1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

سانحۂ کٹھوعہ:3 مجرم کو عمر قید، شواہد مٹانے کے جرم میں 3 پولیس اہلکار کو بھی5 سال کی سزا

افتخاررحمانی فاخر نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 10, 2019

  1. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    664
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Buzzed
    ہندوستانی عدلیہ کو سلام :
    عدالتی فیصلہ سے ثابت ہوا مذہبی تعصب سے وجہ ہوا یہ سانحہ
    سانحۂ کٹھوعہ: عدالتی فیصلہ سے متاثرہ کی ’چیختی روح‘ کو مل سکے گی تسکین
    3 مجرم کو عمر قید، شواہد مٹانے کے جرم میں 3 پولیس اہلکار کو بھی5 سال کی سزا
    پٹھان کوٹ10جون
    ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے کٹھوعہ گینگ ریپ اور قتل کیس میں پٹھان کوٹ سیشن کورٹ نے تین مجرم دیپک کھجوریا ، سا نجی رام اور پرویش کمار کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ان پر عدالت نے ایک ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ وہیں ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے اور شواہد مٹانے کے جرم میں تین دیگر مجرم پولیس اہلکاروں کو کورٹ نے 5-5 سال کی سزا سنائی ہے ۔ ان تینوں پر 50-50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ خون سے لت پت کپڑے کو ان پولیس اہلکاروں نے دھل کر عدلیہ میں پیش کیا تھا ۔اس سے قبل پیر کی صبح سماعت کے دوران عدالت نے 7 میں سے 6 ملزمان کو مجرم قرار دیا تھا۔ واضح ہو کہ اسپیشل کورٹ نے 6 قصورواروں میں سے 3 کو ریپ اور قتل کا مجرم پایا۔ باقی تین کو ثبوت مٹانے کا قصوروار مانا گیا۔ سانجی رام ، پرویش کمار، دیپک کھجوریا کو 302 (قتل)، 376 (ریپ)، 120 بی ( سازش)، 363 (اغوا) کے تحت مجرم قرار دیا گیا۔ کورٹ نے پولیس اہلکار آننددتہ، سریندر کمار، تلک راج کو 201 (ثبوتوں کو مٹانے) کے تحت مجرم گردانا ہے ۔ گزشتہ سال 10 جنوری کوخانہ بدوش بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والی 8 سال کی ایک بچی کو اغوا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 17 جنوری کو اس کی لاش جنگل سے مسخ شدہ حالت میں ملی تھی ۔اس سنسنی خیز کیس کے خلاف ملک اور بیرون ملک میں احتجاج مظاہرے ہوئے اور متاثرہ کے لئے انصاف کے لیے آواز اٹھائی گئی ۔اس واقعہ کے پس منظر میں جموں و کشمیر پولیس نے 15 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی تھی جس میں کئی چونکانے والے انکشافات ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کو جموں و کشمیر سے باہر بھیجنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد جموں سے تقریبا 100 کلو میٹر اور کٹھوعہ سے 30 کلومیٹر دور پٹھان کوٹ کی عدالت میں کیس کو بھیجا گیا۔ اس کیس میں کل آٹھ ملزم بنائے گئے تھے، جن میں سے ایک نابالغ تھا۔ ضلع اور سیشن جج نے آٹھ ملزمان میں سے سات کے خلاف آبروریزی اور قتل کے الزام طے کئے تھے۔ نوعمر ملزم کے خلاف مقدمہ ابھی شروع نہیں ہوا ہے اور اس کی عمر سے متعلق درخواست پر جموں و کشمیر ہائی کورٹ سماعت کرے گا۔واضح ہو کہ کیس درج نہ کئے جائیں ، اس کے لیے بی جے پی کے دو لیڈر نے ریلی بھی کی تھی ،ریلی میں ان مجرموں کی حمایت میں نکالی گئی تھی۔جس کے لیے جموں کے دونوں بی جے پی لیڈرکو اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دینا پڑا تھا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے کیس کو جموں و کشمیر سے ٹرانسفر کرنے کی ہدایت جانے کے بعد گزشتہ سال جون کے پہلے ہفتے میں مقدمہ شروع ہوا اور اس ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے اس معاملے کا ماسٹر مائنڈ گرام پردھان ملعون 65سالہ سانجی رام تھا ، جس نے اغوا،یرغمال بنانے اور عصمت دری پر اکسایا تھا




