رات جب جاگتی ہے

رات جب جاگتی ہے تو گل لالہ کی سرخ سرخی اور پھیکی خوشبو سیاہ اور بے بُو پھولوں کے خواب دیکھتی ہے۔اسکے آنچل سے چپکے کچھ بھٹکے شاعر،آوارہ عاشق نامراد راہی اندھیروں کی روشنیوں کے دعویدار بنے ہیں۔سورج کی حرارت کی طاقت سے مرعوب لوگ اسے نہ صرف حیات کا راز گردانتے ہیں بلکہ رات کے پچھلے پہروں میں بھی چاند اور ستاروں میں اسکا عکس ان کیلئے تسکین کا سامان ہے۔دن کی روشنی میں رہنے والے رات کے رکھوالے اس قدر فکری اندھے پن کا شکار ہیں کہ ٹوٹے جذبوں کی قبریں بھی چاند اور ستاروں میں بناتے ہیں۔یہاں تک کہ تخیل بھی حرارت کی آسائشوں کا اثیر ہے۔
رات جب جاگتی ہے تو اسکو رات کہنے والے سہمے سہمے مصنوعی روشنیوں سے نگاہوں کی خیرات مانگنے نکل پڑتے ہیں۔رات کے سورج کو دیکھنے کیلئے روشنیوں کی محتاج آنکھیں ہرگز درست انتخاب نہیں۔ اندھیروں کا کوئی پالنے والا ہوتا تو ان بے قدروں پر یہ نعمت ضرور تنگ کر دیتا۔
 
اس قدر فکری پن کے شکار کیوں تهے
یہ حصار رات میں اتنے انبار کیوں تهے
ہر دلجوئی والے کی شکل کریہہ ہے
عجیب قدرت کے یہ کارزار کیوں تهے
 
Top