خواجہ سرا

arifkarim

معطل
مغل دور یا سلاطینِ دہلی کے دور میں کئی خواجہ سرا سپہ سالار کے عہدے پر فائر رہے ہیں جیسے علاء الدین خلجی کے زمانے میں ملک عنبر خلیجی کا دایاں بازو بنتے ایک بہت اچھا جنگجو تھا ۔
یہی مثال کافی ہے خواجہ سراؤں کو جسمانی معذوری سے آزاد ثابت کرنے کیلئے۔ ہجڑوں کی فوج جیسے گھسے پٹے محاورے کئی سالوں سے جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ اب انہیں بند ہونا چاہئے۔ خواجہ سرا ہر شعبہ زندگی میں بلا امتیاز کام کر سکتے ہیں اگر اکثریتی جنس والے انہیں مناسب مواقع فراہم کریں بجائے انکی تضحیک کرنے کے۔
 
خواجہ سراؤں کی زندگی پر ایک فلم بھی بنی ہے ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری والوں نے بنائی ہے جو کافی بہتر انداز میں خواجہ سراؤں کی مشکل زندگی کی عکاسی کرتی ہے
images

یہ فلم ہندی ڈبنگ میں بھی موجود ہے یوٹیوب پر
 

عبیر خان

محفلین
میری شادی ہونے والی تھی اور شاپنگ کے سلسلے میں روز مارکیٹ آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ایک روز شاپنگ کے دوران ہم گزر رہے تھے کہ راستے میں مردوں کا ایک ٹولہ نظر آیا۔ ان سے چند ہی قدم دور ایک خواجہ سرا آرہا تھا۔ جب وہ قریب سے گزرا تو مردوں نے اپنی اوقات دکھاتے ہوئے فقرے کسے ، ایک صاحب تو اپنی اوقات سے بھی باہر نکلے اور اسے چھوا۔ وہ غصے میں بڑبڑاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ میری آنکھوں نے یہ منظر دیکھا اور آج بھی ان میں قید ہے ، اسوقت میں نے اپنے صحیح سلامت ہونے پر خدا کا شکر ادا کیا، مگرساتھ ساتھ اس خواجہ سرا کی بے بسی پر ترس آیا اور ان مردوں کے ٹولے پر انتہائی غصہ۔
لیکن میری اور میرے غصے کی کیا اووقات۔ یہ معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے ، یہاں مردوں کی حکومت ہے۔ اور جب حاکم طاقتور اور محکوم کمزور ہو تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جیت کس ہے! کچھ دن پہلے خواجہ سرا علیشہ امسال کاپشاور میں قتل ہوا جس کی عمر صرف پچیس سال تھی۔لوگ قتل کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں، جیسے کہ بھتہ نا دینے پر، ناچنے کے بعد نیم عریاں تصویریں نا بنوانے پر، اور کچھ صرف یہ کہتے ہیں کہ ایک مشتعل شخص نے علیشہ کو آٹھ گولیاں ماریں ۔
جس کے بعد اسے اس کے ساتھی اٹھا کر لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے گئے جہاں پر ڈاکٹرز اور مریضوں کے ساتھ آئے ہوئے لواحقین نے ان پر فقرے کسے۔
آہ۔ میرا جی چاہتا ہے کہ چیخوں ، چلاؤں ، زور زور سے روؤں ۔ کوئی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو اور اس کے ساتھ یہ سلوک۔ کیسے کیسے جانور جنم دئیے گئے ہیں اس دنیا میں ، انسانوں کے روپ میں درندے ۔ کہا جاتا ہے کہ اسے میڈیکل ٹریٹمنٹ نہیں دیا گیا ، مرد وں اور عورتوں کے وارڈ میں رکھنے کی اجازت نہیں مل سکی۔ کچھ کہتے ہیں کہ ہسپتال کے غسل خانے کے سامنے اس نے دم توڑ دیا ، اور کچھ کہتے ہیں کہ ہسپتال کے باہر درخت کے نیچے۔ اور کچھ یہ کہتے ہیں مردوں اور عورتوں کے وارڈ میں جگہ نہ ملنے کے بعد اسے ایک الگ کمرے میں منتقل کر دیا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ۔
ہوتے ہیں پائمال تو کہتے ہیں زرد پھول
کل رحمت عمیم کا ہم پر بھی تھا نزول
یاران بوستان میں ہمارا بھی تھا شمول
اے راہ رو، نہ ڈال ہمارے سروں پہ دھول
ہر چند انجمن کے نکالے ہوئے ہیں ہم
لیکن صبا کی گود میں پالے ہوئے ہیں ہم

