"دارو رسن" میں موت کی بازگزشت (کرداری نفسیات کے آئینے میں)۔۔۔ محمد خرم یاسین

ایک جلاد "جما" شادی کی پہلی رات اپنی نئی نویلی دلھن کو پھانسی کی ایسی ایسی دلدوز کہانیاں سناتا ہے کہ وہ بیچاری خوف اور وحشت کے مارے بے ہوش ہوجاتی ہے۔ جمے کے ہر کارنامے کی کہانی جس میں کسی میت کی آنکھیں ابل کر باہر آجاتی ہیں، کہیں زبان لٹک جاتی ہے اور کہیں گردن ڈھلک کر توری کی طرح لمبی ہوجاتی ہے، اس کی بیگم کو نیم پاگل کردیتی ہے اور وہ ہوش میں آنے کے بعد جمے سے لہک لہک کر پوچھتی ہے کہ کس کی کتنی گردن لمبی ہوئی، کس کی آنکھوں سے کتنا خون بہہ نکلا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ جما تو عرصہ حیات پورا کرکے مر جاتا ہے، نیم پاگل بیگم زندہ رہتی ہے اور بیٹے کو اس کی مرضی کے خلاف اسی کام پہ لگا دیتی ہے۔ نتھو یہ کام کرتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بجھتا چلا جاتا ہے۔۔۔ ماں اپنے پاگل پن میں یہ سب سمجھ نہ پاتی ہے اور بیٹے سے مختلف مزاج پوتے خیرو کو بھی موت کی کہانیاں سنا سنا کر نڈر کردیتی ہے۔ خیرو بے دردی سے دوست کا قتل کردیتا ہے اور باپ نتھو اسے اپنے ہاتھوں سے پھانسی دینے کے بعد خود بھی جان دے دیتا ہے۔۔۔احمد ندیم قاسمی کے اس افسانے "دارورسن" میں گھر کے سربراہ کے پاگل پن کو تین نسلوں میں منتقل ہوتے دکھایا گیا ہے۔۔۔ یہ ایک جلاد ہی نہیں، ایسے ہزاروں پاگل ہمارے اداروں، خاندانوں، قبیلوں اور نجانے کہاں کہاں اپنے پاگل پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جو حق اور سچ کو نہ سننا چاہتے ہیں، نہ قبول کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی ذات سے باہر نکل کر اجتماعی بہبود کو کسی خاطر میں لاتے ہیں۔۔۔افسوس اس بات کا ہے کہ ان میں سے اکثر کو یہ اندازہ بھی نہیں ہے کہ وہ کتنے لوگوں کی زندگیاں برباد کرچکے ہیں اور کر رہے ہیں۔
الیکشن 2024 کی ٹریننگ میں میری کلاس میں FBR کے کچھ انسپکٹرز بھی شامل تھے۔ نائب قاصد جب چائے لایا تو ان میں سے ایک کی فرمائش کے برخلاف اس نے نہایت عاجزی سے درخواست کی کہ وہ پہلی کلاس سے فارغ ہوکر ہم سب کے لیے چائے لاتا ہے۔ اس پر انسپکٹر حضرات کا پارہ چڑھ گیا اور انھوں نے نہ صرف اسے دھمکیاں دیں، برا بھلا کہا بلکہ اس کی باقاعدہ شکایت بھی کرنے چل پڑے۔ میرے سمجھانے پر انھوں نے جو جملہ کہا وہ ہمارے اجتماعی لاشعور پر بہت سے سوالات اٹھاتا ہے۔"ہم کوئی یونیورسٹی ٹیچر نہیں ہیں جو کسی سے دب کے رہیں"۔ تو بات محض سربراہان تک محدود نہیں رہتی اس سے نیچے اور بہت آگے کلرک بادشاہ تک پہنچتی ہے۔۔۔ بہرحال میں نے اس افسانے کے کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ کیا تھا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ ہم پر پیشے کس قدر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسے آپ اوپر دیے گئے لنک سے ڈاؤن لوڈ کرکے پڑھ سکتے ہیں۔
 
Top