خبرنامہ : یوپی - اتراکھنڈ میں’شراب‘ نے تباہی مچادی ، گھروں میں صف ماتم بچھ گئی

افتخاررحمانی فاخر نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 9, 2019

  1. افتخاررحمانی فاخر

    افتخاررحمانی فاخر محفلین

    مراسلے:
    303
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    یوپی - اتراکھنڈ میں’شراب‘ نے تباہی مچادی ، گھروں میں صف ماتم بچھ گئی
    سہارنپور سمیت تین شہروں میں ہلاک شدگان کی تعداد92 پہنچی، کئی کی حالت سنگین

    لکھنؤ9 فروری
    یوپی اور اتراکھنڈ میں زہریلی شراب سے ہلاک شدگان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سہارنپور، روڑکی اور کشی نگر میں زہریلی شراب پینے سے کل مرنے والوں کی نمبر 92 ہو گئی ہے۔ سہارنپور 64، روڑکی میں 20 اور کشی نگر میں 8 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ ان میں سے سہارنپور کے 18 لوگوں کی موت علاج کے دوران میرٹھ میں ہو ئی ۔ یوپی حکومت کے مطابق زہریلی شراب سے مرنے والے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو اتراکھنڈ میں ایک’ تیرھویں سنسکار ‘( ہندو مذہب کے مطابق وفیاتی تقریب) میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے اور ان لوگوں نے وہیں انجام سے غافل لذت و کام و دہن کی طلب کو تسکین پہنچائی تھی ۔ سہارنپور حکام کے مطابق تقریب میں شرکت کے بعد جب لوگ واپس آئے تو موت واقع ہونا شروع ہوگئی ۔ ابھی تک اس کیس میں 46 لوگوں کا پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے جس میں36 لوگوں کی موت شراب کی وجہ سے بتائی جا رہی ہے۔ وہیں میرٹھ میں مرنے والے 18 لوگ سہارنپور سے لائے گئے تھے، جن کی موت علاج کے دوران ہوگئی۔سہارنپور ضلع کے ناگل، گاگل ہیڑی اور دیوبند تھانہ علاقہ کے کئی گاؤں میں جہاں دیر رات شراب پینے سے 44 لوگوں کی موت ہو چکی ہے ،جبکہ 30 سے ز ائد افراد ہسپتال میںزیر علاج ہیں ۔ کئی لوگوں کی حالت میرٹھ کے ہسپتال میں نازک بتائی جارہی ہے ۔ انتظامیہ کی لاپرواہی کے لئے حکومت نے ناگل تھانہ انچارج سمیت دس پولس اہلکار اور آبکاری محکمہ کے تین انسپکٹر اور دو کانسٹیبل کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ناگل تھانہ انچارج ہریش راجپوت، ایس آئی اشونی کمار، ایوب علی اور پرمود نین کے علاوہ کانسٹیبل بابورام، مونو راٹھی، وجے تومر، سنجے تیاگی ، نوین اور سورو کو معطل کر دیا گیا ہے۔ وہیں آبکاری محکمہ کے سپاہی اروند اور نیرج بھی معطل کئے گئے ہیں۔جمعہ شام اور دیر رات یوپی کے ہوم سیکرٹری اور بعد میں ڈی جی پی نے تمام اضلاع کے ضلعی حکام اور پولیس کپتانوں کے ساتھ ویڈیوز کانفرنسنگ کے ذریعے ہدایات دی ہے کہ زہریلی شراب کے واقعہ میں پورے ضلع میں چھاپہ ماری اور اس کی تحقیق کی جائے ۔ یہ مہم اگلے پندرہ دنوں تک چلائی جائے گی جس میں گرفتاری کے ساتھ غیر قانونی شراب کی بھٹی پر چھاپہ ماری بھی کی جائے گی۔ حکومت کی طرف سے واضح ہدایات دیئے گئے ہیں کہ جس ضلع میں لاپرواہی ہوگی وہاں کے پولیس کپتان اور ضلع مجسٹریٹ کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔وہیں یہ بھی خبر ہے کہ سہارنپور اور کشی نگر میں ہوئی ہلاکت خیز اموات کے باوجود مہلک شراب کی اسمگلنگ کا دھندہ بتدریج جاری ہے ۔ ادھر کشی نگر میں پولیس اور آبکاری کی مشترکہ ٹیم نے چھاپہ مار کر کپتان گنج تھانہ علاقے کے این ایچ 28 پر ڈھابہ پر کھڑی ٹرک میں بھوسے میں چھپاکر لے جائی جا رہی شراب کی 1600 پیٹیاںبرآمد کی ہیں ۔واضح ہو کہ برآمد غیر قانونی شراب کی قیمت تقریبا 80 لاکھ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ کپتان گنج پولیس نے آبکاری ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا ہے اور فی الحال شراب اسمگلر فرار بتایا جا رہا ہے۔ظاہر ہے انتظامی فرمان کے بعد افسر بھی ایکشن میں نظر آرہے ہیں اور پورے صوبہ میں مہم چلائی جارہی ہے ۔ اس مہم کے تحت بستی، مہراج گنج، دیوبند، گورکھپور، بندہ، ہمیر پور، چترکوٹ، غازی آباد، سہارنپور، میرٹھ، بلند شہر، متھرا سمیت درجنوں اضلاع میں ایک ساتھ آبکاری اور پولیس کی چھاپہ ماری چل رہی ہے۔ کئی جگہوں سے شراب کی برآمدگی ہوئی ہے تو کئی غیر قانونی فیکٹریاں سیل بھی کردی گئی ہیں ۔
     

اس صفحے کی تشہیر