سعودی عرب ٹڈی دل سے نجات حاصل کرنے کے قریب

ابن آدم نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 21, 2020

  1. ابن آدم

    ابن آدم محفلین

    مراسلے:
    676
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    سعودی عرب ٹڈی دل سے نجات حاصل کرنے کے قریب تر پہنچ گیا۔
    تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے کارروائی کرتے ہوئے کرونا وائرس کے بعد تباہی مچانے والی ٹڈی دل کا پچیس ہزار ایکٹر رقبے سے خاتمہ کردیا ہے، جبکہ صحرائی ٹڈی کے خاتمے کے لیے سعودی حکام کی جانب سے مزید چار قومی کارروائیاں جاری ہیں۔ سعودی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جون کے آخر تک وہ اس آفت سے مکمل نجات حاصل کر لیں گے۔

    سعودی ویب سائٹ کے مطابق وزارت ماحولیات، زراعت اور پانی کی ٹیمیں جن چار علاقوں میں ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے کارروائیاں کر رہی ہیں، ان میں ریاض، قصیم، باحہ اور نجران کے علاقے شامل ہیں، سعودی عرب کی وزارت ماحولیات نے بتایا کہ ٹڈی دل سعودی عرب کے 24.4 ہزار ہیکٹر کے علاقے پر پھیل گئی تھی، جس کے خاتمے کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ییں۔

    سعودی وزارت ماحولیات کے مطابق ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے جو ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں، ان کی مدد سے جون کے پہلے پندرہ روز میں حائل، الجوف اور حدود شمالیہ میں 3.7 ہزار ہیکٹر کے رقبے سے ٹڈی دل کا صفایا کر دیا گیا ہے، اس کے علاوہ ریاض، عسیر، باحہ اور نجران کے متعدد علاقوں کو بھی ٹڈی دل سے صاف کر دیا گیا ہے جبکہ ان کی افزائش کا عمل بھی روک دیا گیا ہے۔

    وزارت ماحولیات نے دعوی کیا ہے کہ جون کے آخر تک کو ختم کرتے ہوئے اس کی افزائش کو بھی روک دیا جائے گا لیکن اگر ٹڈی دال اپنی افزائش دوبارہ سے شروع کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا کسی ہمسایہ ملک سے سعودی عرب کی جانب رخ کرتا ہے تو اس پر بھی جولائی کے آخر تک قابو پا لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں فصلوں کو ٹڈی دل کے حملوں سے بچانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی سے کام لیا جارہا ہے جن میں ڈرونز کا استعمال بھی شامل ہے۔ وزارت نے ٹڈی دل کے انسداد کے لیے مختلف علاقوں کے سروے کے لیے جدید ترین ڈیجیٹل کیمروں سے لیس یونٹ فراہم کیا ہے۔

    سعودی عرب ٹڈی دل سے نجات حاصل کرنے کے قریب
    سعودی وزارت زراعت کی جانب سے ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے گراؤنڈ کنٹرول یونٹ کے ذریعے اسپرے کیا جاتا ہے تاہم اس سے قبل ان علاقوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جہاں ٹڈی دل کے حملے متوقع ہوتے ہیں۔

    سروے ٹیم جن ڈرونز سے کام لے رہی ہے ان میں جدید ترین اور انتہائی حساس کیمرے نصب کیے گئے ہیں جنہیں وائی فائی سسٹم کے ذریعے کنٹرول روم سے منسلک کیا جائے گا۔
     

اس صفحے کی تشہیر