ریئل اسٹیٹ: پاکستانیو خواب لے لو خواب

جاسم محمد نے 'معیشت و تجارت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 2, 2020

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    20,507
    ریئل اسٹیٹ: پاکستانیو خواب لے لو خواب
    روٹی مانگنے سے مل جائے گی، کپڑا کسی کی اترن پہنا جاسکتا ہے لیکن ہر ماہ مالک مکان کو کرایہ ادا کرنا کسی بےروزگار کے بس میں نہیں۔
    عفت حسن رضوی مصنفہ، صحافی @IffatHasanRizvi
    جمعرات 30 اپریل 2020 6:15

    [​IMG]
    سپریم کورٹ میں رپورٹنگ کے دوران بحریہ ٹاون، ڈی ایچ اے اور فضائیہ ہاؤسنگ کے پراجیکٹس میں گھپلوں کے مقدمات تواتر سے سنے (اے ایف پی)

    ’یہ ہم پاکستانیوں کو پلاٹ خریدنے کا کیا شوق ہے؟‘

    دو سال پہلے لندن جانا ہوا تو ہمارے ایک عزیز نوید جعفری سے ملاقات رہی۔ سیاسی موضوعات تو زیر بحث آتے ہی تھے پر یہ ایک سوال انہوں نے کئی بار دہرایا۔

    کسی بھی عام پاکستانی کی طرح میں نے بھی وہی عمومی سا جواب دیا کہ پلاٹ میں پیسے لگانا ایک مڈل کلاس فرد کے لیے سب سے محفوظ سرمایہ کاری ہے۔ پلاٹ خریدنا آسان ہے اور زمین کی قیمت بڑھے تو بیٹھے بٹھائے ملنے والی لاٹری ہے۔

    عمر بھر کی جمع پونجی کو بینک کے قرضے کا تڑکا لگا کر پلاٹ کی فائل خریدی جاتی ہے جس پر خوابوں کے تاج محل تعمیر ہوتے ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹی والے فائل کے ساتھ جو مجوزہ نقشہ دیتے ہیں اسے دیکھ کر اندازے لگائے جاتے ہیں کہ یہاں باونڈری ہوگی، ڈرائنگ روم کے ساتھ اوپن کچن اور وہ وہاں سیدھے ہاتھ کی طرف ویسٹ اوپن بیڈ روم بناوں گا۔

    ایک زمین جو ابھی بلڈر نے خریدی بھی نہیں اس کی قیمت اشتہارات کے ذریعے سہانے سپنے دکھا کر بٹور لی جاتی ہے۔ اس کے بعد اوپر اللہ اور نیچے آپ کی دعا۔ قیمت کے عوض جو فائل ملتی ہے وہ وعدوں اور نقشے بازی سے پُر ہوتی ہے۔

    پلاٹ یا پھر اس کی فائل کی قیمت بھی ایک سراب ہے۔ ان پراپرٹیز کی قسمت کا فیصلہ اسٹیٹ ایجنٹس اور بلڈرز کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ مارکیٹ ویلیو کا اتار چڑھاو یہ مافیا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ حکومتی رٹ سے کوسوں دور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں قیمت کس بنیاد پر طے ہوتی ہے؟ اس کا جواز کیا ہے؟ سرکاری سطح پر کسی کو علم نہیں۔

    کبھی سوچا کہ پلاٹ کیا واقعی لاٹری ہوتے ہیں؟ خوابوں کے بیوپاری کہاں سے کہاں پہنچ گئے لیکن کتنے ہی پلاٹ ہیں جو فائلوں سے باہر نہیں نکل پائے۔ صرف پلاٹ ہی کیوں اس فہرست میں ہزاروں فلیٹس اور بنے بنائے مکانوں کے وعدے بھی شامل کر لیں۔

    [​IMG]

    سپریم کورٹ میں رپورٹنگ کے دوران بحریہ ٹاون، ڈی ایچ اے اور فضائیہ ہاؤسنگ کے پراجیکٹس میں گھپلوں کے مقدمات تواتر سے سنے۔ تعمیرات کے شعبے میں گھپلے اگر پرائیویٹ ادارے اور بلڈرز مافیا کریں تو بات سمجھ بھی آتی ہے مگر بڑے بڑے ناموں والے پراجیکٹس کے پیچھے جب افواج پاکستان کا لائق صد احترام نام کار فرما نظر آئے تو سوال بنیادی انسانی حقوق کا نہیں سیاسی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔

