حسن و عشق

کوئی حسن کو بھی حسیں لگے،
کبھی یہ بھی کسی پہ مرا کرے۔
کبھی عشق کو بھی تو عشق ھو،
اس آگ میں یہ بھی جلا کرے۔
کبھی ہجر بھی تنہا رہے،
کہیں وصل سے نہ ملا کرے۔
کبھی دیوانگی کو نہ ھوش ھو،
یونہی در بدر جھکا کرے۔
آوارگی کا کہیں گھر نہ ھو،
سدا جا بجا یہ پھرا کرے۔
یہ جنون بھی مجنوں بنے،
پتھرون کو بھی صحرا کرے۔
کبھی آگ کو بھی لگے آگ ہی،
یہ خود ہی خود سے جلا کرے۔
یہ ھوش کبھی مدھوش ھو،
یہ بھی پاگل ھوا کرے۔
ارماں کو بھی ارمان ھوں،
حسرت کو حسرت ھوا کرے۔
تڑپنا پڑے تڑپ کو بھی،
ایسا کبھی خدا کرے۔
درد کو کہیں دردھو،
کوئی درد کی نہ دوا کرے۔
گر عشق کو بھی ھو عشق تو،
نہ کسی کو یہ رسوا کرے۔
کبھی خامشی کی زبان نہ ھو،
میں کہا کروں تو سنا کرے۔
 
کوئی حسن کو بھی حسیں لگے،
کبھی یہ بھی کسی پہ مرا کرے۔
کبھی عشق کو بھی تو عشق ھو،
اس آگ میں یہ بھی جلا کرے۔
کبھی ہجر بھی تنہا رہے،
کہیں وصل سے نہ ملا کرے۔
کبھی دیوانگی کو نہ ھوش ھو،
یونہی در بدر جھکا کرے۔
آوارگی کا کہیں گھر نہ ھو،
سدا جا بجا یہ پھرا کرے۔
یہ جنون بھی مجنوں بنے،
پتھرون کو بھی صحرا کرے۔
کبھی آگ کو بھی لگے آگ ہی،
یہ خود ہی خود سے جلا کرے۔
یہ ھوش کبھی مدھوش ھو،
یہ بھی پاگل ھوا کرے۔
ارماں کو بھی ارمان ھوں،
حسرت کو حسرت ھوا کرے۔
تڑپنا پڑے تڑپ کو بھی،
ایسا کبھی خدا کرے۔
درد کو کہیں دردھو،
کوئی درد کی نہ دوا کرے۔
گر عشق کو بھی ھو عشق تو،
نہ کسی کو یہ رسوا کرے۔
کبھی خامشی کی زبان نہ ھو،
میں کہا کروں تو سنا کرے۔
ام عبدالوھاب صاحبہ آپ کی نظم اصلاح کی متقاضی ہے لہٰذا اس نظم کو اصلاح سخن کے زمرے میں منتقل کردیا گیا ہے۔ آپ نے متفاعلن متفاعلن بحر میں کہنے کی کوشش کی ہے لیکن کئی مصرعے بحر میں نہیں۔
 
Top