رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جادو

صرف علی

محفلین
اہل سنت کے کتابوں میں ا ٓیا ہے کہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم چھٹے یا ساتویں سال میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر سحر کیا گیا تھا۔ کیا ہم اس بات کو قبول کرسکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر جادو کیا گیا تھا ؟ اگر ہم اس بات کو قبول کرے تو یہ بات مقام رسالت پیامبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ منافات نہیں رکھتی ہے ۔؟کیوں کہ ممکن ہے کہ کوئی فرد ادعا کرے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کچھ باتیں اس وقت کی ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر جادو کیا گیا تھا ۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وہ باتیں قابل قبول نہیں ہیں اور حجیت سنت تردید کے ضمن میں آجائے گئی ۔ یہ ایسا موضوع ہے جس کے اوپر بحث اور تحقیق کرے گئے ۔
روایات (( سحر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ))
1۔ بخاری اور دوسرے لوگوں نے حضرت عائشہ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا :
(( سحررسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حتی انہی خیل الیہ انہی فعل الشئی وما فعلہ ۔۔۔))( صحیح بخاری ج 7 ص 30، کتاب بدء الخلق ،باب صفۃابلیس و جنودہ ، کتاب الطب، باب ھل یستخرج السحر ؛ صحیح مسلم ،ج7،باب السحر )
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم گمان کرتے تھے کے کوئی کام انجام دیا ہے در حالی کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کو انجام نہیں دیا ہوتا ہے ۔
2۔ ایک اور جگہ حضرت عاءشہ سے روایت ہے کہ :
(( سحر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حتی کان یری انہ یاتی النساء ولا یاتیھن ۔قال سفیان : وھذا اشد مایکون من السحر اذاکان )) (صحیح بخاری ،ج7،کتاب الطب ،باب السحر )
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر سحر وجادو کیاگیا تھا ،اس حد تک کے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خیال کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس گئے ہیں درحالی کے ایسا نہیں ہوتا تھا ۔سفیان کہتا ہے کہ : یہ سحر کے شدید ترین قسموں میں سے ایک قسم ہے اگر ایسا تھا تو ۔
3۔زید بن ارقم سے نقل ہوا ہے کہ:
ترجمہ : یولدیوں میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر جادو کیا ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایسی وجہ سے چند روز مریض ہوگئے ،جبرئیل نازل ہوئے اور عرض کیا : ایک یہودی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر جادو کیا ہے اور اس کے لئے اس نے گرہ لگائی ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے علی علیہ السلام کو بھیجا کے آپ اس کو کھول دیں اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں لئے کر آئے ۔پس جیسے ہی ہر گرہ کھولنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے آپ کو حلقہ محسوس کرنے لگے اور یہاں تک کے اپنے آپ کو اس بند سے آزاد پایاں۔ ( سنن نسائی ۔ج7،ص13، المصنف ،ابن ابی شیبہ ، ج5 ص435)
4۔ ایک اور جگہ نقل ہوا ہے کہ :
ترجمہ : انصار میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر جادو کردیا ، اس موقع پر دو فرشتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خبر دی کے فلان شخص نے آپ کے لئے گرہ باندھی ہے اور اس کو فلان کنواں میں میں ڈال دیا ہے ۔اور اس کنواں کا پانی گرہ کی شدت کی وجہ سے زرد ہوگیا ہے ۔( مستدرک حاکم ج 4 ص360 ؛ المعجم الکبیر ج 5 ص179 )
نقد روایات سحر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم :
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان جیسی تمام روایات جھوٹی اور جعلی ہیں ۔اس کو اسلام کے دشمنوں نے جعل کیا ہے یا جاہل اور نادان لوگوں نے گمان کیا ہے کے ان جیسے امور کے ذکر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے فضیلت کا بعض بنے گا ۔اب آئے ان روایات کے اوپر نقد اور تحقیق کرتے ہیں ۔
1۔ روایات کے درمیان تناقض :
رسول اللہ کے اوپر جادو کرنے کے بارے میں جتنی بھی روایات ہیں اس میں بہت واضح تناقض ہے ۔ اور ان کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ آپس میں بھی اختلاف رکھتی ہیں ۔ خود متن روایات میں اختلاف اور تناقض وھن اور سستی کا بعض ہے ۔
2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ایک نمونہ (آئیڈیل )عمل ہونا :
