زمیں دیکھ کر آسماں دیکھتے ہیں غزل نمبر 59 شاعر امین شارؔق

امین شارق

محفلین
محترم الف عین صاحب
محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب

زمیں دیکھ کر آسماں دیکھتے ہیں
تمہیں دیکھتے ہیں جہاں دیکھتے ہیں

خوشی میں بھی غم کا سماں دیکھتے ہیں
بہاروں میں رقصِ خزاں دیکھتے ہیں

برستی ہوئی بدلیاں دیکھتے ہیں
نہ بہتی ہوئی ندیاں دیکھتے ہیں

سمجھتے ہیں وہ جو عیاں دیکھتے ہیں
کہاں لوگ دردِ نہاں دیکھتے ہیں

اسی پر ہی بارِ گراں دیکھتے ہیں
جہاں میں جسے ناتواں دیکھتے ہیں

دکھاوے کی جو نیکیاں دیکھتے ہیں
وہ پاسِ خدا رائیگاں دیکھتے ہیں

تم ہی آس ہو اک ہماری جہاں میں
تمہارے سوا ہم کہاں دیکھتے ہیں

عمل ہیں اصل میں عذابوں کے قابل
تصور میں باغِ جناں دیکھتے ہیں

بچانے کی جب سوچے ہم آشیاں کو
کڑکتی ہوئی بجلیاں دیکھتے ہیں

فلک سے ہے رحمت برسنے ہی والی
مصیبت میں ہم آشیاں دیکھتے ہیں

کڑے وقت میں نہ کوئی کام آیا
تمہاری طرف مہرباں دیکھتے ہیں

تیرے روٹھ جانے سے بادِ بہاراں
اجڑتا ہوا گلستاں دیکھتے ہیں

ہمیں رشک آتا ہے لیلیٰ پہ اکثر
جو مجنوں کی ہم داستاں دیکھتے ہیں

تیرا نام ہم نے بھلایا نہیں ہے
دل و درد کے درمیاں دیکھتے ہیں

تیری یاد جب بھی رلاتی ہے دل کو
تو آنکھوں میں آبِ رواں دیکھتے ہیں

یہ مظلوم چہرے یہ بندے خدا کے
جہاں آسرا ہو وہاں دیکھتے ہیں

عجب دور ہے جھوٹ سچ میں چھپا ہے
لٹیروں کو ہم پاسباں دیکھتے ہیں

کوئی نام لے چاند کا تو تمہیں ہی
خدا کی قسم بے گماں دیکھتے ہیں

جہاں سے ملے لو وہاں سے لگاؤ
وہ سب کیوں وہاں اور یہاں دیکھتے ہیں

مسلمان ہونے پہ ان کو فخر ہے
جو روزے نہ حکمِ اذان دیکھتے ہیں

فلک کی طرح ہے میرا قلب شارؔق
دھواں سا دھواں سا دھواں دیکھتے ہیں
 

الف عین

لائبریرین
یہ غزل فعولن چار بار میں تقطیع ہو رہی ہے جس کےمطابق کچھ الفاظ غلط تلفظ کے ساتھ تقطیع ہو رہے ہیں۔
فعولن میں مکمل 'میرا' یا 'تیرا ' تقطیع میں نہیں آتا۔ انہیں ترا، مرا لکھنا ضروری ہے جب کہ یہ فعو ہو، ہاں عولن میں آ سکتا یے۔ جیسے 'ہے مانند افلاک یہ قلب میرا'
نا تاکیدی لیا جا سکتا ہے شعر میں لیکن نفی کے معنوں میں نہیں۔
 

امین شارق

محفلین
یہ غزل فعولن چار بار میں تقطیع ہو رہی ہے جس کےمطابق کچھ الفاظ غلط تلفظ کے ساتھ تقطیع ہو رہے ہیں۔
فعولن میں مکمل 'میرا' یا 'تیرا ' تقطیع میں نہیں آتا۔ انہیں ترا، مرا لکھنا ضروری ہے جب کہ یہ فعو ہو، ہاں عولن میں آ سکتا یے۔ جیسے 'ہے مانند افلاک یہ قلب میرا'
نا تاکیدی لیا جا سکتا ہے شعر میں لیکن نفی کے معنوں میں نہیں۔
بہت شکریہ سر آپ کی قیمتی رائے کے لئے کیا یہ اس طرح کہ سکتے ہیں
ہے مانند افلاک یہ قلب شارؔق
دھواں سا دھواں سا دھواں دیکھتے ہیں
 
Top