ڈاکٹر ز نے اپنی پریس کانفرنس میں ان تمام باتوں کو بے بنیاد کہا ہے ۔
سننے میں آیا ہے کہ کسی ڈاکٹر نے خواجہ سرا سے یہ بھی پوچھا کہ صرف ناچتے ہو یا کسی رات کے لئے بھی میسر ہو ، معاوضہ کیا ہے؟
میں نے جو کچھ لکھا ہے صرف سنا ہے ، خبروں میں ، لوگوں سے ، فیس بک پر۔
اس وقت میں یہ سوچ رہی ہوں کہ اگر میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہوتا تو میرا دل پھٹ نہیں جاتا ؟ ایک انسان جس کو آٹھ گولیاں لگی ہوں، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو، اور اسے اس کے وجود پر گالی دی جائے، مذاق اڑایا جائے ، بہت اچھا ہوا علیشہ مر گئی۔ جاتے جاتے تکلیف میں اس کی جان نکلی ہو گی پر ہر روز کی مو ت سے ایک د ن مر جانا بہتر ہے۔
کیسے لوگ ہیں ہم۔ یہ خواجہ سرا بھی ہم ہی انسانوں میں سے کسی کے وجود کا حصہ ہے ، انہیں جنم دے کر فٹ پاتھوں پر چھوڑ آنے والے اپنے آپ کو گالی کیوں نہیں دیتے ؟ سب سے بہتر وہ ان کے ساتھ یہ کر سکتے ہیں کہ انہیں پیدا ہوتے ہی مار دیں ۔ انہیں ہر روز مرنے کی اس اذیت سے نجات دلا دیں۔
ہم شدت اور انتہا پسند قوم ، حوصلے اور ظرف سے گرے ہوئے لوگ، ہم فرقوں میں بٹے مغرور لوگ۔ ہم خواجہ سراؤں کو کہاں برداشت کریں گے ۔ اتناحوصلہ آسمانوں سے بھی نہیں اترے گا ہم سب کے لئے۔
ہم دراصل اس زمین کے مالک بن گئے ہیں ، اور جس کی ملکیت ہے اسے بھول گئے ہیں ،نہ صرف اس زمین کے بلکہ اس پر رہنے والوں کے بھی۔ اس زمین پر ہم اپنی مرضی کا راج چاہتے ہیں ، اپنی مرضی کے لوگ، مذہب ، ذات پات، فرقے، اور جنس ہر چیز پر اپنی بادشاہت کا سکہ جمانا ہے ہمیں۔ وہ کون ہوتا ہے جس نے خواجہ سراؤں کو بنایا، خواجہ سراؤں کو کوئی حق نہیں کہ وہ عزت کی زندگی گزاریں انہیں ذلیل ہونا ہے ، اور ذلیل کرنے کے لئے ہم ابھی اس خطے پر موجود ہیں۔
میں تو اس تکلیف کا اندازہ بھی کرنے سے قاصر ہوں جو اُن سب کو اس وقت ہوئی ہوگی۔ علیشہ کے مرنے کے بعد وہ سب لوگ اپنے وجود کو بدعا بنا کر ظلم کرنے والوں کو دیتے رہے۔کیسی تکلیف ہے ، سن کر ہی دل اچھل کر حلق میں آجاتا ہے ، ہم کسی کے سامنے اپنے عزت نفس کے لٹ جانے پر شور مچاتے ہیں روتے ترپتے ہیں اور کہاں بیچارے وہ لوگ اپنے کو وجود کو بدعا بنا کر ظالموں کو دیتے ہیں۔کوئی کیسے اپنے وجود کو گالی دے سکتا ہے ؟ اور کس حوصلے سے ؟!!!!
ایک خواجہ سرا کی فریاد۔۔۔۔۔
نہ میں پتر نہ میں دھی آں
نہ میں دھرتی نہ میں بی آں
میں وی ربا تیرا ہی جی آں
توں ای مینوں دس میں کی آں ؟
اللہ ہی ہدایت دے ہمیں۔ :(
 

فاتح

لائبریرین
عارف، آپ لفظ معذوری پر اٹک گئے ہیں۔ معذوری صرف ٹانگ یا بازو کٹے ہونے کو ہی نہیں کہا جاتا بلکہ ہر وہ شخص معذور ہے جس کے پاس کوئی عذر موجود ہے۔ مثلاً محمد وارث بھائی معذور ہیں اپنی بات آپ کو سمجھانے سے اور آپ معذور ہیں ان کی بات سمجھنے سے۔
رہی بات ہم جنس پرستوں کی تو جزوی طور پر تو "شاید" اسے جینیاتی یا پیدائشی کہا جا سکتا ہے لیکن اکثر کے ہاں یہ ایک اختیاری شے ہے خصوصاً ان معاشروں میں جہاں مرد و عورت کا آزادی سے ملنا مشکل ہے مثلاً پاکستان۔ ایسے معاشروں میں یہ پیدائشی سے کہیں زیادہ اختیاری عمل ہوتا ہے کہ اس کے علاوہ کچھ میسر نہیں۔ میں کوئی پرسنٹیج یا شرح معین تو نہیں کر سکتا لیکن پاکستان میں ایسے لوگوں کی شرح بہت زیادہ ہے یا کم از کم آپ کی سوچ سے کہیں زیادہ ہے جو ہم جنس پرستی کو ایک متبادل کے طور پر اختیار کرتے ہیں۔
اب ایسے اختیاری عمل والوں کو "بے چارے" اور "مظلوم" کے ٹیگز لگا کے انہیں جینوئنلی مظلوم اور بے چارے خواجہ سراؤں کے ساتھ زبردستی شامل کر کے ان کے بھی "حقوق" کی بات کرنا درست نہیں لگتا۔ اس طرح آپ یا دیگر دوست ہم جنس پرستوں کے حق میں تو کچھ بھلا کر رہے ہوں یا نہیں لیکن ان جینوئن انسانوں یعنی مظلوم خواجہ سراؤں کا کیس ضرور کمزور کر رہے ہیں۔
 

فاتح

لائبریرین
خواجہ سرا.. کوئی define کرے برائے مہربانی کے یہ لفظ درحقیقت کن کے لیے یا کن معنوں میں استعمال ہوتا ہے
خواجہ سرا ان مردوں کو کہا جاتا تھا جنہیں بادشاہ اپنے محلوں میں خدمت سر انجام دینے کے لیے خصی کر دیا کرتے تھے۔
گو کہ یہ لفظ درست طور پر تیسری جنس کی ترجمانی نہیں کرتا لیکن فی الوقت موجود الفاظ میں سے با عزت ترین یہی نظر آتا ہے ورنہ ہیجڑا، کھسرا، زنخا، نامرد، زنانہ، وغیرہ جیسے الفاظ میں تحقیر و تضحیک شامل ہے۔
 

لاریب مرزا

محفلین
بہت افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی بھی انسان محفوظ نہیں ہے۔ خواجہ سرا پہلے ہی فطرت کی ستم ظریفی کا شکار ہوتے ہیں اس پر انسانوں کا ان کے ساتھ یہ رویہ!!
اللہ تعالیٰ سب کی ہدایت کے رستے پر رہنمائی فرمائیں۔ آمین
 

لاریب مرزا

محفلین
خواجہ سراؤں کی زندگی پر ایک فلم بھی بنی ہے ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری والوں نے بنائی ہے جو کافی بہتر انداز میں خواجہ سراؤں کی مشکل زندگی کی عکاسی کرتی ہے
images

یہ فلم ہندی ڈبنگ میں بھی موجود ہے یوٹیوب پر
کافی عرصہ پہلے پاکستان میں "جنجال پورہ" کے نام سے ایک ڈرامہ بھی لگتا تھا جن میں خواجہ سراؤں کی زندگی کی مزاح کے رنگ کے ساتھ عکاسی کی گئی تھی۔
 

حسن ترمذی

محفلین
خواجہ سرا ان مردوں کو کہا جاتا تھا جنہیں بادشاہ اپنے محلوں میں خدمت سر انجام دینے کے لیے خصی کر دیا کرتے تھے۔
گو کہ یہ لفظ درست طور پر تیسری جنس کی ترجمانی نہیں کرتا لیکن فی الوقت موجود الفاظ میں سے با عزت ترین یہی نظر آتا ہے ورنہ ہیجڑا، کھسرا، زنخا، نامرد، زنانہ، وغیرہ جیسے الفاظ میں تحقیر و تضحیک شامل ہے۔
ایک اور سوال ۔۔ کیا واقعی انسانوں میں مرد و عورت کے علاوہ کوئی تیسری جنس Exist کرتی ہے یا صرف عورت کا روپ دھارنے والے یا پرانے دور میں بادشاہوں کے طرف سے خصی کیئے جانے والے مردوں کے لیئے یہ لفظ استعمال کیا گیا ۔۔
 

فاتح

لائبریرین
ایک اور سوال ۔۔ کیا واقعی انسانوں میں مرد و عورت کے علاوہ کوئی تیسری جنس Exist کرتی ہے یا صرف عورت کا روپ دھارنے والے یا پرانے دور میں بادشاہوں کے طرف سے خصی کیئے جانے والے مردوں کے لیئے یہ لفظ استعمال کیا گیا ۔۔
اگر آپ اس لفظ کی بات کرتے ہیں تو جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہ بادشاہوں کے ظلم کا شکار ان مردوں کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔
اور اگر آپ تیسری جنس کے وجود کے متعلق شبہے کا شکار ہیں تو یقیناً یہ موجود ہیں اور ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ہاں، جیسے باقی ہر جگہ دھوکے بازوں کی کمی نہیں ویسے ہی یہاں بھی دھوکے باز موجود ہیں جو مرد ہوتے ہوئے بھی میک اپ کر کے زنخے بن جاتے ہیں اور بھیک مانگتے ہیں۔
 

فاتح

لائبریرین
خواجہ سراؤں کی زندگی پر ایک فلم بھی بنی ہے ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری والوں نے بنائی ہے جو کافی بہتر انداز میں خواجہ سراؤں کی مشکل زندگی کی عکاسی کرتی ہے
images

یہ فلم ہندی ڈبنگ میں بھی موجود ہے یوٹیوب پر
ہالی وڈ نے 1992 میں Immaculate Conception کے نام سے ایک فلم بنائی تھی جس میں خواجہ سراؤں کے گرو کا کردار ضیا محی الدین نے ادا کیا تھا اور شبانہ اعظمی بھی تھی اس فلم میں ۔
 