ظاہر روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایسا جادو کیا گیا تھا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے افعال کے درمیان تمیزدینے کی قدرت کو چھین لیا تھا ،اپنے اوپر سے آپ کا اختیار ختم ہو گیا تھا اور بعض روایات کے مطابق آپ ایک خیالی آدمی جیسے نظر ا ٓرہے تھے ۔آپ گمان کرتے تھے کے آپ نے کوئی کام انجام دیا ہے مگر اصل میں آپ نے کوئی کام انجام نہیں دیا تھا ۔آیا ایسا کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئےحق رکھتا ہے و آیا یہ باتیں قرآن میں جو آیات آپ کے صفات میں نازل ہوئی ہیں اس کے ساتھ تناسب رکھتا ہے ۔؟؟
اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں کہ :
وہ خواہش سے نہیں بولتا۔ یہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو (اس پر) نازل کی جاتی ہے۔(سورہ النجم آیہ 3،4)
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ :
اور رسول جو تمہیں دے دیں وہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جاؤ اور اللہ کا خوف کرو۔۔( سورہ حشر آیہ 7 )
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ :
بتحقیق تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔۔۔( سورہ احزاب آیہ 21 )
3۔ دشمنوں کو موقع دینا :
کیا ایسی رویات اس چیز کا بعض نہیں بنتا ہے کہ آپ اپنے دشمنوں کو موقع دے رہے ہیں کہ وہ اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو مورد اتھام قرار دیں اور لوگوں کو ایسے نبی کی پیروی سے روکیں جس پر متعدد بار جادو کیا گیا ہو ؟ ۔ یہ طریقہ جوپچھلی امتوں کے منحرف لوگوں کے نہیں ہیں جو اس کے ذریعہ لوگوں کو انبیاء سے دور کرتے تھے ۔
اللہ تعالٰی فرعون کے قول کو قرآن میں نقل کرتے ہیں کہ :
فرعون نے ان (موسیٰ) سے کہا:اے موسی!میرا خیال ہے کہ تم سحرزدہ ہو گئے ہو۔( سورہ اسراء یا بنی اسرائیل آیہ 101)
ظالموں کی زبان سے فرمایا :
ظالم لوگ (اہل ایمان سے) کہتے ہیں: تم تو ایک سحرزدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔( سورہ فرقان آیہ 8 )
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا :
تو یہ ظالم کہتے ہیں: تم (لوگ) تو ایک سحرزدہ آدمی کی پیروی کرتے ہو۔( سورہ اسراء یا بنی اسرائیل آیہ 47 )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا محفوظ ہونا :
ہمارا مقصد ان روایات کو جھٹلانے سے یہ نہیں ہے کہ ہم بولے کہ : یہودیوں اور عیسائیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مخالفت میں کوئی کام انجام نہیں دیا ہے ٍ، بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اس بات کو ثابت کرے کہ اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دشمنوں کے تمام ارادے اور نقشے ناکام ہوگئے اور کوئی اثر نہیں کر پائے ہیں ۔اللہ تعالی نے ان سب کو بے آبرو کر دیا ۔
ہاں اس قسم کے ہر کام جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ضد میں انجام دیا گئے تھے ان کا آپ کے اوپر کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔
5۔ یہودیوں کا پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ضدیت :
بہت سی ان روایات میں آیا ہے کہ جس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر جادو کیا تھا وہ یہودی غلام تھا جو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر میں کام کرتا تھا ۔
ابن عباس اور عایشہ سے نقل ہے کہ :
ترجمہ : ایک یہودی غلام آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا خدمت گزار تھا ،یہودی لوگ اس کے پاس آتے رہتے تھے ،اس غلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کنگھی کو اٹھایا اور یہودیوں کو دے دیا اور ان لوگوں نے کنگھی پر جادو کردیا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس جادو کی وجہ سے مریض ہوگئے ،آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سر کے بال گرگئے اور اس حالت میں چھ مہینے گزر گئے ۔حضرت خیال کرتے تھے کے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس گئے ہیں در حالی کے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے پاس نہیں گئے تھے ۔( تاریخ الخمیس ج2 ص41 ؛ فتح الباری ج10 ص193 )
کیا ہم اس بات کو قبول کرسکتے ہیں کہ جب پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہودیوں میں سے بنی قینقاع ،بنی النضیر اور بنی قریظہ کے ساتھ جنگ کی اور اور دونوں طرف سے لوگ مارے گئے ہوں اور یہ لوگ ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کے اوپر حملہ کرتے رہتے ہوں ایسی حالت میں یہودیوں میں سے کسی فرد کو اپنی خدمت کے لئے گھر میں رکھا ہو؟ کیا قرآن کریم میں بہت سے جگہ تاکید نہیں کی ہے کہ یہودی مسلمانوں کے شدید دشمن ہیں قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
" (اے رسول) اہل ایمان کے ساتھ عداوت میں یہود اور مشرکین کو آپ پیش پیش پائیں گے ۔۔۔"( سورہ مائدہ آیہ 82 )
کیا کوئی مسلمان نہیں تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت گزاری کرے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت کا کام یہودیوں میں سے ایک فرد نے آپ کی خدمت کے عہدہ کو لیا ہو ۔؟؟؟
 

