رات کی زلفیں بھیگی بھیگی اور عالم تنہائی کا

Shamshad Khan نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 25, 2020

  1. Shamshad Khan

    Shamshad Khan محفلین

    مراسلے:
    129
    رات کی زلفیں بھیگی بھیگی اور عالم تنہائی کا
    کتنے درد جگا دیتا ہے اک جھونکا پروائی کا

    اڑتے لمحوں کے دامن میں تیری یاد کی خوشبو ہے
    پچھلی رات کا چاند ہے یا ہے عکس تری انگڑائی کا

    کب سے نہ جانے گلیوں گلیوں سائے کی صورت پھرتے ہیں
    کس سے دل کی بات کریں ہم شہر ہے اس ہر جائی کا

    عشق ہماری بربادی کو دل سے دعائیں دیتا ہے
    ہم سے پہلے اتنا روشن نام نہ تھا رسوائی کا

    شعر ہمارے سن کر اکثر دل والے رو دیتے ہیں
    ہم بھی لئے پھرتے ہیں دل میں درد کسی شہنائی کا

    تم ہو کلیمؔ عجب دیوانے بات انوکھی کرتے ہو
    چاہ کا بھی ارمان ہے دل میں خوف بھی ہے رسوائی کا

    (کلیم عثمانی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. Shamshad Khan

    Shamshad Khan محفلین

    مراسلے:
    129
    ﮔﻼﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ , ﺷﺮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﮬﯿﮟ ، ﻻ ﺟﻮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻔﺖ , ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺕ
    ﺛﻮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ، ﻋﺬﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ، ﺑﻼ ﮐﯽ ﺷﻮﺧﯽ
    ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺮﺍﭘﺎ ﺣﺠﺎﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﮐﺒﮭﯽ ﭼُﮭﭙﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ ﺭﺍﺯ ﺩﻝ ﮐﮯ
    ﮐﺒﮭﯽ ﮬﯿﮟ ﺩِﻝ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﺟﮭﯿﻞ ﺟﯿﺴﯽ
    ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﺳَﺮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﻭﮦ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﮯ
    ﺣﻀﻮﺭ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ، ﺟﻨﺎﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﻋﺠﯿﺐ ﺗﮭﺎ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ
    ﺳﻮﺍﻝ ﮐﻮﺋﯽ ، ﺟﻮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﯾﮧ ﻣَﺴﺖ ﻣَﺴﺖ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﻧﺸﮯ ﺳﮯ ﮬﺮ ﺩﻡ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﺍُﭨﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﻮﺵ ﻭ ﮬﻮﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﯿﻨﯿﮟ
    ﮔﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ، ﮐﻤﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﮐﻮﺋﯽ ﮬﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﺮﻡ ﮐﺎ ﻃﺎﻟﺐ
    ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺷﻮﻕِ ﻭﺻﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﻧﮧ ﯾﻮﮞ ﺟﻼﺋﯿﮟ ﻧﮧ ﯾﻮﮞ ﺳﺘﺎﺋﯿﮟ
    ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﮬﮯ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺍِﮎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﯾﺎﺭﻭ
    ﯾﮧ ﺭُﻭﺡ ﭘﺮﻭﺭ ، ﺟﻤﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﺩَﺭﺍﺯ ﭘﻠﮑﯿﮟ ﻭﺻﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﻣﺼّﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
    ﺷﺮﺍﺏ ﺭَﺏ ﻧﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺮ ﺩﯼ
    ﻣﮕﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﺭکھیں ﺣﻼﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ؟
    ﮬﺰﺍﺭﻭﮞ ﺍِﻥ ﺳﮯ ﻗﺘﻞ ﮬُﻮﺋﮯ ﮬﯿﮟ
    ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ، ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
     
  3. Shamshad Khan

    Shamshad Khan محفلین

    مراسلے:
    129
    اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ تو میں تمہارا
    یا اس پہ مبنی کوئی تأثر کوئی اشارا تو میں تمہارا

    غرور پرور انا کا مالک کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے
    مگر قسم سے جو تم نے اک نام بھی پکارا تو میں تمہارا

    تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو میں جیسے چاہوں لگاؤں بازی
    اگر میں جیتا تو تم ہو میرے اگر میں ہارا تو میں تمہارا

    تمہارا عاشق تمہارا مخلص تمہارا ساتھی تمہارا اپنا
    رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمہارا تو میں تمہارا

    تمہارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پہ چھوڑتا ہوں
    اگر مقدر کا کوئی ٹوٹا کبھی ستارا تو میں تمہارا

    یہ کس پہ تعویذ کر رہے ہو یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے
    تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ تو میں تمہارا
    (عامر امیر)
     
  4. Shamshad Khan

    Shamshad Khan محفلین

    مراسلے:
    129
    عشق میں نے لکھ ڈالا قومیت کے خانے میں
    اور تیرا دل لکھا شہریت کے خانے میں

    مجھ کو تجربوں نے ہی باپ بن کے پالا ہے
    سوچتا ہوں کیا لکھوں ولدیت کے خانے میں

    میرا ساتھ دیتی ہے میرے ساتھ رہتی ہے
    میں نے لکھا تنہائی زوجیت کے خانے میں

    دوستوں سے جا کر جب مشورہ کیا تو پھر
    میں نے کچھ نہیں لکھا حیثیت کے خانے میں

    امتحاں محبت کا پاس کر لیا میں نے
    اب یہی میں لکھوں گا اہلیت کے خانے میں

    جب سے آپ میرے ہیں فخر سے میں لکھتا ہوں
    نام آپ کا اپنی ملکیت کے خانے میں
    (عامر امیر)
     
  5. Shamshad Khan

    Shamshad Khan محفلین

    مراسلے:
    129
    دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں
    مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو تم بھی ناں

    دے جاتے ہو مجھ کو کتنے رنگ نئے
    جیسے پہلی بار ملے ہو تم بھی ناں

    ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں
    مجھ میں ایسے آن بسے ہو تم بھی ناں

    عشق نے یوں دونوں کو آمیز کیا
    اب تو تم بھی کہہ دیتے ہو تم بھی ناں

    خود ہی کہو اب کیسے سنور سکتی ہوں میں
    آئینے میں تم ہوتے ہو تم بھی ناں

    بن کے ہنسی ہونٹوں پر بھی رہتے ہو
    اشکوں میں بھی تم بہتے ہو تم بھی ناں

    میری بند آنکھیں تم پڑھ لیتے ہو
    مجھ کو اتنا جان چکے ہو تم بھی ناں

    مانگ رہے ہو رخصت اور خود ہی
    ہاتھ میں ہاتھ لئے بیٹھے ہو تم بھی ناں
    (عنبرین حسیب عنبر)
     
  6. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,068
    موڈ:
    Asleep
    عاشق مزاج معلوم ہوتے ہیں شمشماد میاں۔
     
  7. Shamshad Khan

    Shamshad Khan محفلین

    مراسلے:
    129
    سید ذیشان آپ نے میرے نام کا کیا سے کیا بنا دیا؟

    اور ہاں میں عاشق مزاج بالکل بھی نہیں ہوں۔
     
  8. Shamshad Khan

    Shamshad Khan محفلین

    مراسلے:
    129
    گلی کے موڑ پہ بچوں کے ایک جمگھٹ میں
    کسی نے درد بھرے لے میں ماہیا گایا

    مجھے کسی سے محبت نہیں مگر اے دل
    یہ کیا ہوا کہ تو بے اختیار بھر آیا
    (احمد ندیم قاسمی)
     
    • غمناک غمناک × 1
  9. Shamshad Khan

    Shamshad Khan محفلین

    مراسلے:
    129
    تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا
    زخم دل کو کبھی اچھا نہیں ہونے دینا

    میں تو دشمن کو بھی مشکل میں کمک بھیجوں گا
    اتنی جلدی اسے پسپا نہیں ہونے دینا

    تو نے میرا نہیں ہونا ہے تو پھر یاد رہے
    میں نے تجھ کو بھی کسی کا نہیں ہونے دینا

    تو نے کتنوں کو نچایا ہے اشاروں پہ مگر
    میں نے اے عشق! یہ مجرا نہیں ہونے دینا

    اس نے کھائی ہے قسم پھر سے مجھے بھولنے کی
    میں نے اس بار بھی ایسا نہیں ہونے دینا

    زندگی میں تو تجھے چھوڑ ہی دیتا لیکن
    پھر یہ سوچا تجھے بیوہ نہیں ہونے دینا

    مذہب عشق کوئی چھوڑ مرے تو میں نے
    ایسے مرتد کا جنازہ نہیں ہونے دینا
    (عامر امیر)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  10. Shamshad Khan

    Shamshad Khan محفلین

    مراسلے:
    129
    ابهی مٹی گندهی ہے بس، ابهی تجسیم باقی ہے
    ابهی سانچے میں ڈهلنا ہے، ابهی ترمیم باقی ہے

    مرا دعوی ہے یہ لوگو محبت جانتی ہوں میں
    ابهی چار حرف سیکهے ہیں ابهی تفہیم باقی ہے

    زنجیرعشق میں جکڑی ابهی مقتل میں پہنچی ہوں
    ابهی تو ٹکڑے ہونے ہیں، ابهی تقسیم باقی ہے

    عجب عالم ہے دل کا بهی، اداسی موجزن سی ہے
    ابهی پت جهڑ کے ڈیرے ہیں ابهی تسنیم باقی ہے

    ابهی دربار الفت کے ہیں مجهکو سیکهنے آداب
    بجا لانا ہے حکم شاہ، ابهی تعظیم باقی ہے

    ابهی میں اسکی راہوں میں بچهاتی ہوں فقط پلکیں
    ہے باقی جان کا صدقہ، ابهی تکریم باقی ہے
     
  11. Shamshad Khan

    Shamshad Khan محفلین

    مراسلے:
    129
    کوئ فرخ منظور صاحب ہیں،جنہوں نے اس غزل کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
    مہربانی فرما کر وضاحت فرما دیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر