سائنس کی دنیا - اردو میں ڈب کی ہوئی کچھ ویڈیوز

ساقی۔

محفلین
سائنس کی دنیا
وقت صرف نظروں کا دھوکا ہے.. (اردو میں)
آواز اختر علی شاھ
ترجمہ قدیر قریشی
پیشکش ۔۔ سائنس کی دنیا پراجیکٹس


1971 میں ایک تجربہ کیا گیا تھا جس میں سائنس دانوں نے دو ایٹمی گھڑیاں لیں جو کہ ایک ہی وقت دکھا رہی تھیں - ان میں سے ایک کو جہاز میں رکھ کر جہاز کو دیر تک اڑایا گیا - جہاز کے اترنے کے بعد اس گھڑی کے وقت کا زمین پر موجود گھڑی کے وقت سے موازنہ کیا گیا – آئن سٹائن کی پیش گوئی کے عین مطابق یہ دونوں گھڑیاں اب مختلف وقت دکھا رہی تھیں – ان دونوں میں فرق صرف ایک سیکنڈ کے کھربویں حصے کے برابر تھا لیکن یہ فرق اس بات کا ثبوت تھا کہ حرکت کرنے سے وقت کی رفتار متاثر ہوتی ہے
'آئن سٹائن کے نظریہِ اضافت کو بار بار پرکھا جاچکا ہے - یہ ہر دفعہ درست ثابت ہوا ہے اور فطرت کی بالکل صحیح عکاسی کرتا ہے'
'جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہم اس نظریے کی ایسی پیش گوئیاں ثابت کر سکتے ہیں جو انتہائی مبہم ہیں اور اب سے کچھ عرصہ پہلے تک ان کا مشاہدہ ناممکن تھا'
مکان (یعنی سپیس) اور زمان (یعنی وقت) میں غیر متوقع تعلق کی دریافت کے بعد آئن سٹائن نے یہ جان لیا کہ وقت اور سپیس کو علیحدہ علیحدہ سمجھنا غلط ہوگا – یہ دونوں ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہیں کہ انہیں ایک ہی نام زمان-و-مکان (یعنی سپیس-ٹائم) دیا جانا چاہیے
'آئن سٹائن نے زمان اور مکان کی تین جہتوں (یعنی سمتوں) کو ایک چہار جہتی (یعنی چار سمتوں والے) تصور زمان-و-مکان میں ضم کر دیا'
اس نئی دریافت کی وجہ سے آئن سٹائن نے ہمیں سائنس کا سب سے مشکل تصور دیا جس کی رو سے ماضی، حال، اور مستقبل کو الگ الگ محسوس کرنا محض نظر کا دھوکہ ہے – عام زندگی میں ہم وقت کو مسلسل بہتا ہوا محسوس کرتے ہیں لیکن وقت کو الگ الگ لمحوں کی تصویروں کا مجموعہ بھی تصور کیا جاسکتا ہے – اسی طرح جو کچھ بھی وقوع پذیر ہوتا ہے اسے ان تصویروں کے مجموعے کا ہماری آنکھوں کے سامنے سے ایک ایک کر کے گذرنا سمجھا جاسکتا ہے – اگر ہم ان تمام لمحات کی تصویروں کو ایک دوسرے کے ساتھ رکھ کر ان کی ایک لمبی سی لکیر بنائیں جس میں کائنات میں گذرے ہوئے ہر پل کی تصویر ہو تو ان تصویروں میں ہم ان تمام واقعات کو دیکھ پائیں گے جوکائنات میں اب تک وقوع پذیر ہوچکے ہیں اور ان سب کو بھی جو آئندہ وقوع پذیر ہوں گے – اس میں کائنات کی ہر جگہ اور ہر لمحے کی تصوہر ہوگی مثلاً تقریباً چودہ ارب سال پہلے کائنات کی پیدائش سے لے کر کہکشاؤں کے بننے، کہکشاؤں میں ستاروں کے بننے، ساڑھے چار ارب سال پہلے زمین کے بننے، ڈائنوسارز کے ارتقاء، اور کائنات میں موجودہ دور میں ہونے والے واقعات مثلاً میں اپنے دفتر میں کام کرتے ہوئے – اس طرح آئن سٹائن ماضی، حال، اور مستقبل کے بارے میں روائتی سوچ کو بدلنے میں کامیاب ہوگیا