صرف علی

محفلین
سحر پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم شیعہ روایات میں :
امیر المؤمنین علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا :
" لبید بن اعصم یہودی اور ام عبداللہ یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جادو کیا "( بحارالانوار ج 63 ص22 )
جواب :
پہلا: روایات سحر کو مجلسی نے ان تین کتابوں سے نقل کیا ہے (( تفسیر فرات کوفی )) ، (( دعائم الاسلام )) اور طب الائمہ )) ان تینوں مورد میں اشکال ہے ۔
(( تفسیر فرات کوفی )) اس کا مؤلف زیدی تھا ، شیعہ مصنفین کی کتابوں کی فہرست میں اس کتاب کا نام نہیں لیا گیا ہے ۔( قاموس الرجال ج8 ص376)اس کے علاوہ اس حدیث کے تمام راوی مجہول ہیں ۔
کتاب (( دعائم الاسلام )) اس کا مؤلف مورد طعن واقع ہوا ہے ۔خصوصا اس لئے کہ یہ فروعی ہے جو کہ خلاف مذہب امامیہ ہے ۔اس کا مؤلف مجہول ہے اور اس کتاب کی تمام روایات مرسل ہیں ۔
مجلسی ؒ کتاب (( طب الأئمہ )) کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ :
" کتاب طب الأئمہ مشھور کتابوں میں سے ایک کتاب ہے مگر اس کا درجہ دوسری کتابوں جیسا نہیں ہے کیوں کے اس کا مؤلف مجہول ہے " ( بحارالأنوار ج2 ص30 )
دوسرا: اس روایت میں اس بات کا ذکر نہیں ہوا ہے کہ اس جادو نے پیامبراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر اثر کیا ہے ۔
شیعہ علماء کا نظریہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر جادو کے بارے میں :
شیعہ علماء کا اس بارے میں عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اوپر جادو ہونا اور اس کا آپ کے اوپر اثر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے ؛ کیونکہ یہ چیز مقام عصمت اور اس کے ساتھ قاعدہ لطف کے خلاف ہے ۔
1۔ شیخ طوسی ؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ :
" جائزنہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوپر جادو ہو جس طرح قصہ کہنے والے جاہل لوگ روایت کرتے ہیں:جب کسی کے اوپر جادو کیا جاتا ہے تو اس کی عقل پر اثر گزار ہو درحالی کے اللہ تعالی نے اس سے انکار کیا ہو اور ارشاد فرمایا ہے کہ [ظالم لوگ (اہل ایمان سے) کہتے ہیں: تم تو ایک سحرزدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔]مگر یہ بات درست ہے کہ بعض یہودی اس کوشش میں تھے مگر وہ اس پر کامیاب نہیں ہوئے اور اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ان کے اس فعل سے آگاہ کیا ۔۔۔" (التبیان ج10 ص434 )
2۔ مجلسیؒ فرماتے ہیں کہ :
" مشہور امامیہ کے درمیان یہ ہے کہ جادو انبیا اور اماموں کے اوپر اثر نہیں کرتا ہے ۔ایسی لئے اس بارے میں جو روایات ہیں بعض کو تاویل کرتے ہیں اور بعض کو رد کرتے ہیں " ( بحارالأنوار ج18 ص70 )
3۔ علامہ حلی ؒ فرماتے ہیں کہ :
"یہ کہنا کہ انبیا کے اوپر جادو ہوتا ہے میرے نزدیک باطل ہے وہ روایات جو جادو کے بارے میں ہے ضعیف ہیں خصوصا روایت عایشہ؛ اس وجہ سے کے یہ محال ہے کہ انبیا کے اوپر جادو ہو "
4۔ابن شہر آشوب کہتے ہیں کہ :
"مفسران اللہ تعالی کے اس قول [اور گرہوں میں پھونکنے والی (جادوگرنی)کے شر سے ] نقل کیا ہے کہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو لبید بن اعصم یہودی نے جادو کیا ۔۔ اگر یہ روایت صحیح ہے تو اسکوتاویل کرنا پڑے گا اگر نا ہوتو اس کو ایک کنار میں رکھنا پڑے گا " ( ھمان ج63 ص 30 ، نقل از علامہ حلی در المنتھی )
حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جادو ہونا :
بعض لوگ اپنی بات انبیا کے اوپر جادو ہوتا ہے کو ثابت کرنے کے لئے حضرت موسٰی علیہ السلام کے قصہ کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ :
" موسیٰ نے کہا:بلکہ تم پھینکو، اتنے میں ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کی وجہ سے موسیٰ کو دوڑتی محسوس ہوئیں۔(سورہ ظہ آیہ 66 )
اس آیت سے استفادہ کیا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کے اوپر ان کے جادو نے اثر کیا ہے ۔
جواب :
اس جادو کو علماء شیعہ قبول نہیں کرتے ہیں جو عصمت اور قاعدہ لطف کے ساتھ سازگار نہ ہو وہ جادو جو انبیا کے عقل کے اوپر اثر کرتا ہو ۔مگر وہ جادو جو پیامبر کے آنکھوں کے اوپر اثر کرے لیکن اپنی عقل سے اس کو درک کرتے ہوں علماء شیعہ اس سے منکر نہیں ہیں ۔
 

