1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

تبصرہ کتب راشد شاذ صاحب کی "لستم پوخ

فلک شیر نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 28, 2021

ٹیگ:
  1. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,467
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    راشد شاذ صاحب کا نام جہاں تک یاد پڑتا ہے، ان پہ لکھی گئی کسی تنقیدی تحریر کے طفیل پہلی دفعہ دیکھنے کو ملا تھا... شاذ شاید ان کا تخلص ہے، جیسا کہ اسی کتاب میں علی گڑھ یونیورسٹی کے کسی مشاعرے میں اپنے اشعار سنانے کا انہوں نے تذکرہ کیا ہے....ڈاکٹر بھی ہیں.... پی ایچ ڈی والے... ہندوستان میں متوطن ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اپنے "تھوڑا ہٹ کے" والے خیالات کے حوالے سے معروف ہیں...
    یہ کتاب راشد صاحب کے فکری قلعے کی اندر باہر سے زیارت کا موقع کم دیتی ہے... اور فکر ہائے مخالف کے دروبست کی تفصیلات سے زیادہ آگاہ کرتی ہے... مندرجہ ذیل سطور میں نکات کی شکل میں اس کتاب کے اہم نکات، دعاوی اور راشد صاحب کے تھیسس پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں..

    ١) سفرنامہ کی شکل میں یہ تحریر دراصل 'تصوف' اور 'انتظارِ مہدی' کے دو فینامیناز کا تجزیہ اور راشد صاحب کا جوابی تھیسس ہے.... ظاہر ہے کہ یہ دو فینامیناز امت مسلمہ کے کثیر حصہ کے عقائد اور ذہنی و فکری تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں.... سو دلچسپی کا سامان بھی وافر ہے....

    ٢) استنبول، جو کہ دولتِ عثمانیہ کے دارالخلافہ سے آج کے جدید یورپی صدرمقام کا فاصلہ طے کر چکا ہے... وہ اس سفرنامہ (حقیقی یا خیالی) کا مکانی مرکز ہے

    ٣) مرکزی کردار راشد صاحب خود ہیں، جو کسی کانفرنس کے سلسلہ میں وہاں جاتے ہیں اور پھر بعد ازاں مختلف شاگردوں، ساتھی سکالرز اور "روحانی سیاحت" کے لیے آئے پاکستانی نژاد کینیڈین جوانوں کے ساتھ نقشبندی سلسلہ کے شیوخ، خانقاہوں، محافل سماع اور مجالس ذکر و مراقبہ میں شریک ہوتے ہیں..... ساتھ ہی ساتھ ہندوستان کے تبلیغی نقشبندی سلسلہ کے ذاتی تجربات اور مشاہدات کا بیان بھی جاری رہتا ہے.... پھر مذہبی مغنیوں اور سازو آواز کے تمام شیڈز پہ بھی بات مختلف کرداروں کی زبانی جاری رہتی ہے.... مراکش کے فز سے قونیہ کی نے نوازی اور دلی کی محفل سماع سے صابری برادران کی "بھر دو جھولی" تک کے سارے گلے اور رنگ و نور کے وہ سیلاب، جو استنبول میں باسفورس پہ چلتے سفینوں میں رواں ہوتے ہیں.... "روحانیت" کا ہر انگ گویا اپنی تمام تفصیلات میں راشد صاحب زیر بحث لاتے ہیں....

    ٤) اہل تصوف کے "تذکیہ نفس" کے سادہ دعوا سے "نظام عالم" کے پیچیدہ تصور تک.... جس میں انفرادی سطح پر ذکر کی مختلف اقسام اور مراقبہ جات ہیں... اوراد و مجاہدات ہیں.... اتباع شیخ سے توسل و سلوک کی مختلف منازل ہیں..... مختلف ٹولز ہیں.... مختلف سلاسل کی مختلف اصطلاحات ہیں.... Hierarchy ہے.... اور پھر اجتماعی سطح پر نقبا ہیں.... ابدال ہیں... غوث ہیں.... قطب ہیں.... قطب ارشاد ہیں.... قطب اصلاح ہیں.... قطب الاقطاب ہیں..... اوتاد و اخیار ہیں... یعنی رجال غیب کے تحت ایک ورلڈ آرڈر ہے.... اس سب کا خاکہ راشد صاحب نے مکالموں میں اپنے کرداروں سے بلوایا ہے....

    ٥) آخری باب میں مصنف اولو داغ کے مقام پر، جو ترکی کے تاریخی شہر 'برصہ' کے قریب جبل قاسیون کے دامن میں ایک مقام ہے.... وہاں ان رجال الغیب کی چالیس سال کے بعد ہونے والی مجلس کا احوال بیان کرتے ہیں.... اس جگہ کا نام "لستم پوخ" ہے اور یہیں سے کتاب کا نام بھی ماخوذ ہے... اس کانفرنس میں چہار دانگ عالم سے اقطاب وارد ہیں... سامعین میں چنیدہ درویش ہیں... راشد شاذ ترکی کے ایک صاحب "عثمان ہوجا" کے پاس پہ وہاں روایتی درویشانہ حلیہ میں جا موجود ہوتے ہیں اور اقطاب کے پالیسی ساز خطاب سنتے ہیں.... جس میں کچھ اعترافات ہیں اور کچھ باہم اعتراضات... کچھ عہد و پیمان ہیں اور کچھ تشویش کے نکات....

    ٦) راشد اپنی کتاب میں اس سب سلسلہ کو اسطورہ، خودفریبی اور خلاف عقل و وحی بتاتے ہیں.... بڑے بڑے ناموں کی اس رستے میں کھائی ٹھوکروں کی نشاندہی کرتے ہیں.... ان کے خیال میں یہ سب کچھ مختلف صدیوں میں سیاسی و سماجی حالات کی وجہ سے اصل دین پہ چڑھائی گئی بظاہر دلکش چادریں ہیں.... جو چیستاں سے زیادہ کچھ نہیں.... اور اسی وجہ سے امت کو اس کی contribution بھی گھن چکر نوعیت ہی کی ہے...

    ٧) راشد صاحب کا پیمانہ حق بقول ان کے قرآن اور عقل ہیں

    ٨) مصنف تصوف پہ اپنی نقد کے سلسلہ میں اہل سنت اور اہل تشیع.... دونوں کو قریب قریب ایک پلڑے میں رکھتے ہیں

    ٩) احادیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں ان کا منہج فکر (مجھے اپنے کمترین علم کے مطابق) غیر متوازن اور اعتدال سے ہٹا ہوا لگا....pick and choose اور کہیں صریحاً صحیح ترین متفق علیہ روایات کا عقل کے پیمانے پر رکھ کر انکار.... بلکہ بیان کرنے والوں اور راویان پہ وضاع و خائن ہونے کی تہمت..... میری نظر میں ان کی فکر کا یہ کمزور ترین علمی پہلو ہے....

    ١٠) مصنف کا مطالعہ وسیع اور بیان پہ گرفت واضح ہے... تبھی تو دلچسپی ایسے خشک موضوع میں آخر تک برقرار رکھی ہے

    ١١) کتاب کا ایک ضمنی فائدہ ترکی کے مذہبی ڈھانچے کی ساخت اور گزشتہ صدیوں میں ریاستی ہئیت کے ساتھ اس کے مختلف عناصر کا تعلق بھی اشاروں کی صورت واضح ہونا ہے

    ١٢) کچھ باتیں ہضم کرنا مشکل ہے اور دوسری ضروری... ہر دو کا انتخاب قارئین پہ چھوڑا جاتا ہے

    ١٣) میں نے یہ نکات خلاصہ کے طور پر بیان کیے ہیں.... اتفاق و اختلاف کے مکمل یا جزوی اظہار کے بغیر.... سوائے ایک نکتہ کے، جس میں یہ در آیا ہے

    ١٤) کتاب استنبول کی دلکشی اور حُسنِ حزیں کا بیان بھی سمیٹے ہوئے ہے

    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب...

    فلک شیر چیمہ
     

اس صفحے کی تشہیر