اس بات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے آپ کو 'اب' (یعنی انگریزی کا لفظ now) جیسے ظاہراً بہت سادہ سے تصور کے بارے میں سوچنا ہوگا – میرے 'اب' کا تصور یہ ہے: گھڑی کے بارہ بجانا ، میری بلی کا کھڑکی سے ابھی ابھی چھلانگ لگانا، دور دراز ہونے والے واقعات مثلاً وینس شہر میں ابھی ابھی اڑتے ہوئے کبوتر، چاند پر ابھی ابھی گرتا ہوا شہابیہ، کائنات کے دور دراز حصوں میں پھٹتے ہوئے ستارے – یہ اور ایسے بہت سے واقعات جو کائنات کے کسی بھی حصے میں اس لمحے میں وقوع پذیر ہورہے ہیں میرے 'اب' کے سادہ سے تصور میں شامل ہیں – آپ انہیں چشمِ تصور میں زمان-و-مکان کے ایک ٹکڑے یا تصویر میں دیکھ سکتے ہیں جسے ہم 'اب' کا ٹکڑا کہہ سکتے ہیں – ظاہراً عقلِ سلیم ہمیں یہ بتلاتی ہے کہ مشاہدہ کرنے والے کائنات میں کہیں بھی ہوں وہ تمام اس بات پر متفق ہوں گے کہ 'اب' کا لمحہ کون سا ہے یعنی ہم اس بات پر متفق ہوں گے کہ یہ تمام کون سے 'اب' کے ٹکڑے میں ہیں – لیکن آئن سٹائن نے یہ دریافت کیا کہ اگر مشاہدہ کرنے والے تیز رفتار سے حرکت کر رہے ہوں تو وہ 'اب' کے لمحے پر اتفاق نہیں کر پائیں گے
اس تصور کو سمجھنے کے لیے زمان-و-مکان کو ایک سالم ڈبل روٹی ( یعنیbread ) کی مانند تصور کیجیے - آئن سٹائن نے دریافت کیا کہ جس طرح ڈبل روٹی کو چھری سے کاٹ کر توس کی شکل میں علیحدہ علیحدہ ٹکڑوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے اسی طرح زمان-و-مکان کو بھی مختلف طریقوں سے علیحدہ علیحدہ 'اب' کے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے – ایسے لوگ جو حرکت کر رہے ہوں گے ان کے زمان-و-مکان کے ٹکڑے فرق ہوں گے اور ان کے 'اب' کا تجربہ ساکن لوگوں کے 'اب' سے مختلف ہوگا – ان کے زمان-و-مکان کے ٹکڑے مختلف زاویوں پر ہوں گے –
"حرکت کرنے والے لوگوں کی چھری خمیدہ چلے گی اور وہ زماں-و-مکاں کو مختلف زاویوں سے کاٹیں گے جو میرے زمان-و-مکان کے ٹکڑوں کے متوازی نہیں ہوں گے"
اس حقیقت کے حیران کن نتائج کو سمجھنے کے لیے فرض کیجیے کہ ایک خلائی مخلوق ہم سے 10 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہے اور یہاں زمین پر ایک پیٹرول پمپ پر ایک آدمی موجود ہے – اگر یہ دونوں ایک دوسرے کے ریفرنس سے ساکن ہیں تو ان دونوں کا وقت ایک ہی رفتار سے گذر رہا ہوگا – یہ دونوں زمان-و-مکان کے ایک جیسے ٹکڑوں کو دیکھیں گے
