حكايات من زمان الوصل (اندلس)

ربیع م نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 30, 2018

  1. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    1,387


    حصن غرماج

    قشتالہ کے میدان اپنے اندر تاریخی واقعات کی خاموشی سمیٹے ہوئے ہیں جنہوں نے اندلس میں اسلامی خلافت کی بنیادیں مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا.
    یہاں خلیفہ عبدالرحمن الناصر نے اس قلعہ کو تعمیر کروایا تاکہ اندلس میں اموی سلطنت کو مضبوط کیا جا سکے.
    دریائے دویرہ کے پار سے مسیحی ریاستوں نے اموی علاقوں پر پے درپے حملے جاری رکھے لیکن اس علاقے سے اسلامی خلافت کے خاتمے کا انحصار حصن غرماج پر قبضے پر تھا.
    جو کہ یورپ میں قائم اسلامی سلطنت کے قلعوں میں سب سے بڑا قلعہ تھا.
    یہ قلعہ اپنی تعمیر کے وقت مغربی یورپ میں سب سے بڑی عسکری تعمیر تھا جو اسلامی سلطنت کی شمالی حدود کی آخری حد پر واقع تھا اس کی تعمیر کا مقصد مملکت لیون کی جانب سے ہونے والے حملوں کی روک تھام تھا.
    یہ عظیم قلعہ دشمن کو خوفزدہ کرنے اور عسکری مہمات کو کامیاب بنانے کیلئے استعمال ہوتا رہا.
    یہ قلعہ جس علاقے میں واقع ہے اسے ثغر اوسط (درمیانہ محاذ) کے نام سے جانا جاتا تھا. جو اندلس میں شمالی سرحد کی تین انتظامی تقسیم میں سے ایک حصے کا نام تھا.
    بہترین جنگی تعمیر اور قلعہ بندی کے باوجود حصن غرماج بغاوت اور سرکشی کی تحریکوں سے محفوظ نہ رہ سکا جن کے خاتمے کی ذمہ داری اندلس کے نامور سالار اور شہسوار غالب بن عبدالرحمن کو سونپی گئی جنہیں اس مہم میں کامیابی کے بعد خلیفۃ المسلمین کی جانب سے ذوالسیفین کا لقب عطا کیا گیا.
    غرماج میں ہمہ وقت سپاہ کی بہت بڑی تعداد موجود رہتی تھی اور یہاں سے وہ ثغر اوسط کی حدود میں مختلف علاقوں کی جانب عسکری کارروائیوں کیلئے نکلتے.
    10 ویں صدی میں اس قلعہ پر مملکت لیون کی جانب سے کئی حملے کئے گئے اور تین بار اس پر نصرانی قابض بھی ہو گئے لیکن مسلمانوں کی جانب سے اس قلعے کو واپس لیا جاتا رہا.
    11 ویں صدی میں بالآخر شاہ فرڈیننڈ اول کے ہاتھوں قلعے کا سقوط عمل میں آیا.
    حصن غرماج کے ٹیلے اور کھنڈرات آج اندلس میں اموی دور حکومت کے آخری باب کے خاموش راوی کے سوا کچھ بھی نہیں.
    اس برج کا نام الملک المنصور کے نام پر رکھا گیا جن کی وفات پر پورے یورپ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی.
    اس جگہ بہت سے تاریخی راز دفن ہیں جن کی تفاصیل کبھی منظر عام پر نہ آ سکیں.
    ہم اس کے باب قرطبہ سے محض قشتالہ کی وادیوں کا مشاہدہ کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں.
    حربی تعمیرات اندلس میں مسلمانوں کے فن تعمیر کا بہترین نمونہ تھیں اور حصن غرماج عہد خلافت کے قرطبی فن تعمیر کی عظمت کا بہترین نمونہ ہے. اگرچہ اس پر اس کے مقام کے لائق تحقیق اور مطالعہ نہیں کیا گیا.
    ایمن الزبیر
    حصن غرماج
    صوبہ صوریا
    شمالی اسپین
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر