راجہ پرویز اشرف نئےوزیراعظم منتخب

@نایاب صاحب۔۔۔۔ یہ تین ہفتے پہلے کی ایک ویڈیو ہے جس میں ایک پامسٹ صاحب راجہ رینٹل کے ہاتھ کی لکیروں کا تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔۔۔آپکے کمنٹس کے منتظر ہیں

 

نایاب

لائبریرین
@نایاب صاحب۔۔۔ ۔ یہ تین ہفتے پہلے کی ایک ویڈیو ہے جس میں ایک پامسٹ صاحب راجہ رینٹل کے ہاتھ کی لکیروں کا تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔۔۔ آپکے کمنٹس کے منتظر ہیں

محترم غزنوی بھائی مجھے اس ویڈیو کا لنک میسج کر دیں ۔
نیٹ میں کچھ پرابلم ہے نا فیس بک کھلتی ہے نہ ہی محفل میں لگنے والی کوئی ویڈیو ۔
 

نایاب

لائبریرین
محترم محمود غزنوی بھائی
ملک صادق صاحب نے جو بھی تجزیہ کیا ہے ۔ وہ بہت حد تک درست ہے
ملک صاحب نے " مریخ مثبت و منفی " کا ذکر کیا ۔ اور راجہ صاحب پر مریخ منفی کو حاوی ثابت کیا ۔
یہ مریخ مثبت منفی عجب طرح سے اثرا انداز ہوتے ہیں ۔
منفی کا حامل دل و دماغ پر بھروسہ نہیں رکھتا وہ صرف وقت پر قدم اٹھا لینا بہتر سمجھتا ہے ۔
راجہ صاحب کا عہدہ وزیراعظم قبول کر لینا ہی اس بات کی دلیل ہے ۔
راجہ صاحب نے سیلف میڈ ہونے کو سچ ثابت کرتے نتائج و عواقب سے بے نیاز یہ قدم اٹھا تو لیا ہے ۔
اگر کہیں ان کا " مریخ مثبت " ابھرنا شروع ہو گیا ۔ تو یہ سوچ سمجھ قدم اٹھانے کی کوشش کریں گے
اور منہ کے بل گریں گے ۔ ویسے ان کے ہاتھوں کی لکیروں میں سورج کی کرنوں کا خاصا بسیرا ہے ۔
اور یہ انتہا تک پہنچیں گے ۔ چاہے وہ کامیابی ہو یا ناکامی ۔
بلا شک " غیب " کا علم صرف اللہ کے پاس ہے ۔
 
نایاب بھائی ؟ :shocked:
بلا شک " غیب " کا علم صرف اللہ کے پاس ہے ۔
لیکن کیا آپ ان چیزوں پر یقین رکھتے ہیں ؟ امیزنگ ۔۔۔۔
 

نایاب

لائبریرین
نایاب بھائی ؟ :shocked:
بلا شک " غیب " کا علم صرف اللہ کے پاس ہے ۔
لیکن کیا آپ ان چیزوں پر یقین رکھتے ہیں ؟ امیزنگ ۔۔۔ ۔
میرے محترم بھائی
سب علوم اس سچے " علیم " ہی کی جانب سے ہیں ۔
علم تو کوئی بھی برا نہیں ۔ ان کا استعمال ہی انہیں اچھا برا بناتا ہے ۔
یقین رکھنا الگ بات علم رکھنا الگ بات ۔
اور کوئی بھی علم تین درجوں سے گزر کر " حق الیقین " کے درجے تک پہنچتا ہے ۔
 
آپ کی بات سر آنکھوں پر مگرعلم جفر، دست شناسی ،ستاروں کا علم ، ہاتھوں میں پتھر پہننا وغیرہ وغیرہ​
بہت معذرت کے ساتھ،پر آج تک سمجھ نہیں آیا کہ انسان کی قسمت یا چال کا ان سب چیزوں سے کیا تعلق ہے اور اگر ہے​
تو پھر سمندر کی لہروں سے کیوں نہیں بادلوں کی رفتارسے کیوں نہیں بھیڑوں کے بالوں ، ہرن کے سینگوں کی بناوٹ سے کیوں نہیں ۔ کی بورڈ کی اسپیڈ اور ایل سی ڈی کا وزن ، بیرون ملک ملازمت میں مددگار کیوں نہیں ہوتا سڑکوں پہ ٹریفک کی زیادتی یا کمی، ساس بہو کے جھگڑے حل کیوں نہیں کراسکتی۔​
:)
(ا(ازراہ تفنن لکھا گیا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا سبب بن جائے تو پیشگی معذرت​
 

پپو

محفلین
آپ کی بات سر آنکھوں پر مگرعلم جفر، دست شناسی ،ستاروں کا علم ، ہاتھوں میں پتھر پہننا وغیرہ وغیرہ​
بہت معذرت کے ساتھ،پر آج تک سمجھ نہیں آیا کہ انسان کی قسمت یا چال کا ان سب چیزوں سے کیا تعلق ہے اور اگر ہے​
تو پھر سمندر کی لہروں سے کیوں نہیں بادلوں کی رفتارسے کیوں نہیں بھیڑوں کے بالوں ، ہرن کے سینگوں کی بناوٹ سے کیوں نہیں ۔ کی بورڈ کی اسپیڈ اور ایل سی ڈی کا وزن ، بیرون ملک ملازمت میں مددگار کیوں نہیں ہوتا سڑکوں پہ ٹریفک کی زیادتی یا کمی، ساس بہو کے جھگڑے حل کیوں نہیں کراسکتی۔​
:)
(ا(ازراہ تفنن لکھا گیا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا سبب بن جائے تو پیشگی معذرت​
تیرے مقام کو انجم شناس کیا جانے
خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں
 

نایاب

لائبریرین
آپ کی بات سر آنکھوں پر مگرعلم جفر، دست شناسی ،ستاروں کا علم ، ہاتھوں میں پتھر پہننا وغیرہ وغیرہ​
بہت معذرت کے ساتھ،پر آج تک سمجھ نہیں آیا کہ انسان کی قسمت یا چال کا ان سب چیزوں سے کیا تعلق ہے اور اگر ہے​
تو پھر سمندر کی لہروں سے کیوں نہیں بادلوں کی رفتارسے کیوں نہیں بھیڑوں کے بالوں ، ہرن کے سینگوں کی بناوٹ سے کیوں نہیں ۔ کی بورڈ کی اسپیڈ اور ایل سی ڈی کا وزن ، بیرون ملک ملازمت میں مددگار کیوں نہیں ہوتا سڑکوں پہ ٹریفک کی زیادتی یا کمی، ساس بہو کے جھگڑے حل کیوں نہیں کراسکتی۔​
:)
(ا(ازراہ تفنن لکھا گیا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا سبب بن جائے تو پیشگی معذرت​
میرے محترم چوہدری صاحب
ان اللہ علی کل شئی قدیر
جب بات انسان کے مقدر یا نصیب پر ہوتی ہے ۔ تو اسے اس دلیل کے حوالے کرتے راضی بالرضا رہنے کی تلقین کی جاتی ہے کہ
"قسمت و مقدر وہ امر ہے جو کہ " کن و فیکون " کے مالک کے امر پر قلم نے لوح محفوظ پر تحریر کیا اور پھر با امر الہی خشک ہو گیا "
قسمت و مقدر کا مجموعہ " تقدیر " کے عنوان سے معنون ہوتے کسی بھی تبدیلی سے بے نیاز ٹھہرایا گیا ۔
جملہ مندرجہ بالا علوم صرف انسان کی رہنمائی کرتے ہیں ۔ اور اس کے مطلوب و مقصود میں آسانی کا سبب بنتے ہیں ۔
ان کے بارے یہ یقین رکھنا کہ یہ " تقدیر " بدل دیتے ہیں ۔ اک غلط فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
تسبیح جو کہ سو دانوں ۔ تینتیس دانوں ۔ میں تقسیم اک مالا کی صورت ہوتی ہے ۔
اس کو جس غرض و غایت سے ہاتھوں میں رکھا جاتا ہے ۔ شاید ہی کسی سے مخفی ہو ۔
کسی نگینے سے جڑی انگوٹھی بھی اسی غرض و غایت کو پورا کرتی ہے ۔
علم الابجد جس میں علم جفر و علم الاعداد شامل ہیں ۔ اور جملہ ریاضی کی عمارت ان پر استوار ہے ۔
دست شناسی کا علم اس دلیل کے ساتھ مشتبہ ٹھہرتا ہے کہ
انسان کے ہاتھ کی لکیریں ماں کے بطن میں مٹھی کے بند رہنے پر وجود میں آتی ہیں ۔
اور یہ انسان کو اپنی مٹھی بند کرتے کسی شئے کو اپنی گرفت میں مضبوطی سے پکڑنے میں معاون ہوتی ہیں ۔
مگر کیسی عجیب بات کہ انگلیوں کی لکیریں ہر انسان کی الگ ہوتی ہیں ۔ اور ہر انسان کے ہاتھ کی لکیریں
اس کی زندگی کے ساتھ ساتھ ہر پل اک تبدیلی سے ہمکنار ہوتی ہیں ۔
ستاروں کا علم زمانہ قدیم سے انسانوں کو سمت کا تعین کرنے میں مددگار چلا آیا ہے ۔
علم صرف علم ہوتے ہیں ۔ اور انسان کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کا سبب ،
ان پر ایسا یقین رکھنا کہ یہ تقدیر بدل دیتے ہیں ۔ یا یہ غیب سے آگاہ کرتے ہیں ۔
ان کی حقیقت سے لاعلمی کا ثبوت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
غالب بھی کچھ ایسے ہی نظریات کے حامل ٹھہرے ہیں
جاں فزا ہے بادہ، جس کے ہاتھ میں جام آگیا سب لکیریں ہاتھ کی، گویا رگِ جاں ہوگئیں
 
میرے محترم چوہدری صاحب
ان اللہ علی کل شئی قدیر
جب بات انسان کے مقدر یا نصیب پر ہوتی ہے ۔ تو اسے اس دلیل کے حوالے کرتے راضی بالرضا رہنے کی تلقین کی جاتی ہے کہ
"قسمت و مقدر وہ امر ہے جو کہ " کن و فیکون " کے مالک کے امر پر قلم نے لوح محفوظ پر تحریر کیا اور پھر با امر الہی خشک ہو گیا "
قسمت و مقدر کا مجموعہ " تقدیر " کے عنوان سے معنون ہوتے کسی بھی تبدیلی سے بے نیاز ٹھہرایا گیا ۔
جملہ مندرجہ بالا علوم صرف انسان کی رہنمائی کرتے ہیں ۔ اور اس کے مطلوب و مقصود میں آسانی کا سبب بنتے ہیں ۔
ان کے بارے یہ یقین رکھنا کہ یہ " تقدیر " بدل دیتے ہیں ۔ اک غلط فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
تسبیح جو کہ سو دانوں ۔ تینتیس دانوں ۔ میں تقسیم اک مالا کی صورت ہوتی ہے ۔
اس کو جس غرض و غایت سے ہاتھوں میں رکھا جاتا ہے ۔ شاید ہی کسی سے مخفی ہو ۔
کسی نگینے سے جڑی انگوٹھی بھی اسی غرض و غایت کو پورا کرتی ہے ۔
علم الابجد جس میں علم جفر و علم الاعداد شامل ہیں ۔ اور جملہ ریاضی کی عمارت ان پر استوار ہے ۔
دست شناسی کا علم اس دلیل کے ساتھ مشتبہ ٹھہرتا ہے کہ
انسان کے ہاتھ کی لکیریں ماں کے بطن میں مٹھی کے بند رہنے پر وجود میں آتی ہیں ۔
اور یہ انسان کو اپنی مٹھی بند کرتے کسی شئے کو اپنی گرفت میں مضبوطی سے پکڑنے میں معاون ہوتی ہیں ۔
مگر کیسی عجیب بات کہ انگلیوں کی لکیریں ہر انسان کی الگ ہوتی ہیں ۔ اور ہر انسان کے ہاتھ کی لکیریں
اس کی زندگی کے ساتھ ساتھ ہر پل اک تبدیلی سے ہمکنار ہوتی ہیں ۔
ستاروں کا علم زمانہ قدیم سے انسانوں کو سمت کا تعین کرنے میں مددگار چلا آیا ہے ۔
علم صرف علم ہوتے ہیں ۔ اور انسان کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کا سبب ،
ان پر ایسا یقین رکھنا کہ یہ تقدیر بدل دیتے ہیں ۔ یا یہ غیب سے آگاہ کرتے ہیں ۔
ان کی حقیقت سے لاعلمی کا ثبوت ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
آپ کا مفصل جواب سر آنکھوں پر:)
پر شاید میں اپنی بات آپ کو سمجھانے میں ناکام رہا۔
میں تعلق جاننا چاہ رہا ہوں ہاتھ کی لکیروں اور قسمت کا
چلیں ایک با ت بتائیں
بنا ہاتھ والے کی قسمت کے بارے میں کیا کہیں گے ؟:sad:
 

نایاب

لائبریرین
آپ کا مفصل جواب سر آنکھوں پر:)
پر شاید میں اپنی بات آپ کو سمجھانے میں ناکام رہا۔
میں تعلق جاننا چاہ رہا ہوں ہاتھ کی لکیروں اور قسمت کا
چلیں ایک با ت بتائیں
بنا ہاتھ والے کی قسمت کے بارے میں کیا کہیں گے ؟:sad:
میرے محترم بھائی
ہاتھ کی لکیروں اور قسمت کا ربط صرف اتنا ہے کہ
ان لکیروں کا علم رکھنے والے ان لکیروں کو پڑھتے اپنے وجدان و قیاس کی مدد لیتے
ان کی اچھی بری قسمت کا قیافہ لگا سکتے ہیں ۔
جہاں تک بات ہے کہ قسمت ان کی بھی ہوتی ہے جن کے ہاتھ نہیں ہوتے
تو میرے محترم ہاتھ کی لکیروں کی طرح پیشانی کی لکیریں بھی کلام کرتی ہیں ۔
وجود انسانی پر موجود تل بھی بات کرتے ہیں ۔
مگر یہ رہنمائی کر سکتے ہیں صرف
قسمت نہیں بدل سکتے ۔
کوئی مریض ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے ۔ ڈاکٹر کسی بھی ٹیسٹ سے پہلے اپنی آنکھ پر بھروسہ کرتے
اس کے جسم کو چھوتے اس کی شکایت کو سنتے اس کے جسم پر موجود ظاہری علامات کو پڑھتا ہے
پھر ٹیسٹ لکھ دیتا ہے ۔ جو کہ ڈاکٹر کی نظر میں اس مرض سے منسلک ہوتا ہے ۔
اب ڈاکٹر پر حامل غیب ہونے کا عنوان چسپاں کرنا ۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 
ایک چیز ہوتی ہے جسے Hologram کہتے ہیں، اس پر waves interference کا مخضوص pattern ہوتا ہے، اس ہولوگرام کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ اسکے اگر ہزاروں ٹکڑے بھی کردئے جائیں، تو ہر ایک ٹکڑے پر وہ مخصوض پیٹرن پوری تفصیل کے ساتھ دستیاب ہوتا ہے۔۔مثلاّ آپ نے کسی سیب کا ہولوگرام امیج بنایا اور پھر اسکے نیگیٹو کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔۔۔مزیداری کی بات یہ ہے کہ اس نیگیٹو کے ہر ٹکڑے پر اس سیب کی تصویر اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ Recover کی جاسکتی ہے۔۔۔اسی طرح انسان کے ڈی این اے اور ہیومن جینوم کی مثال ہے کہ پورے جسم سے خواہ کسی بھی جگہ سے آپ کوئی سیل لیں،اس سے آپ انسان کا جینیٹک کوڈ ریکور کرسکتے ہیں۔۔۔ان مثالوں کے دینے کا مقصد یہ ہے کہ کائینات میں بھی کچھ اس قسم کا معاملہ جاری و ساری ہے، ایک ایٹم میں پوری کائنات، macrocasm in microcasm، عالم ِ صغیر یعنی انسان میں عالمِ کبیر یعنی کائنات کا ایک عکس موجود ہے۔ مخفی علوم کی رو سے یہ کائنات بھی ایک قسم کی ہولوگرام ہے، ایک آئینہ خانہ ہے، ۔۔۔دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان اللہ کی دین ہیں جنکو یہ تحفہ مل جائے، انہیں کسی بھی وسیلے سے علم ملنے لگتا ہے۔۔۔ یہ تاویل کا علم ہے، تعبیر کا علم ہ۔۔۔چنانچہ بقول اقبال:
خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر :)
 
Top