لیکن آئیے دیکھیں کہ اگر یہ خلائی مخلوق اپنی بائیسکل پر بیٹھ کر ہم سے دور جانے لگے تب کیا ہوگا – چونکہ حرکت کرنے سے وقت کی رفتار کم ہوجاتی ہے اس لیے ان دونوں کی گھڑیاں اب مختلف رفتار سے چلیں گی اور چونکہ ان کی گھڑیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں لہٰذا ان کے 'اب' کے ٹکڑے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے – خلائی مخلوق کی چھری اب زمان-و-مکان کو ایک زاویے پر کاٹے گی اور ماضی کی طرف جائے گی – چونکہ خلائی مخلوق کی رفتار بہت کم ہے اس لیے اس کی چھری کا زاویہ بھی بہت کم ہوگا لیکن چونکہ خلائی مخلوق کا زمین سے فاصلہ بہت زیادہ ہے اس لیے زاویے کے اس معمولی فرق کا نتیجہ بھی بہت زیادہ وقت کے فرق کی صورت میں ہوگا – اس وجہ سے خلائی مخلوق کا 'اب' نہ صرف پٹرول پمپ والے شخص کے 'اب' سے مختلف ہوگا بلکہ وہ پٹرول پمپ والے شخص کا صرف ماضی ہی دیکھ پائے گا – محض چالیس سال پہلے کا ماضی نہیں جب پٹرول پمپ والا شخص ایک بچہ تھا بلکہ دو سو سال پہلے کا ماضی جسے ہم ماضی بعید سمجھتے ہیں جیسے (مشہور موسیقار) بیتھون اپنی پانچویں سیمفونی مکمل کرتے ہوئے
'بہت کم رفتار سے سفر کرتے ہوئے بھی ہمارے 'اب' اور خلائی مخلوق کے 'اب' میں بہت زیادہ فرق ہوسکتا ہے اگر ہم ایک دوسرے سے بہت زیادہ فاصلے پر ہیں '
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حرکت کی سمت تبدیل کرنے سے سے بھی دونوں کے 'اب' میں فرق آ سکتا ہے – ذرا غور کیجیے کہ اگر خلائی مخلوق زمین کی طرف حرکت کرنے لگے تو کیا ہوگا – اس صورت میں خلائی مخلوق کے 'اب' کا نیا ٹکڑا مستقبل کی طرف جھکا ہوگا – چنانچہ اب وہ خلائی مخلوق زمیں پر دو سو سال بعد ہونے والے واقعات مثلاً پٹرول پمپ پر بیٹھے شخص کی پڑپوتی کو پیرس سے نیو یارک ٹیلی پورٹ ہوتے دیکھ سکے گی
جب ہم یہ بات سمجھ لیں کے آپ کا 'اب' میرا ماضی بھی ہوسکتا ہے اور میرا مستقبل بھی اور آپ کا 'اب' اتنا ہی قابلِ اعتبار ہے جتنا کہ میرا 'اب' تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل تمام ایک حقیقت ہیں جو ہمیشه سے موجود ہیں
'اگر آپ طبیعات کے قوانین کو درست سمجھتے ہیں تو مستقبل اور ماضی بھی اتنے ہی حقیقی ہیں جتنا کہ حال ہے'
'ماضی کہیں گیا نہیں ہے اور مستقبل ابھی سے موجود ہے – ماضی، حال، اور مستقبل سب ایک ہی طریقے سے موجود ہیں'
جس طرح ہم مکان (یعنی سپیس) کے بارے میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ حقیقت میں موجود ہے اسی طرح تمام کا تمام وقت بھی حقیقت میں بیک وقت موجود ہے – واقعات جو وقوع پذیر ہوچکے ہیں یا جو آئندہ وقوع پذیر ہوں گے وہ تمام کے تمام اپنا وجود رکھتے ہیں – لیونارڈو ڈاونچی مونا لیزا بناتا ہوا، امریکہ کے فرمانِ آزادی پر دستخط، سکول میں آپ کا پہلا دن، اور وہ واقعات جو ہمارے نکتہِ نظر سے ابھی وقوع پذیر نہیں ہوئے جیسے مریخ پر پہلے انسان کا اترنا وغیرہ یہ تمام حقیقی اور موجود ہیں
اس چونکا دینے والے نظریے سے آئن سٹائن نے زمان و مکان کے بارے میں ہمارے پرانے تصورات کو چکناچور کردیا – اس کا کہنا تھا کہ ماضی، حال، اور مستقبل میں فرق صرف نظر کا دھوکا ہے اس کے سوا کچھ نہیں

