حشر کیسا بھی ہو، برپا نہیں دیکھا جاتا۔ سعید خان

عمران خان

محفلین
حشر کیسا بھی ہو، برپا نہیں دیکھا جاتا​
یار اب ہم سے تماشا نہیں دیکھا جاتا​
​
ایسے برزخ سے تڑپنا ہی کہیں بہتر تھا​
دل کومحرومِ تمنا نہیں دیکھا جاتا​
​
خوف آتا ہے تو بس خواب کی بے خوفی سے​
ورنہ اس آنکھ سے کیا کیا نہیں دیکھا جاتا​
​
ان کی ہستی کی نمو ہے مری بربادی میں​
ناصحوں سے مجھے اچھا نہیں دیکھا جاتا​
​
فاصلہ رکھ کے سرِ راہ ملا کر دشمن​
دوستوں سے ہمیں یکجا نہیں دیکھا جاتا​
​
ترکِ الفت ہی سہی، ترکِ تعلق ہی سہی​
پھر بھی اپنوں کو پرایا نہیں دیکھا جاتا​
​
ہجر دشوار مسافت ہے مگر یاد رہے​
یہ وہ غم ہے کہ جو تنہا نہیں دیکھا جاتا​
​
نقش آنکھوں میں ہے محبوب کی صورت ورنہ​
ہم سے اس شہر کا نقشہ نہیں دیکھا جاتا​
​
ایسی شدت سے ہمیں وقت نے بدلا ہے سعید​
آئینہ اب نہیں دیکھا ، نہیں دیکھا جاتا​
سعید خان​
​
​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top