یاز

محفلین
خواجہ سرا ان مردوں کو کہا جاتا تھا جنہیں بادشاہ اپنے محلوں میں خدمت سر انجام دینے کے لیے خصی کر دیا کرتے تھے۔
گو کہ یہ لفظ درست طور پر تیسری جنس کی ترجمانی نہیں کرتا لیکن فی الوقت موجود الفاظ میں سے با عزت ترین یہی نظر آتا ہے ورنہ ہیجڑا، کھسرا، زنخا، نامرد، زنانہ، وغیرہ جیسے الفاظ میں تحقیر و تضحیک شامل ہے۔
معلومات بہم پہنچانے کا شکریہ جناب۔
انگریزی میں اس کے لئے کونسا لفظ درست ہے؟
 
مغل دور یا سلاطینِ دہلی کے دور میں کئی خواجہ سرا سپہ سالار کے عہدے پر فائر رہے ہیں جیسے علاء الدین خلجی کے زمانے میں ملک عنبر خلیجی کا دایاں بازو بنتے ایک بہت اچھا جنگجو تھا ۔ خواجہ سراؤں کی تحقیر کی بنیاد ان کا کوئی پیشہ نہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔ زمانے کی ٹھوکروں پر پلنے والے ، ان کی توجہ پانے کے لیے میک اپ اس طرز کا کرتے ہیں کہ عام لوگ ان کو ہجو کرتے ہیں ۔ میرا خیال ان کو مناسب پیشے اور تعلیم حاصل کرنے کے سلسلے میں حکومتی جانب سے اقدامات ضروری ہے ۔ اللہ ہم سب کو دوسروں کی ہجو سے محفوظ رکھے ۔ قران پاک میں سورہ الحجرات میں ایک دوسرے کی تحقیر پر منع کرنے کا سختی سے حکم ہے ۔ یورپ کی قانون سازی کب ہوئی مگر ہمارے پاس اللہ کا دیا قانون تو بہت پہلے سے موجود ہے
سعدیہ بہنا جو سیدھی سادہ بات وارث بھائی کہہ رہے ہیں وہ ہر دھاگے کا موضوع بدلنے میں ماہر نا سمجھوں کی سمجھ میں نہیں آ رہی ۔ میری بہن آپ تاریخ لکھو تو ادھر ادھر سے بلا تحقیق کاپی پیسٹ نہ کیا کریں ۔تاریخی بات لکھیں تو ساتھ مستند حوالہ دیا کریں ، ملک عنبر کسی افسانے کی کہانی ہو سکتی ہے ۔ علاؤ الدین کے ہم جنس پرست لاڈلے وزیر کا اصل نام ملک کافور ہزار دیناری اور اس کے بعد سلطان بننے والے قطب الدین مبارک شاہ کے ہم جنس پرست ہندو لونڈے جرنیل ملک کافور کی مکمل تاریخ کیلئے تاریخ فیروز شاہی پڑھیں۔
علاؤالدین خلجی قوم لوط جیسی بد فعلی کیلئے ، ملک کافور ہزار دیناری نامی ہندو نوجوان کے عشق میں ایسا مبتلا تھا کہ اس کے ہاتھوں قتل ہونے تک ہم جنس پرستی میں دنیا اور آخرت برباد کرتا رہا۔ اس نے اسی لونڈے کو اپنا وزیر خاص بھی مقرر کر رکھا تھا۔ علاؤالدین کے شدید بیمار ہونے پر اسی لونڈے نے اس کی زندگی کی کہانی کا خاتمہ بھی کیا۔ سلطان ساری زندگی جس لونڈے وزیر پر فریفتہ رہا اسی نے اس کے پورے خاندان کا صفایا کیا اس سے اگلا بادشاہ بھی ایک خوبرو ہندو لونڈے خسرو ملک سے ہم جنس پرستی کے جنون میں مبتلا تھا ۔ ابن بطوطہ بھی اس کے بارے یہی لکھتا ہے۔ مشہور تاریخی کتاب تاریخ فیروز شاہی کے مطابق قطب الدین ، خسرو ملک کا اس قدر دیوانہ تھا کہ اس نے اسے بڑے مرتبے بلکہ خاص وزارت بھی عطا کی تھی ۔ عجیب اتفاق ہے کہ علاؤالدین خلجی کی اپنے ہم جنس پرست وزیر سے قتل کی طرح قطب الدین مبارک شاہ بھی اپنے اس ہم جنس پرست وزیر خسرو ملک کے ہاتھوں قتل ہوا۔
 