ویڈیو چل نہیں رہی ہے ۔
کیا ڈیلیٹ ہو چکی ہے؟یہ میسج آ رہا ہے ۔

Video Unavailable‎
‎Sorry, this video could not be played.‎

Video Unavailable‎
‎Sorry, this video could not be played.‎
 

زہیر عبّاس

محفلین
اس سال فروری میں 29 دن کیوں ہیں؟؟
لیپ ایئر کیا ہے ( اردو میں)
ترجمہ : محمد بلال اعظم
آواز : اِندر کشن
ایڈٹنگ: اختر علی شاھ
پیشکش : سائنس کی دنیا پراجیکٹس



لیپ یا لوند کا سال کیا ہے؟ آئیے! کچھ بنیادی باتوں سے آغاز کرتے ہیں کہ آخر لفظ "سال" سے کیا مراد ہے؟ ایک بچے کے لئے یقیناً یہ اگلی سالگرہ کی تقریب تک کا وقفہ ہے۔ یا ایک بہتر تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ یہ وہ عرصہ ہے، جو زمین کو سورج کے گرد ایک
چکر مکمل کرنے میں لگتا ہے۔

ایک شمسی سال 365 دن کا ہوتا ہے یا شاید ایسا نہیں ہے۔ دراصل زمین کو سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں 365 دن 48 منٹ اور 46 سیکنڈ لگتے ہیں ۔ یہ اضافی گھنٹے چار سال بعد ایک دن کی صورت میں کیلنڈر میں شامل کر لئے جاتے ہیں اور چوتھا سال 365 کی بجائے 366 دن کا ہوتا ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک شمسی سال مکمل 365 دن کا نہیں ہے۔ حتیٰ کہ چار سال بعد ایک دن شامل کرنے کے با وجود مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ 11منٹ اور 14 سیکنڈ پھر بھی کم رہ جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم اس اضافی وقت سے ہر چار سو سال بعد کچھ مفید کر سکتے ہیں۔یعنی ہر چار سو سال بعد 3 دنوں کا اضافہ یہ مسئلہ حل کر دے گا۔ لہٰذا نیا اصول یہ بنایا گیا کہ ہر سینچری سال صرف اسی صورت میں لیپ کا سال ہو گا اگر وہ 4 سے پورا پورا تقسیم ہوتا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 2000 تو لیپ کا سال ہو گا لیکن 2100 لیپ کا سال نہیں ہو گا۔

یہ خیال سب سے پہلے اہلِ مصر کے ذہن میں آیا کہ ہر چال سال بعد شمسی سال میں ایک دن کا اصافی کیا جائے۔ بعد میں اہلِ روم نے اسے مزید بہتر کیا۔ 1582 میں پوپ گریگوری XIII نے 45 قبل از مسیح میں جولیس سیزر کے وضع کردہ جولین کیلنڈر کو مزید بہتر بنایا۔ پوپ گریگوری کے مطابق کیلنڈر میں سے 10 دن منہا کئے جانے چاہیے۔ اس کا موقف تھا کہ 4 اکتوبر کے 15 اکتوبر آنی چاہیے لیکن یہ ان لوگوں کے ہرگز قابلِ قبول نہیں تھا، جن کی سالگرہ 4 سے 15 اکتوبر کے درمیان آتی تھی۔

جولیس سیزر سے پہلے ابتدائی رومن کیلنڈر کا آغاز مارچ سے ہوتا تھا۔ اور دسمبر پہ اختتام پذیر ہونے والے شمسی سال میں ہر مہینہ 30 دن کا سمجھا جاتا تھا۔ شاید وہ لوگ سردیوں کے مہینے نہیں گنتے تھے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دو اضافی مہینے، جنوری اور فروری، 715 سے 673 قبل از میسح کیلنڈر میں شامل کئے گئے۔ اس ترتیب نے فروری کو سال کا آخری مہینہ بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اضافی دن فروری کے مہینے میں شامل کیا جاتا ہے۔

بعد میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کیلنڈر کا آغاز جنوری سے کیا جائے گا۔ اس کا نام قدیم روم کے دروازوں اور راستوں کے دیوتا ”جینس“ یا ”جانوس“ (Janus) کے نام پر رکھا گیا تھا۔وہ دیوتا دروازوں اور راستوں کی نگہبانی کرتا تھا۔
 

تجمل حسین

محفلین
فیسبک پر کافی نہیں؟
نہیں۔ کیونکہ فیس بک کی ایمبڈ ویڈیوز اور تصاویر کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کب کام کرنا چھوڑ دیں۔ جبکہ یوٹیوب کے روابط مستقل ہوتے ہیں۔ :)
اس سال فروری میں 29 دن کیوں ہیں؟؟
لیپ ایئر کیا ہے ( اردو میں)
ترجمہ : محمد بلال اعظم
آواز : اِندر کشن
ایڈٹنگ: اختر علی شاھ
پیشکش : سائنس کی دنیا پراجیکٹس
یہ ہمارے اردو محفل والے محمد بلال اعظم صاحب ہیں؟ :)
 