    سانحۂ کٹھوعہ: یہ ہیں 6 گنہگا ر
    جانیں! کس نے کیا کون سا جرم اور ان کو کون سی سزا ملی ہے
    پٹھان کوٹ / سرینگر
    ہندوستانی عدلیہ کو انصاف کا سلام !کہ محض 17ماہ کے اندرسانحۂ کٹھو عہ کے تحت8 سال کی معصوم کو 17 ماہ بعد انصاف مل گیا ہے۔ پٹھان کوٹ سیشن کورٹ نے 7 میں سے 6 ملزمان کو مجرم قرار دینے کے بعد پیر کو سزا کا اعلان کر دیا۔ کیس کے اہم سازشی سانجی رام ، پرویش کمار اور پولیس افسر دیپک کھجوریا کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہیں پولیس آفیسر سریندر شرما، ہیڈ کانسٹیبل تلک راج اور ایس آئی آنند دتہ کو پانچ پانچ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ گزشتہ سال 10 جنوری کو بکروال کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک بچی کو اغوا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 17 جنوری کو اس کی لاش جنگل سے مسخ شدہ حالت میں ملی تھی ۔اس سنسنی خیز کیس کے خلاف پورے ملک میں احتجاج مظاہرے ہوئے اور متاثرہ کے لئے انصاف کی آوازبلند کی گئی ۔ اس واقعہ کے تحت جموں و کشمیر پولیس نے 15 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی تھی جس میں کئی چونکانے والے انکشافات ہوئے تھے۔ چارج شیٹ کے مطابق، بکروال کمیونٹی کی اس معصوم بچی کو اغوا، ریپ اور قتل علاقہ سے اس اقلیتی برادری کو ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھی۔اوراس کا ماسٹر مائنڈ گاؤں کا پردھان سانجھی رام تھا۔سانحۂ کٹھوعہ کے قصورواروں کو ان دفعات کے تحت مجرم قرار دیا گیا ۔1سا نجھی رام :آر پی سی کی دفعہ 302 (قتل)، 376 (ریپ)، 120 بی ( سازش) کے تحت مجرم قرار دیئے جانے کے بعد کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ر سانا گاؤں میں دیوی استھان، مندر کاپجاری سانجھی رام اہم سازشی بتایا گیا ہے۔ ماسٹر مائنڈ سانجھی رام بکروال کمیونٹی کو ہٹانے کے لئے اس گھناؤنے فعل کو انجام دینا چاہتا تھا. اس کے لئے وہ اپنے نابالغ بھتیجے اور دیگر چھ افراد کو مسلسل اکسا رہا تھا۔2 :سب انسپکٹرآنند دتہ: انہوں نے سانجھی رام سے چار لاکھ روپے رشوت لے کر اہم ثبوت ضائع کرڈالے ، موصولہ اطلاع کے مطابق انہوں خون سے لت پت کپڑے کوکیس کو ہلکا کرنے کی غرض سے دھل کر پیش کیا تھا ۔:3 پرویش کمار: آرپی سی کی دفعہ 120 بی، 302 اور 376 کے تحت مجرم قرار دینے کے بعد پرویش کمار کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ بھی معاملے کی سازش میں شامل تھا پرویش نے بچی کے ساتھ ریپ کیا اور گلا دباکر اس نے بے رحمی سے قتل کیا۔ :4دیپک کھجوریا : آر پی سی کی 120 بی، 302، 34، 376D، 363، 201، 343 کے تحت مجرم قرار دیے جانے کے بعد کھجوریا کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ پولیس افسر دیپک کھجوریانے بچی کو نشہ آور ادویات دے کر ریپ کیا۔ اس کے بعد اس کا گلا گھو نٹ کر مار دیا :5سریندر ورما: آر پی سی کی دفعہ 201 کے تحت مجرم قرار دیے جانے کے بعد ورما کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جموں و کشمیر میں خصوصی پولیس افسر سریندر ورما نے بھی ثبوت ضائع کرنے کا جرم انجام دیا تھا ۔6 :تلک راج: آر پی سی کی دفعہ 201 کے تحت مجرم قرار دیے جانے کے بعد تلک راج کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ہیڈ کانسٹیبل تلک راج نے بھی ماسٹر مائنڈ سا نجھی رام سے رشوت لے کر اہم ثبوت ضائع کئے۔ سانحۂ کٹھوعہ میں ساتویں ملزم سا نجھی رام کے بیٹے وشال کو عدالت نے بری کر دیا ہے۔سانحۂ کٹھوعہ پر ایک نظر : 4 جنوری 2018: ماسٹر مائنڈ سانجھی رام نے خانہ بدوش بکروال کمیونٹی کو علاقہ سے ہٹانے کے لئے کھجوریا ا اور پرویش کمارکو سازش میں شامل ہونے کے لئے اپنے نابالغ بھتیجے کو تیار کیا۔ 7 جنوری 2018: دیپک کھجوریا اور اس کے دوست وکرم نے نشے کی گولیاں خریدیں۔ سا نحجھی رام نے اپنے بھتیجے کو کہا کہ وہ بچی کو اغوا کرے۔ 8 جنوری 2018: نابالغ بھتیجے کشور نے اپنے ایک دوست کو اس بارے میں معلومات دی۔ 9 جنوری 2018: اس نابالغ نے بھی نشہ آور ادویات خریدیں۔ 10 جنوری 2018: سازش کے تحت سانجھی رام کے نابالغ بھتیجے نے معصوم بچی کو گھوڑا ڈھونڈنے میں مدد کی بات کہی۔ وہ اس جنگل کی طرف لے گیا۔ بعد میں بچی فرار ہونے کی کوشش کی لیکن ملزمان نے اسے دھر دبوچا۔ اس کے بعد اسے نشہ آور ادویات دے کر اسے ایک دیوی استھان لے گئے، جہاںیرغمال بناکر اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ 11 جنوری 2018: سانجھی رام کے نابالغ بھتیجے کشور نے اپنے دوست کو کہا کہ اگر وہ الٹی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتا ہے تو آجائے۔ اہل خانہ نے بچی کی تلاش شروع کی۔ دیوی استھان بھی گئے لیکن وہاں انہیں سانجھی رام نے جھانسہ دے کرواپس کردیا۔دوپہر میں دیپک کھجوریا اور سانجھی رام کے نابالغ بھتیجے کشور نے معصوم بچی کو دوبارہ نشہ آور ادویات دیں۔ 12 جنوری 2018: معصوم کو دوبارہ نشہ آور ادویات دے کردرندگی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کی تحقیقات شروع۔دیپک کھجوریا خود انکوائری ٹیم میں شامل تھا جو سا نجھی رام کے گھر پہنچا۔ سانجھی رام نے اسے رشوت کی پیشکش کی۔ ہیڈ کانسٹیبل تلک راج نے کہا کہ وہ سب انسپکٹر آننددتہ کو رشوت دے۔ تلک راج نے 1.5 لاکھ روپے رشوت د یئے۔ 13 جنوری 2018: وشال ، سا نجھی رام اور نابالغ کشور نے دیوی استھان پر پوجا کی۔ اس کے بعد معصوم کو درندگی کا نشانہ بنایا اور اسے پھر نشہ آور ادویات دیں۔ اس کے بعد بچی کو مارنے کے لئے وہ ایک پلیا پر لے گئے۔ یہاں پولیس افسردیپک کھجوریا نے کہا کہ وہ کچھ دیر اور رک جائیں کیونکہ وہ پہلے ریپ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر مارد یا 15 جنوری 2018: ملزمان نے معصوم کی لاش کو جنگل میں پھینک دیا۔17 جنوری 2018: جنگل سے معصوم بچی کی لاش برآمدہوئی۔ اس واقعہ کے تحت حمایت میں بی جے پی کے دو لیڈر نے ریلی بھی کی تھی ۔ آج جب کہ عدالت عالیہ نے متاثرہ اوراہل خانہ کو انصاف فراہم کرکے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچادیا ہے تو یقینا اس سے کٹھوعہ سانحہ کے حامیوں کا منھ کالا ہوگیا ہوگا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر