battani.html
ملاحظہ ہو اس یو ٹیوب کی بی بی سی ڈاکویمینٹری کا حصہ ۔ دو گھنٹے سے دو گھنٹے چند منٹس تک۔
تاہم آپ کی بات بالکل درست ہے کہ قران سائنس کی کتاب نہیں۔

Al-Battani is important in the development of science for a number of reasons, but one of these must be the large influence his work had on scientists such as Tycho Brahe, Kepler, Galileo and Copernicus. In [Copernicus. The author suggests that al-Battani obtained much more accurate results simply because his observations were made from a more southerly latitude. For al-Battani refraction had little effect on his meridian observations at the winter solstice because, at his more southerly site of ar-Raqqah, the sun was higher in the sky.

Al-Battani's Kitab al-Zij was translated into Latin as De motu stellarum (On the motion of the stars) by Plato of Tivoli. This appeared in 1116 while a printed edition of Plato of Tivoi's translation appeared in 1537 and then again in 1645. A Spanish translation was made in the 13th century and both it and Plato of Tivoli's Latin translation have survived.


کوپرنیکس نے البطانی، طوسی وغیرہ کی تحریروں اور زائچوں سے ضرور استفادہ کیا لیکن میرے مطالعے کے مطابق یہ سب ماہرین زمین کو ہی محور سمجھتے تھے۔ طوسی یا پھر کسی اور فلاسفر نے یہ کہا تھا کہ اگر سورج کو محور مان یا جائے تب بھی ان کیلکولیشنز پر فرق نہیں پڑے گا لیکن وہ زمین کو ہی محور مانتے تھے۔ اگر آپ کے علم میں کوئی مسلمان ماہر فلکیات ہو جو کوپرنکس سے پہلے سورج کو محور مانتے ہوں تو مجھے خوشی ہوگی اگر آپ یہاں اس کا حوالہ دے سکیں۔ :)
 
Top