حوروں کی سجاتے منڈی ہیں جنت کی تجارت کرتے ہیں ۔۔۔ برائے اصلاح

loneliness4ever

محفلین


حوروں کی سجاتے منڈی ہیں جنت کی تجارت کرتے ہیں
اسلام کو لاحق خطرہ ہے منبر پہ مداری بیٹھے ہیں

ایمان جڑا جب فرقوں سے، اس حال میں دیکھے عالم پھر
ایمان سمجھ کر مسلم کو اسلام سے خارج کہتے ہیں

اب حال ِ مسلماں کیا کہنا تم خوب سمجھتے ہو آخر
اللہ کے دشمن ہیں مسلم جو سود پہ جیتے رہتے ہیں

ایمان کی حالت ایسی ہے شیطان کے چیلے اکثر اب
توہین ِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرکے بھی لوگوں میں معزز ٹھہرے ہیں

اسلام کی چادر اوڑھے ہیں عالم کے لبادے ہیں پہنے
مخمور صداقت ہے لیکن ایمان سے عاری بندے ہیں

 
آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
بہت خوب!
واہ واہ!
(بھائی!خیریت رہی۔۔۔کافی عرصے بعد نظر آئے۔۔۔اللہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین!)
 

الف عین

لائبریرین
ثر اشعار میں الفاظ کی نشست مناسب نہیں۔ جیسے
حوروں کی سجاتے منڈی ہیں جنت کی تجارت کرتے ہیں
اسلام کو لاحق خطرہ ہے منبر پہ مداری بیٹھے ہیں
یوں کہا جائے
حوروں کی سجاتے ہیں منڈی جنت کی تجارت کرتے ہیں
اسلام کو خطرہ لاحق ہے منبر پہ مداری بیٹھے ہیں


ایمان جڑا جب فرقوں سے، اس حال میں دیکھے عالم پھر
ایمان سمجھ کر مسلم کو اسلام سے خارج کہتے ہیں

عالم کی بجائے ’دنیا‘ کہنا مناسب تر ہے۔
ویسے شعر واضح نہیں۔ ’ایمان سمجھ کر‘ والا ٹکڑا مشکل پیدا کر رہا ہے۔


اب حال ِ مسلماں کیا کہنا تم خوب سمجھتے ہو آخر
اللہ کے دشمن ہیں مسلم جو سود پہ جیتے رہتے ہیں

توہین محمد ص والا شعر درست ہے۔

اسلام کی چادر اوڑھے ہیں عالم کے لبادے ہیں پہنے
مخمور صداقت ہے لیکن ایمان سے عاری بندے ہیں

پہلے مصرع میں ’پہنے ہیں‘ شاید ایک اور مطلع بننے سے بچانے کے لئے کیا گیا ہے لیکن روانی متاثر ہو جاتی ہے۔
دوسرا مصرع بھی رواں نہیں، صداقت ‘سے مراد۔ اس کے علاوہ تخلص کو معنی خیز شکل میں استعمال کرنا بہتر ہو گا۔ ’مخمورِ صداقت‘ قسم کا لفظ مثلاً


÷÷مسلم کو دوسرے مصرعے میں دوبارہ لانے کی بجائے بہتر ہے کہ واضح کر دیا جائے کہ صرف وہی مسلم اللہ کے دشمن ہیں۔
’کیا کہنا‘ اکثر مثبت معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں مثبت نہیں۔ ’کیا کہئے‘ کہا جا سکتا ہے۔
 

loneliness4ever

محفلین
فقیر تمام احباب کی آمد پر مسرور و ممنون ہے
عزیز استاد کی شفیق نگاہ ، ان کی توجہ ہی فقیر کو
بلخصوص قدم آگے بڑھانے کا حوصلہ دیتی ہے
عزیز اور محترم استاد الف عین ، فقیر اس کاوش کو
جلد لیکر دوبارہ خدمت میں حاضر ہوگا
امید ہے عطا کا یہ سلسلہ استاد کی جناب سے جاری رہے گا


عزیز بہنا جاسمن بھائی کے ساتھ جب بہن کی دعا کا ساتھ ہو تو مسائل کیا
بس زندگی کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے میں اور اپنی ذات سے دوری نے فقیر
کو بہت دور کر دیا ہے، بولنے سے، لکھنے سے ۔۔۔۔ وقت چند ساعتیں دینے کو
راضی ہی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وقت میسر ہو تو ذہن اور قلم میں ربط پیدا نہیں
ہوتا ۔۔۔ ابتری ہی ابتری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی بہت آسان ہوتی اگر احساس ذمہ داری
نہ ہو ۔۔۔ مگر پھر زندگی زندگی نہ ہو، دعائوں میں یاد رکھا کریں بھائی کو ہمیشہ


اللہ پاک تمام احباب کو اپنی امان میں رکھے ۔۔۔ آمین
 
Top