    ہر مقدمے کے پیچھے سو دو سو نہیں ہزاروں متاثرین سوالی نظروں سے کبھی حکومت تو کبھی عدالت کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ فضائیہ ہاؤسنگ کے متاثرین 6000 ہیں تو ڈی ایچ اے ویلی کے لگ بھگ 17000۔ یہ متاثرین پاکستان میں رہائش پذیر بھی ہیں اور اوور سیز بھی۔ ان متاثرین کے واٹس ایپ گروپ ہیں اور فیس بک پر بھی متاثرین ایک دوسرے کو دلاسے دیتے نظر آتے ہیں۔

    کبھی یہ مقدمات عدالتی آرڈر کے ساتھ اور کبھی بلڈرز یا حکومت کی یقین دہانی کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں لیکن پلاٹ کا خواب ایک فائل کی شکل میں بغل میں ہی دبا رہ جاتا ہے۔ کراچی کی ہاکس بے سکیم یا تیسر ٹاؤن کے ناکام و نا پید منصوبوں سے گنتی شروع کریں اور گنتے گنتے اسلام آباد کی متنازعہ سوسائٹیز تک آجائیں۔ عوام کو چونا لگانے کی یہ واردات ہزاروں بار دہرائی گئی۔

    برسہا برس سے جاری رئیل اسٹیٹ کے اس گورکھ دھندے میں جب عوام کا سرمایہ لُٹ رہا ہوتا ہے تو حکومت خاموش تماشائی بنی کھڑی رہتی ہے۔ کھلم کھلا اشتہار بازی چلتی ہے حکومت منہ سی کر ٹکر ٹکر دیکھتی رہتی ہے۔

    جیسے ہی پراجیکٹ آگے بڑھنے لگتے ہیں اور عوام قسطوں کی شکل میں بڑی رقوم ان بلڈرز کو تھما چکے ہوتے ہیں تب حکومت منہ پھلا کر کسی ناراض پھپو کی طرح سامنے آ جاتی ہے کہ چونکہ اس منصوبے کے بارے میں ہم سے تو کسی نے پوچھا ہی نہیں اس لیے یہ پراجیکٹ غیرقانونی ہے۔

    حکومتی ادارے تو غیرقانونی کی تختی ٹھونک کر اپنی راہ لگ جاتے ہیں مگر وہ جو پیچھے ہزاروں متاثرین ہیں وہ تیرے میرے سے اپیلیں کرتے کرتے تھک کر اونے پونے پلاٹ کی فائل بیچ دیتے ہیں۔ اگر تو واقعی پلاٹ کا قبضہ مل جائے تو اگلی مشکل یہ ہوتی ہے کہ ایسے متنازعہ علاقوں کی ملکیت پر نہ گیس کا کنکشن ہوتا ہے نہ ہی بینکوں سے قرض مل سکتا ہے۔

    مثال کے طور پر وزیر اعظم کے قریبی اور پنجاب کے صوبائی وزیر علیم خان کے منصوبے پارک ویو سٹی کو ہی لے لیں۔ اسلام آباد کے علاقے ملوٹ میں زیرتعمیر پارک ویو کے منصوبہ سازوں کا دعویٰ ہے کہ یہ پراجیکٹ سی ڈی اے سے منظور شدہ ہے۔ بالکل درست۔ مگر سی ڈی اے کا منظور شدہ نقشہ کچھ اور ہے، پارک ویو کے دفتر جائیں تو نقشہ مختلف اور رقبے میں بڑا ہے۔گوگل پر دونوں نقشے موجود ہیں بلکہ گوگل میپ تو یہ بھی بتا دے گا کہ جہاں مبینہ طور پر اضافی پلاٹنگ کی جا رہی ہے وہ نیشنل پارک و بوٹانیکل گارڈن ہے۔ اگر تو یہ قانونی ہے تو سی ڈی اے نیا نقشہ جاری کرے یا پھر عوام کو بتائے کہ یہ نقشے بازی کیا ہے؟