زہیر عبّاس

محفلین
ترجمہ: قدیر قریشی
آواز: زرتاشہ قریشی
ایڈٹنگ: اختر علی شاھ
پیشکش: سائنس کی دنیا پراجیکٹس



ہوائی جہاز کیسے اڑتے ہیں

ہوائی جہاز کے اڑانے کے لیے اس کے پر اوپر کی جانب ایک قوت لگاتے ہیں جسے اٹھان یا لفٹ کہا جاتا ہے – اس کے علاوہ جہاز کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ بوقتِ ضرورت اپنی سمت تبدیل کرسکے – جہاز کا انجن جہاز کو آگے کی طرف دھکیلتا ہے جسے thrust کہا جاتا ہے – یہ thrust ہوا کی رگڑ یعنی drag کے خلاف کام کرتی ہے –

t-0.31 جہازوں کے برعکس پرندے اپنے پر ہوا کے خلاف پھڑپھڑانے سے thrust پیدا کرتے ہیں – لیکن پرندے اور جہاز ایک ہی طرح سے لفٹ پیدا کرتے اور اپنی سمت کو تبدیل کرتے ہیں - اگر ہوا پروں پر سے زیادہ تیزی سے گذرے تو زیادہ لفٹ پیدا ہوتی ہے

t-0.56 فرض کیجیے کہ پروں کے ارد گرد ہوا مکمل طور پر ساکن ہے – اس صورت میں پر کے اوپر اور پر کے نیچے ہوا کا دباؤ برابر ہوگا اور جہاز پر کوئی قوت عمل نہیں کرے گی – اب فرض کیجیے کہ یہ پر ہوا کی نسبت حرکت میں ہے – جب ہوا پر کے ارد گرد سے گزرتی ہے تو پر کی شکل ایسی ہوتی ہے کہ اس کے اوپر سے ہوا اس کے نیچے سے گزرنے والی ہوا کی نسبت زیادہ تیزی سے گزرتی ہے – اس صورت میں پر کے نیچے گزرنے والی ہوا کا دباؤ پر کے اوپر گزرنے والی ہوا کے دباؤ سے زیادہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پر اوپر کی سمت ایک قوت لگتی محسوس کرتا ہے –

t-1:49 یہ لفٹ کے پیدا ہونے کی دو وجوہات میں سے ایک ہے – اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر ہم پروں کا رخ اوپر کی طرف کر دیں تو ہوا پر کی نچلی سطح سے ٹکرا کر جہاز پر اوپر کی سمت قوت پیدا کرے گی – جب ہوا کسی سطح سے ٹکراتی ہے تو اس جسم پر قوت لگاتی ہے - اس اصول کو استعمال کرتے ہوئے پائلٹ ایسی سطحیں استعمال کرکے جو جہاز کی نسبت حرکت کر سکیں جہاز کی سمت بھی تبدیل کرسکتا ہے – ان حرکت کرتی سطحوں کو rudder ، elevator، اور aileron کہا جاتا ہے

t-2:43 جہاز کا rudder جہاز کے yaw کو کنٹرول کرتا ہے جس سے جہاز دائیں یا بائیں طرف مڑ سکتا ہے – elevators جہاز کی pitch کو کنٹرول کرتے ہیں جس سے جہاز کا رخ اوپر نیچے کیا جاسکتا ہے – ailerons سے جہاز کے roll کو کنٹرول کیا جاتا ہے جس سے جہاز دائیں بائیں پلٹ سکتا ہے – جب ایک طرف کا aileron اوپر کی طرف مڑتا ہے اس وقت دوسری طرف کا aileron نیچے کی طرف مڑتا ہے – اس طرح جب جہاز roll کرتا ہے اس وقت جہاز کے پروں سے پیدا ہونے والی لفٹ جہاز کی سمت کو تبدیل کر دیتی ہے –

t-3:37 لفٹ کی قوت کا ایک حصہ اس وقت دائیں یا بائیں سمت میں کام کرتا ہے جس کی وجہ سے جہاز مڑ سکتا ہے اور اپنی سمت تبدیل کرسکتا ہے – لیکن جب لفٹ کی سمت تبدیل ہوتی ہے تو لفٹ کی قوت کا وہ حصہ کم ہوجاتا ہے جو عمودی سمت میں لفٹ پیدا کرتا ہے– جہاز کے مڑنے کے دوران لفٹ کی اس کمی کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کے لیے جہاز کے elevators کے ذریعے اس کی pitch کنٹرول کی جاتی ہے – جہاز کے elevator کو استعمال کرتے ہوئے جہاز کی pitch کو تبدیل کرنے سے پائلٹ جہاز کی لفٹ کی قوت کو تبدیل کر سکتا ہے

t-4:36 جہاز کی pitch کو تبدیل کرنے سے جہاز کے پروں اور ہوا کے درمیان کا زاویہ تبدیل ہوجاتا ہے – جہاز کے پروں اور ہوا کے رخ کے درمیان کا زاویہ جہاز کی لفٹ کی مقدار کا تعین کرتا ہے – اگر لفٹ کی قوت کششِ ثقل کی قوت سے زیادہ ہو تو جہاز زیادہ اونچائی کی طرف جانے لگتا ہے – اس کے برعکس اگر لفٹ کی قوت کششِ ثقل کی قوت سے کم ہو تو جہاز کی اونچائی کم ہونے لگتی ہے – جب ہم ہوا کے رخ اور پروں کے درمیان زاویے کو بڑھا دیتے ہیں تو لفٹ بھی بڑھ جاتی ہے

t-5:30 لفٹ میں یہ اضافہ ایک خاص زاویے تک ہی ممکن ہوتا ہے اور اگر ہوا کے رخ اور پر کا زاویہ اس حد سے زیادہ بڑھ جائے تو لفٹ کم ہونا شروع ہوجاتی ہے – اس حالت کو stall کہا جاتا ہے اور اس حالت میں جہاز کی اونچائی کم ہونے لگتی ہے – stall سے نکلنے کے لیے جہاز کے اگلے حصے کو نیچے کی طرف کرنا چاہیے تاکہ ہوا کے رخ اور جہاز کے پروں کے درمیان کا زاویہ کم ہوسکے – پروں کے اوپر سے گزرنے والی ہوا کی مقدار جہاز کی رفتار بدلنے سے کم یا زیادہ کی جاسکتی ہے – جہاز کی رفتار جتنی زیادہ ہوگی اتنی ہی زیادہ لفٹ پیدا ہوگی -

t-6:25 جب جہاز کے اترنے کا وقت نزدیک ہو تو جہاز کی رفتار میں نمایاں کمی کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے انجن کی thrust کو کم کرنا ہوتا ہے – اس سے جہاز کی لفٹ کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور جہاز کی اونچائی کم ہونے لگتی ہے – جب جہاز اترنے کے نزدیک ہو تو ممکن ہے کہ اس کی رفتار اتنی سست ہو کہ ضروری لفٹ نہ پیدا ہوسکے – اس موقع پر جہاز کی لفٹ بڑھانے کے لیے پروں کے flaps کھول دیے جاتے ہیں – ان flaps کے کھلنے سے ہوا کی رگڑ میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے جہاز کی رفتار تیزی سے کم ہونے لگتی ہے

t-7:15 ہوا کے مخالف رخ میں جہاز کا لینڈ کرنا آسان ہوتا ہے تاکہ جہاز جلد رک سکے اور اسے زیادہ رن وے کی ضرورت نہ پڑے – جہاز اڑاتے وقت بھی ہوا کے مخالف رخ اڑنا بہتر ہوتا ہے تاکہ پروں پر سے گزرنے والی ہوا کی مقدار زیادہ ہو اور زیادہ لفٹ پیدا ہو تاکہ جہاز کو اڑنے کے لیے بہت لمبی رن وے کی ضرورت نہ پڑے – ہوا میں اڑنے کے بعد زمین کی نسبت جہاز کی رفتار ناپنے کے لیے نہ صرف جہاز کی رفتار ارد گرد موجود ہوا کی نسبت سے ناپی جاتی ہے بلکہ ہوا کی زمین کی نسبت رفتار بھی ناپی جاتی ہے​
 
Top