کعنان

محفلین

اس جادو کو علماء شیعہ قبول نہیں کرتے ہیں جو عصمت اور قاعدہ لطف کے ساتھ سازگار نہ ہو وہ جادو جو انبیا کے عقل کے اوپر اثر کرتا ہو ۔مگر وہ جادو جو پیامبر کے آنکھوں کے اوپر اثر کرے لیکن اپنی عقل سے اس کو درک کرتے ہوں علماء شیعہ اس سے منکر نہیں ہیں ۔

عقلی دلیل سے تو کچھ نہ ماننے والے لوگ اللہ کو بھی اللہ نہیں مانتے
پہلے بھی ایک ممبر نے عقلی دلیل دی تھی کہ وہ نہیں مانتا کہ پہلی وحی جب نازل ہوئی تھی تو ایسا ہوا تھا، تو سوال سے اندازہ لگا لیا جاتا ھے کہ بندہ کس چینل سے بات کر رہا ھے تو وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ورنہ قرآن مجید پورا ترجمہ کے ساتھ اگر پڑھ لیا جائے تو بہت معلومات مل سکتی ہیں جو کو پڑھ کے عقلی دلیلیں بے بس ہو جاتی ہیں۔


یہ دو سورتیں ہیں آپ ان کو پڑھ لیں اور کوشش کریں بتانے کی کہ یہ دو سورتیں اکٹھی کیوں نازل ہوئی تھیں ان کی وہ تفسیر سے بھی آپ مدد حاصل کر سکتے ہیں اس کے ساتھ آپ اپنی عقلی دلیل ثابت کرنے کی کوشش کریں شائد کچھ مدد مل جائے ان سے بھی۔
ایک بات کا خیال رکھا جائے گفتگو موضوع پر کریں اگر جواب نہ ملے تو کوئی زبردستی نہیں ھے مگر ذاتی گفتگو سے پرہیز کیا جائے۔
ایک اور ضروری بات اگر آپ کو یہ ترجمہ پسند نہ آئے تو آپ اپنے ترجمہ کو بھی پڑھ کے جواب تلاش کر سکتے ہیں۔ ترجمہ پر کوئی پابندی نہیں





بسم اللہ الرحمن الرحیم

سُورة الْفَلَق

1. قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
1. آپ عرض کیجئے کہ میں (ایک) دھماکے سے انتہائی تیزی کے ساتھ (کائنات کو) وجود میں لانے والے رب کی پناہ مانگتا ہوں

2. مِن شَرِّ مَا خَلَقَ
2. ہر اس چیز کے شر (اور نقصان) سے جو اس نے پیدا فرمائی ہے

3. وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ
3. اور (بالخصوص) اندھیری رات کے شر سے جب (اس کی) ظلمت چھا جائے

4. وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ
4. اور گرہوں میں پھونک مارنے والی جادوگرنیوں (اور جادوگروں) کے شر سے

5. وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
5. اور ہر حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے

سُورة النَّاس

1. قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ
1. آپ عرض کیجئے کہ میں (سب) انسانوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں

2. مَلِكِ النَّاسِ
2. جو (سب) لوگوں کا بادشاہ ہے

3. إِلَهِ النَّاسِ
3. جو (ساری) نسلِ انسانی کا معبود ہے

4. مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ
4. وسوسہ انداز (شیطان) کے شر سے جو (اﷲ کے ذکر کے اثر سے) پیچھے ہٹ کر چھپ جانے والا ہے

5. الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ
5. جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے

6. مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ
6. خواہ وہ (وسوسہ انداز شیطان) جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے
 
Top