زخم تازہ ہوا ہے مرہم کا

معظم علی کاظمی نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 2, 2018

  1. معظم علی کاظمی

    معظم علی کاظمی محفلین

    مراسلے:
    148
    کس کا دل زیرِ خاک پھر چمکا
    زخم تازہ ہوا ہے مرہم کا*
    کب تلک رہیے بس سخن ور ہی
    وہ تو پردہ تھا ذوقِ ماتم کا
    کونسے طرز کی خوشامد ہے
    آنکھ خاموش کر کے دل چمکا
    کچھ نہیں عنقا ما سوائے خیال
    میں مسافر ہوں لاکھ عالم کا
    تا قیامت بنے تو کس سے بنے
    روح بیدل کی دل معظم کا

    *زخم تازہ ہوئے تو محاورہ ہے لیکن اس کا نہیں پتہ۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. منیب الف

    منیب الف محفلین

    مراسلے:
    453
    جھنڈا:
    Pakistan
    عمدہ اشعار ہیں، معظم بھائی!
    البتہ آپ کا بیان (یا شاید سوچ) پیچیدہ ہے۔
    آپ بیدل سے متاثر ہیں؟
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 2, 2018
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر