خوشامد

جیسے انسان نے ہر شعبے میں نت نئی ایجا دات کی ہیں ویسے ہی ہتھیا روں کی بھی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ نئے نئے طریقے اور مہارتیں- مقصد یہ ہے کہ ہتھیار کی کاٹ کو تیز سے تیز تر اور اس درجہ مہلک کر دیا جائے کہ کوئی دوسرا آپ کے سامنے پر بھی نہ مارے- بات پتھر کے تراشے ہوئے بھالوں سے چلی اور تیر کمان سے ہوتی ہوئی میزائل اور راکٹ تک آ پہنچی- تلواروں کا زمانہ گزرا اورگولی اور بارود نے اپنا رنگ دکھایا – ہائڈروجن بم ، کیمیا ئی گیسیں اور نہ جانے کیا کیا – کوشش یہی ہے کی دوسرے کو مطیع کیا جائے اور اپنا کام نکالا جائے۔

لیکن ایک ہتھیار انسان کے پاس ایسا ہے جو ان سب پہ بھاری ہے- بڑے بڑے شہنشاہ ، جنگجو، اکھڑ مزاج اور طرم خاں اس کے آگے بے بس ہیں- بس اس کا صیح اور بر وقت استعمال آنا چا ہئیے – اور غٖضب تو یہ کہ طریقہ واردات بھی وہ ہی زمانہ قدیم والا ہے- کیا کمال کی کاٹ ہے اور وار ایسا کہ کوئی دم نہیں مارتا- ایسے ایسے کام نکل آتے ہیں جو کسی پستول سے تو کیا توپ سے بھی نہ ہوں- بعض دلیر لوگ تو اڑ جاتے ہیں نہ خنجر سے ڈرتے ہیں نہ گولی سے مگر اس ہتھیار کے آگے رام ہو جاتے ہیں- اور کیا بھلا سا نام رکھا ہے کسی نے ۔ خوشامد ۔ اس کے استعمال میں مہارت رکھنے والا خوشامدی کہلاتا ہے اور کمال مہارت رکھنے والا چاپلوس جو خو شامدی سے تھوڑا آگے کی چیز ہوتا ہے-

اگرچہ ممکن ہے کی قدرت نے ہر انسان کو خوشامد نامی ہتھیار سے لیس کیا ہو لیکن اسے برتنا اور فائدہ اٹھانا ہر کوئی نہیں جانتا- بس خوشامدی ہی جانتا ہے – کہاں ہلکی سی تعریف کرنی ہے اور کہاں آسمان پہ چڑھانا ہے – کس کی چغلی کرنی ہے اور کسے فرشتہ بنانا ہے - صاحب کی کس خوبی کو کس وقت یاد کروانا ہے اور کس کمی کوتاہی کو امر ربی میں چھپانا ہے- کب جوتوں کی تعریف کرنی ہے اور کب بالوں پہ مکھن لگانا ہے- یہ بس خوشامدی ہی جانتا ہے- ایسے ایسے لفظوں اور فقروں کے تیر چلاتے ہیں جو سیدھا مخاطب کے دل میں جا لگتے ہیں – اب ان سے کون بچے اور کیسے بچے جب دل یہ کرتا ہے کہ خوشامدی بولتا چلا جائے اور انسان سنتا چلا جائے- جس تیر کو نشانہ خود تلاش کرے اس کی کاٹ میں کیا بھلا کوئی کمی ہو گی-

آپ گہرے رنگ کے کپڑوں میں بجو لگ رہے ہوں لیکن خوشامدی آپ کی روشنی سے کمرے کو معمور کر دے گا اور ظاہر ہے آپ اس کی جھولی کو خالی تھوڑا رکھیں گیں- آپ سفید رنگ کے سوٹ پہ سرخ رنگ کی ٹائی لگا لیں اور پیلے جوتے پہن لیں پھر بھی خوشامدی آپ کے انتخاب کی ایسے داد دے گا کہ آپ اپنی وجاہت پہ اتراتے پھریں گے- ساری دنیا زیر لب مسکرائے گی اور آپ خوشامد کے وار تلے بے خود اپنے آپ کو خیالی حسینوں کے جھرمٹ میں پائیں گے۔

ارے صاحب ہم اور اپ کس کھیت کی مولی ہیں یہاں تو بڑے بڑے دبنگ بادشاہ ، راجے مہاراجے ، کیا عوام اور کیا خواص سب اس ہتھیار کے محکوم ہیں- دیکھا جائے تو دنیا کے اصل فاتح تو یہی خوشامدی اور چاپلوس ہیں- اور بھلا کیوں نہ ہوں کہ یہ دِلوں کو فتح کرتے ہیں- مجال ہے جو ان کا شکار ان سے دور ہو جائے- لوگوں نے تو جاگیریں تک ان کے نام کر دیں – سلطنتوں سے ہاتھ دھو لئیے – ملکوں کو تباہ و برباد کروا لیا لیکن خوشامدیوں سے دور نہ ہوئے-

طریقہ ہائے واردات بھی بہت دلچسپ ہوتے ہیں- ذرا غور فرمائیں توآپ کو کئی میدانِ کارزار نظر آیئں گے جہاں خوشامد کے تابڑ توڑ معرکے لڑے جا رہے ہوتے ہیں- آج کل کے ٹی وی ٹاک شوز میں کمال کے ہتھیار باز ملیں گے- ایسے ایسے منجھے ہوئے خوشامدی اور چاپلوس اور کہیں شائد ہی نظر آئیں- اپنے اپنے لیڈران کی ایسی ایسی خوبیاں بیان کرتے ہیں کہ اکثر اوقات تو ان کے فرشتہ ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے کہ انسان تو بہر حال خطا کا پتلا ہے- لاکھ کوشش کرے پھر بھی کوئی ایک آدھ غلطی ہو ہی جاتی ہے- ان ہتھیار بازوں کے اصل کمالات تب کھلتے ہیں جب وہ پارٹی بدلتے ہیں – بس پھر کیا – پہلے جس لیڈر سے نظام عالم رواں تھا وہ ہر خرابی کی جڑ ٹھہرا اور جس کے جناب روز لتّے لیتے تھے اسے سر آنکھوں پہ بٹھایا- ہر کوئی اپنے لیڈر کی گڈی دوسرے سے اوپر چڑھانے کی کوشش میں خوشامد کے ایسے ایسے جوھر دکھاتا ہے کہ دیکھنے اور سننے والا بیچارہ شرمندہ ہونے لگتا ہے – مگر مجال ہے جو خوشامدی کے چہرے پہ شرم نام کی کسی چیز کا شائبہ تک بھی محسوس ہو- دراصل جیسے جیسے خوشامد میں مہارت پیدا ہوتی جائے گی شرمندگی کا عنصر خوشامدی سے ختم ہوتا جائے گا-

اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں خاص طور پر لوکل اخبار- چلیں چاند سے بیٹے کی مبارک تو بنتی ہے لیکن نئے ماڈل کی گاڑی پر مبارک باد کے اشتہارات کی تک سوائے اس کے سمجھ نہیں آتی کی صاحبِ سواری کے دل تک براستہ اخبار رسائی حاصل کی جائے- ان اخبارات کو دیکھ کے لگتا ہے کہ ممتاز کاروباری شخصیات اور اعلی سیاسی و مذہبی قائدیں کے ساتھ تصویروں کی اشاعت ہی ہمارا مقصد حیات ہے- کچھ لوگ تو ایسے موقع پر اس فاتحانہ طمطراق سے مسکرا رہے ہوتے ہیں جیسے دم نکلنے سے پہلے آخری خواہش پوری ہو جائے-

ویسے تو خوشامد نامی ہتھیار دنیا کے ہر معاشرے اور تاریخ کے ہر موڑ پر استعمال ہوتا آیا ہے لیکن جہاں لوگ محنت سے زیادہ چاپلوسی پہ یقین رکھتے ہوں وہاں یہ بہت کثرت سے نظر آتا ہے- ہم اپنے ارد گرد پھیلی خوشامد سے اندازہ کر سکتے ہیں یہاں میرٹ پہ کیا گزرتی ہو گی اور فیصلے کس بنیاد پہ ہوتے ہوں گے-
 
Top