راہنمائی درکار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ایک غزل برائے اصلاح

شیرازخان

محفلین
  • غزل
صاف ستھرا اسقدر وہ مکاں بھی نہیں تھا
اس کا اپنے دل پہ اتنا دھاں بھی نہیں تھا
اب زمیں پاؤں تلے سے نکلنے لگی تھی
اب مرے سر پہ کھڑا آسماں بھی نہیں تھا
قافلہ لٹنے کا دکھ اک طرف تھا مگر اب
وہ جو ہمراہ تھا مرے، کارواں بھی نہیں تھا
اس کا صدمہ تھا عجب جو گیا ہی نہیں ہے
جو جلا تھا وہ مرا آشیاں بھی نہیں تھا
کیونکر برسی ہیں شیرؔ از آنکھیں یکایک
آج تو بارش کا نام و نِشاں بھی نہیں تھا
 

شیرازخان

محفلین
  • غزل
صاف ستھرا اسقدر وہ مکاں بھی نہیں تھا
اس کا اپنے دل پہ اتنا دھاں بھی نہیں تھا
اب زمیں پاؤں تلے سے نکلنے لگی تھی
اب مرے سر پہ کھڑا آسماں بھی نہیں تھا
قافلہ لٹنے کا دکھ اک طرف تھا مگر اب
وہ جو ہمراہ تھا مرے، کارواں بھی نہیں تھا
اس کا صدمہ تھا عجب جو گیا ہی نہیں ہے
جو جلا تھا وہ مرا آشیاں بھی نہیں تھا
کیونکر برسی ہیں شیرؔ از آنکھیں یکایک
آج تو بارش کا نام و نِشاں بھی نہیں تھا
 
  • غزل
صاف ستھرا اسقدر وہ مکاں بھی نہیں تھا
اس کا اپنے دل پہ اتنا دھاں بھی نہیں تھا
اب زمیں پاؤں تلے سے نکلنے لگی تھی
اب مرے سر پہ کھڑا آسماں بھی نہیں تھا
قافلہ لٹنے کا دکھ اک طرف تھا مگر اب
وہ جو ہمراہ تھا مرے، کارواں بھی نہیں تھا
اس کا صدمہ تھا عجب جو گیا ہی نہیں ہے
جو جلا تھا وہ مرا آشیاں بھی نہیں تھا
کیونکر برسی ہیں شیرؔ از آنکھیں یکایک
آج تو بارش کا نام و نِشاں بھی نہیں تھا
اسکو اس بحر میں آزما کر دیکھیں:
صاف ستھرا اس قدر میرا مکاں تھا بھی نہیں
 

الف عین

لائبریرین
غزل کے لئے ضروری ہے کہ وہ بحر و عروض کی پابند ہو، اس لحاظ سے یہ مکمل غزل نہیں ہے۔ اگر میں یا کوئی اور اٹھا پٹک کر اس کو کسی بحر میں فٹ کر کے دے بھی دیں تو اس سے سیکھنے کا عمل مجروح ہو گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تم خود کلام میں موزونی پیدا کرو
 

الف عین

لائبریرین
اس کے علاوہ جس طرح ٹیگ کیا گیا ہے، وہ تلاش کے لئے تو درست ہے، کسی کو اطلاع کے لئے نہیں۔ اطلاع دینے کے لئے اس کے نام میں @ لگا کر یہاں ہی لکھیں۔ جیسے شیرازخان
 
Top