ناصر کاظمی سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے - ناصر کاظمی

فاروقی

معطل
سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے
دل کی آواز سنا دی ہم نے ​

پہلے اک روزنِ در توڑا تھا
اب کے بنیاد ہلا دی ہم نے​

پھر سرِ صبح وہ قصہ چھیٹرا
دن کی قندیل بجھا دی ہم نے​

آتشِ غم کے شرارے چن کر
آگ زنداں میں لگا دی ہم نے ​

رہ گئے دستِ صبا کملا کر
پھول کو آگ پلا دی ہم نے ​

آتشِ گل ہو کہ ہو شعلۂِ ساز
جلنے والوں کو ہوا دی ہم نے​

کتنے ادوار کی گم گشتہ نوا
سینۂِ نَے میں چھپا دی ہم نے​

دمِ مہتاب فشاں سے ناصر
آج تو رات جگا دی ہم نے​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top