    ایسے ہی تاج ریزی ڈنشیا نامی پراجیکٹ کے بارے میں سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اول تو یہ منصوبہ اسلام آباد کی حدود میں وجود ہی نہیں رکھتا اور جو تھوڑا بہت اسلام آباد کے علاقے میں آتا ہے وہ بھی غیرقانونی ہے۔ اسی تاج ریزی ڈنشیا کا یہ بڑا دفتر اسلام آباد کے مشہور سینٹورس مال میں ہے جہاں اسی سوسائٹی کی مشہوری کی جاتی ہے۔ سو اگر سی ڈی اے کا الزام درست ہے تو کوئی کارروائی کیوں نہ کی گئی؟ حکومت کو کس کل کا انتظار ہے؟

    اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 13 میں اونچے اونچے رہائشی پلازوں کی تعمیرات تیزی سے جاری ہے۔ اکا دکا منصوبوں میں تو رہائشی بھی آگئے۔ مگر سرکاری کاغذ کہتے ہیں کہ یہ سب کا سب غیرقانونی ہے، نہ لیں۔

    یہ تو صرف مرکز کی مثالیں دی ہیں، کراچی تا پشاور اور پشاور تا گوادر ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے نام پر جو بھی لوٹ مار جاری ہے اس پر حکومتی ادارے عوام کو کسی گمنام سی ویب سائٹ پر یہ بتا کر نچیت ہو جاتے ہیں کہ بھائی آپ کی جیب پہ ڈاکہ پڑنے والا ہے بچ سکو تو بچ کر دکھاؤ۔

    ان حکومتی پبلک نوٹسز میں بین السطور کہا جاتا ہے کہ ہم میں اتنی ہمت نہیں کہ مافیا پہ ہاتھ ڈالیں اور عوام کا پیسہ چوری ہونے سے بچائیں۔ اس لیے عوام خود ہی آنکھیں کھلی رکھے۔ خریدنے والا عام مڈل کلاس آدمی وہ تحقیق کرے جو اب تک سپریم کورٹ بھی نہ کراسکی۔ پھر اگر پھنس گئے تو ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔

    اس قانونی اور غیرقانونی کی بحث سے پرے جاتے جاتے ایک سوال پوچھ رہی ہوں جواب آپ خود ٹٹولیں۔ اگر پاکستان میں تعمیرات کے شعبے سے بحریہ، ڈی ایچ اے، پارک ویو، تاج ریزی ڈنشیا، ٹاپ سٹی، باٹم سٹی اور ایکس وائی زیڈ یا ان ہی جیسے ہزاروں منصوبوں کو نکال دیں تو بتائیں بچتا کیا ہے؟ حکومت کی وزارت ہاؤسنگ کس مرض کی دوا بنی؟ یہ برسوں سے قومی خزانے پہ چلنے والے ادارے کے ڈی اے، سی ڈی اے، ایل ڈی اے کم آمدنی والوں کے لیے کتنے کامیاب رہائشی منصوبے بنا چکے؟ اور وہ سستا گھر سکیم کے تحت جو خان صاحب کی حکومت نے ڈھائی ڈھائی سو روپے کے فارم پُر کروائے تھے ان کا کیا ہوا؟

    قارئین اسی سلسے میں کچھ تجاویز انشا اللہ اگلی کسی تحریر میں پیش کروں گی فی الحال بس اتنا ہی کہنا ہے کہ روٹی مانگنے سے مل جائے گی، کپڑا کسی کی اترن پہنا جاسکتا ہے لیکن ہر ماہ مالک مکان کو کرایہ ادا کرنا کسی بےروزگار کے بس میں نہیں۔ رہی بات گزارے کی تو خالی زمین پر خیمہ گاڑ کر خانہ بدوشوں کی طرح رہنا ہر کسی کے دل گردے کا کام نہیں۔ عوام کو چھت فراہم کرنا حکومت کا فرض ہے کیونکہ اپنی چھت تو بھوکے کو چاہیے پیٹ بھرے کو بھی۔
     

اس صفحے کی تشہیر