زندگی اپنی

محمد بلال اعظم

لائبریرین
آج تو نثری نظم کا دل کر رہا ہے۔ ویسے فیس بک کی نثری نظم کی بحث نے کیا خوب موڈ آف کیا ہے۔
پڑھیے اور اصلاح کیجیے۔

زندگی اپنی
جیسے ٹوٹے ہوئے پیمانِ وفا​
جیسے بکھرے ہوئے گیسو​
جیسے لہرائے تیرا آنچل​
جیسے ہو خونِ آرزو​
یہ ہے زندگی اپنی​
شب و روز کہانی اپنی​
اک دنیا دشمنِ جاں ہے​
اک دنیا دیوانی اپنی​
 

الف عین

لائبریرین
لیکن پہلا مصرع تو خود بحر میں ہے۔ فاعلاتن فعلاتن فعلن
جو فعلن فعلن کی بہ نسبت زیادہ مترنم بحر ہے۔ اس میں درمیان میں کتنی ہی بار فعلاتن لایا جا سکتا ہے۔
 
Top