راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں

فاخر

محفلین
غزل
فاخر
آتشِ ہجراں لگائے بیٹھے ہیں
اس میں خود کو ہم جلائے بیٹھے ہیں

اب تو آجاؤ کہیں سے دل نشیں
راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں

اک تمہارے عشق میں اے جانِ من
اپنا سب کچھ ہم لٹائے بیٹھے ہیں

ہم تمہاری یاد میں اے سنگ دل
خون کے آنسو بہائے بیٹھے ہیں

ایستادہ بت جو تھے نا، کِبر کے
وہ سبھی بت ہم گرائے بیٹھے ہیں

کعبہ دل کا حسیں اک دیوتا
تم کو ہی جاناں بنائے بیٹھے ہیں

جس محبت سے تمہیں الجھن ہے نا؟
وہ محبت ہم نبھائے بیٹھے ہیں

فاخر اُس کے عشق میں لاریب ہم
اپنی ہستی کو مٹائے بیٹھے ہیں
 
Top