دیتا رہا دہائی یہ سودائی دیر تک

دیتا رہا دہائی یہ، سودائی دیر تک
رہتی نہیں ہے ساتھ یہ دانائی دیر تک
بہت خوب
شب پردۂ ِحیات پہ رقصاں رہی اجل
بیٹھے رہے تھے پاس ، تماشائی دیر تک
بے حسی ہائے ہائے۔۔۔تماشائی تماشہ دیکھ کر لطف لیا اور چلتے بنے۔۔کوئی سبق نہیں کوئی نصیحت نہیں کوئی تیاری نہیں ۔۔
کمبخت تیری یاد نے قبلہ بھلا دیا
روئی صفِ مجاز میں تنہائی دیر تک
واہ واہ کیا کہنے ۔۔۔
المٰی فریبِ عشق میں پھر آ گیا ہے دل
ہر چند بات اُس کو تھی سمجھائی دیر تک
سچی؟؟؟
پھر بھی سمجھ نا پایا جو پھر فریب میں آگیا ۔۔۔لازوال ۔

بہت اعلیٰ ڈھیروں داد وصول کریں ۔۔۔
خوش رہیں سلامت رہیں۔۔۔
 

La Alma

لائبریرین
بہت خوب

بے حسی ہائے ہائے۔۔۔تماشائی تماشہ دیکھ کر لطف لیا اور چلتے بنے۔۔کوئی سبق نہیں کوئی نصیحت نہیں کوئی تیاری نہیں ۔۔

واہ واہ کیا کہنے ۔۔۔

سچی؟؟؟
پھر بھی سمجھ نا پایا جو پھر فریب میں آگیا ۔۔۔لازوال ۔

بہت اعلیٰ ڈھیروں داد وصول کریں ۔۔۔
خوش رہیں سلامت رہیں۔۔۔
غزل کی پسندیدگی کے لیے سپاس گزار ہوں .
 

عاطف ملک

محفلین
La Alma جی!
بہت خوب لکھتی ہیں آپ۔ ماشا اللہ۔۔۔۔۔۔سبھی اشعار زبردست ہیں۔
بالخصوص مقطع لاجواب ہے۔
ڈھیروں داد اور بہت سی دعائیں آپ کے لیے۔
 
بہت خوب المٰی۔
ماشا اللہ عمدہ غزل ہے۔ ریحان صاحب کے مشورؤں پر ایک بار توجہ کیجیئے گا۔
مقطع خاص طور سے پسند آیا !
خوبصورت غزل کے لئے ڈھیروں داد !
 
Top