راہِ وفا میں ہم کو ملتی رہیں جفائیں

الف عین
عظیم
الف نظامی
شکیل احمد خان23
مقبول
-------------
راہِ وفا میں ہم کو ملتی رہیں جفائیں
ناپید ہو گئی ہیں دنیا میں اب وفائیں
-------
انسان کی ہے فطرت چاہت کو ڈھونڈتا ہے
کرتے ہیں پیار جن سے کیسے انہیں بھلائیں
-------
ڈیرے مرے وطن میں غم نے لگا لئے ہیں
میں دیکھتا ہوں اٹھتی چاروں طرف گھٹائیں
------------
حالات پھر سے بدلیں ہے وقت کا تقاضا
آئیں مرے چمن میں مہکی ہوئی ہوائیں
-----------
ہر آدمی وطن کا مقروض ہو گیا ہے
بھاری ہے بوجھ سب پر کیسے اسے اٹھائیں
-----------
ہم سے خدا ہمارا ناراض ہو گیا ہے
سوچیں سبھی یہ مل کر کیسے اسے منائیں
--------------
مجرم ہیں تیرے یا رب احساس ہے یہ ہم کو
یا رب معاف کر دے اس قوم کی خطائیں
-----------
کتنے مرے وطن میں سوتے ہیں لوگ بھوکے
اپنے ہیں لوگ وہ بھی ان کو نہ بھول جائیں
----------
اتنا دکھی ہے ارشد حالات پر وطن کے
ہر پل وہ مانگتا ہے اس کے لئے دعائیں
---------
 

الف نظامی

لائبریرین
راہِ وفا میں ہم کو ملتی رہیں جفائیں
ناپید ہو گئی ہیں دنیا میں اب وفائیں
ایک شخص کے تجربہ کو جنرلائز کیا گیا ہے یعنی جزو کو کل پر منطبق کیا گیا ہے۔ ایک آدمی کو راہ وفا میں جفا ملی اس سے یہ کیسے ثابت ہوگیا کہ دنیا سے وفا ناپید ہوگئی؟

بقیہ تمام مایوس کُن اشعار ہیں جن میں امید کا عنصر غائب ہے سوائے آخری شعر کے لیکن اس میں بھی دکھ اور دعا کو جمع کر دیا گیا ہے جب کہ دعا کے ساتھ یقین کا ربط ہے۔

مایوس کن شاعری قوم کے لیے نقصان دہ ہے۔ اگر آپ اپنے کلام سے اُمید نہیں دے سکتے تو اپنے مایوسی کو دوسروں تک نہ پہنچائیں۔
 
آخری تدوین:
بہت بہت شکریہ نظامی بھائی،آپ کے مشورے صائب ہیں ،نیا راستہ دکھایا ہے آپ نے،آئیندہ آپ کے مشوروں کو ذہن میں رکھوں گا، رہنمائی فرماتے رہئے شکریہ
 

عظیم

محفلین
راہِ وفا میں ہم کو ملتی رہیں جفائیں
ناپید ہو گئی ہیں دنیا میں اب وفائیں
-------
جفائیں اور وفائیں میں 'فائیں' مشترک ہے تو یہ ایطا کہلائے گا
انسان کی ہے فطرت چاہت کو ڈھونڈتا ہے
کرتے ہیں پیار جن سے کیسے انہیں بھلائیں
-------
شترگربہ؟
ڈیرے مرے وطن میں غم نے لگا لئے ہیں
میں دیکھتا ہوں اٹھتی چاروں طرف گھٹائیں
------------
کون سی گھٹائیں؟
حالات پھر سے بدلیں ہے وقت کا تقاضا
آئیں مرے چمن میں مہکی ہوئی ہوائیں
-----------
پھر سے بدلیں کیوں کہا گیا ہے یہ واضح نہیں ہوا، اگر پہلا مصرع اسی طرح رکھا بھی جائے تو دوسرے میں بھی 'پھر' لانا چاہیے
ہر آدمی وطن کا مقروض ہو گیا ہے
بھاری ہے بوجھ سب پر کیسے اسے اٹھائیں
-----------
وطن کا مقروض یا وطن میں رہنے والا ہر آدمی مقروض ہے؟ کہنا تو آپ یہی چاہتے ہیں کہ ہر شہری مقروض ہے مگر الفاظ کی نشست کی وجہ سے یہ مفہوم واضح نہیں ہو رہا۔ بوجھ بھی کون سا ہے یہ بھی صاف نہیں
ہم سے خدا ہمارا ناراض ہو گیا ہے
سوچیں سبھی یہ مل کر کیسے اسے منائیں
--------------
دوسرے کی روانی بہتر بنائی جا سکتی ہے، مثلاً
سوچیں یہ سب ہی مل کر.. وغیرہ
مجرم ہیں تیرے یا رب احساس ہے یہ ہم کو
یا رب معاف کر دے اس قوم کی خطائیں
-----------
کسی ایک جگہ 'یا رب' کو نہیں ہونا چاہیے تو خوبصورتی بڑھے گی
کتنے مرے وطن میں سوتے ہیں لوگ بھوکے
اپنے ہیں لوگ وہ بھی ان کو نہ بھول جائیں
----------
کتنے وطن میں میرے.. بہتر لگتا ہے روانی میں
پہلے کے ساتھ دوسرے مصرع کا ربط بھی کچھ کمزور لگ رہا ہے، دوبارہ کہنے کی ضرورت ہے
اتنا دکھی ہے ارشد حالات پر وطن کے
ہر پل وہ مانگتا ہے اس کے لئے دعائیں
اتنا ہے دکھی ارشد
بہتر نہیں رہے گا روانی میں؟ حالات پر دکھی ہونا بھی کچھ کھٹک رہا ہے
//ارشد کو غم ہے اتنا حالات کا وطن کے
دوسرے میں بھی بہتری لائیں تو ایک اچھا شعر ہو سکتا ہے، 'کہ' کی کمی محسوس ہوتی ہے دوسرے مصرع میں
 
Top