دستِ دولت تیری اوقات پہ خاک

میرے دشمن کی نئی گھات پہ خاک
دورِ الفت کے واقعات پہ خاک

میرے کاسے میں فقط حسرت ہے
دستِ دولت تیری اوقات پہ خاک

تیرے ماتھے پہ شکن آئی تھی
بندہ پرور! تیری خیرات پہ خاک

التجائیں قبول تک نہ گئیں
میری حالت، میرے حالات پہ خاک

غلام مجتبٰی ملک
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
السلام علیکم
شوکت پرویز بھائی اور غلام مجتبیٰ ملک صاحب ۔۔۔اپنی اصلاح کے لئے یہ پوچھ رہا ہوں۔



دستِ دولت تیری اوقات پہ خاک

بندہ پرور! تیری خیرات پہ خاک​
میری حالت، میرے حالات پہ خاک​
یہاں "تری، مرے" آئے گا شاید۔ شاید غلام مجتبیٰ ملک صاحب سے ٹائپو ہو گیا ہے۔ بہرحال آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔


دورِ الفت کے واقعات پہ خاک​

التجائیں قبول تک نہ گئیں​

میرے حساب سے اس غزل کے باقی مصرع
فاعلاتن فَعِلاتن فَعِلان، فَعِلن، فعلن
پہ تقطیع ہو رہے ہیں لیکن ان دونوں مصرعوں کی تقطیع نہیں ہو رہی مجھ سے:(
 

الف عین

لائبریرین
بھائی اس غزل میں دو بحروں کا ملغوبہ ہے جس میں اکثر مبتدی غلطی کرتے ہیں۔
فاعلاتن فعلاتن فعلن
اور فاعلاتن مفاعلن فعلن (بقول آسی بھائی کے فاعلن فاعلتن فاعلتن)
ویسے اچھی غزل ہے اور ماشاء اللہ بڑے اعتماد کے ساتھ پوسٹ کی گئی ہے۔
 
Top