فاتح

لائبریرین
معلومات بہم پہنچانے کا شکریہ جناب۔
انگریزی میں اس کے لئے کونسا لفظ درست ہے؟
خواجہ سرا کے لغوی معنوں کے لیے eunuch اور ہندوستان میں خواجہ سراؤں کو شناخت دینے کے بعد ان کے لیے سرکاری طور پر یہی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ پاکستان میں سرکاری طور پر انہیں Third gender لکھا جاتا ہے جب کہ دنیا بھر میں جو با عزت امبریلا ٹرم استعمال ہوتی ہے وہ Transgender ہے
 
خواجہ سرا انسان ہوتے ہیں۔ ہم سب کی طرح۔ معذوری البتہ محکم ہے کہ وہ انڈوکرائن ڈسفنکشن کا شکار ہوتے ہیں۔
میرے خیال میں یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے کہ ایک انسان اگر عام آدمی جیسی فزیولوجی نہیں رکھتا تو وہ معذور تو ہے۔ البتہ احترام اور عزت ایک معقول رویہ ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔
ہمارے "مردانگی پرست" معاشرے میں بہرحال یہ خرابی تو ہے کہ وہ خواجہ سراؤں کو ایک مکمل انسان تصور نہیں کرتے۔ اور پھر بر صغیر میں خواجہ سراؤں کا اختیاری رہن سہن کچھ مزید دوری کا سبب بن گیا ہے۔
 
ایک ہم ہیں اور ایک وہ دور تھا کہ حجاز میں اگر کسی کے ہاں ایسا بچہ پیدا ہوتا تو اسے مسجدَ نبوی کے ادارے کے سپرد کردیا جاتا جہاں اسے دینی تعلیم دی جاتی اور مسجدِ نبوی میں حاضر ہونے والی خواتین کے انتظام و انصرام سرانجام دینے جیسی باوقار خدمت پر مامور کردیا جاتا۔ یہ لوگ باوقار عربی لباس اور عمامے میں ہوتے اور انکی شناخت کے لئے کمر کے گرد ایک پٹکہ بھی ہوتا۔ ان کو "طوشی" کہا جاتا تھا اور اب بھی مسجدَ نبوی میں آپ کو ایسے کچھ لوگ دکھائی دے جائیں گے۔
 

نور وجدان

لائبریرین
سعدیہ بہنا جو سیدھی سادہ بات وارث بھائی کہہ رہے ہیں وہ ہر دھاگے کا موضوع بدلنے میں ماہر نا سمجھوں کی سمجھ میں نہیں آ رہی ۔ میری بہن آپ تاریخ لکھو تو ادھر ادھر سے بلا تحقیق کاپی پیسٹ نہ کیا کریں ۔تاریخی بات لکھیں تو ساتھ مستند حوالہ دیا کریں ، ملک عنبر کسی افسانے کی کہانی ہو سکتی ہے ۔ علاؤ الدین کے ہم جنس پرست لاڈلے وزیر کا اصل نام ملک کافور ہزار دیناری اور اس کے بعد سلطان بننے والے قطب الدین مبارک شاہ کے ہم جنس پرست ہندو لونڈے جرنیل ملک کافور کی مکمل تاریخ کیلئے تاریخ فیروز شاہی پڑھیں۔
علاؤالدین خلجی قوم لوط جیسی بد فعلی کیلئے ، ملک کافور ہزار دیناری نامی ہندو نوجوان کے عشق میں ایسا مبتلا تھا کہ اس کے ہاتھوں قتل ہونے تک ہم جنس پرستی میں دنیا اور آخرت برباد کرتا رہا۔ اس نے اسی لونڈے کو اپنا وزیر خاص بھی مقرر کر رکھا تھا۔ علاؤالدین کے شدید بیمار ہونے پر اسی لونڈے نے اس کی زندگی کی کہانی کا خاتمہ بھی کیا۔ سلطان ساری زندگی جس لونڈے وزیر پر فریفتہ رہا اسی نے اس کے پورے خاندان کا صفایا کیا اس سے اگلا بادشاہ بھی ایک خوبرو ہندو لونڈے خسرو ملک سے ہم جنس پرستی کے جنون میں مبتلا تھا ۔ ابن بطوطہ بھی اس کے بارے یہی لکھتا ہے۔ مشہور تاریخی کتاب تاریخ فیروز شاہی کے مطابق قطب الدین ، خسرو ملک کا اس قدر دیوانہ تھا کہ اس نے اسے بڑے مرتبے بلکہ خاص وزارت بھی عطا کی تھی ۔ عجیب اتفاق ہے کہ علاؤالدین خلجی کی اپنے ہم جنس پرست وزیر سے قتل کی طرح قطب الدین مبارک شاہ بھی اپنے اس ہم جنس پرست وزیر خسرو ملک کے ہاتھوں قتل ہوا۔
شکریہ نشاندہی کے لیے ، نام کے حوالے سے آپ نے درست فرمایا ہے مگر ملک عنبر کوئی افسانوی کردار نہیں ۔میں نے تاریخ پڑھ رکھی ہے مگر مکس اپ ہوگئ ۔ملک عنبر مغل دور سے تعلق رکھتے ہیں ملک کافور علاء الدین خلجی کے دور سے ۔میں آپ کی صرف ''اسی بات'' سے اتفاق کرتی ہوں۔بنا مطالعہ میں نے بات نہیں کی اور میں نے ایک مثال دی ہے۔ آپ نام کی درستی کروا دیتے ۔ باقی جو آپ نے لکھا وہ آپ جانتے ہیں کہ کتنا موضوع کے مطابق ہے
 

یاز

محفلین
خواجہ سراؤں کی زندگی پر ایک فلم بھی بنی ہے ساؤتھ انڈین فلم انڈسٹری والوں نے بنائی ہے جو کافی بہتر انداز میں خواجہ سراؤں کی مشکل زندگی کی عکاسی کرتی ہے
images

یہ فلم ہندی ڈبنگ میں بھی موجود ہے یوٹیوب پر

کافی عرصہ پہلے پاکستان میں "جنجال پورہ" کے نام سے ایک ڈرامہ بھی لگتا تھا جن میں خواجہ سراؤں کی زندگی کی مزاح کے رنگ کے ساتھ عکاسی کی گئی تھی۔

ہالی وڈ نے 1992 میں Immaculate Conception کے نام سے ایک فلم بنائی تھی جس میں خواجہ سراؤں کے گرو کا کردار ضیا محی الدین نے ادا کیا تھا اور شبانہ اعظمی بھی تھی اس فلم میں ۔

پاریش راول نے آرٹ فلم تمنا میں خواجہ سرا کا کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ وہ فلم خواجہ سراؤں کے مسائل سے متعلق نہیں تھی، تاہم ایک شاندار آرٹ فلم تھی خصوصاً پاریش راول کی اداکاری لاجواب تھی۔
0ec7998be9f10246147b49e75edb28e6_t.jpg
 

فرقان احمد

محفلین
خواجہ سرا، بطور انسان، عزت و تکریم کا مستحق ہے۔ معاشرے میں کمزور، مجبور، لاچار اور معذور افراد کے ساتھ عام طور پر غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ افسوس ناک!
 
Top