حصارِ درد۔

رشید حسرت

محفلین
حصارِ درد میں ہیں رنج و غم کے مارے ھوئے
اُس ایک شخص کو مدّت ھوئی پُکارے ھوئے

الگ الگ ہیں مگر ساتھ ساتھ چلنا ھے
ھم ایک سمت کو جاتے ندی کنارے ھوئے

خود اپنے ہاتھ سے اس نے خزاں کو سونپ دیا
خود اس کے ہاتھ کے شیشے میں ہیں اُتارے ھوئے

میں اب کے لوٹنا اُس کا نہ بھول پاؤں گا
کوئی حیات کی بازی ھو جیسے ہارے ھوئے

یا اس کی آنکھ کے جادو یا اپنے من کا فریب
حیات کرنے کو لے دے کے یہ سہارے ھوئے

سحر کے وقت لگی آنکھ تو گئی محنت
گواہ رات کی بے خوابیوں کے تارے ھوئے

اتر رہی ھے پھر آنکھوں میں دُھند ماضی کی
رشیدؔ یاد کے کھنڈرات کو اُبھارے ھوئے۔

رشید حسرتؔ، کوئٹہ۔
 
Top