حد جاں سے گزرنا چاہتی ہیں

رہ وفا

محفلین
حد جاں سے گزرنا چاہتی ہیں
امنگیں رقص کرنا چاہتی ہیں

تری یادوں کے صحرا میں یہ آنکھیں
گھٹائوں سی برسنا چاہتی ہیں

تری یادوں کی چوکھٹ پر یہ آنکھیں
دیے کی طرح جلنا چاہتی ہیں

کبھی گزرو مرے دل کی گلی سے
کہ یہ راہیں سنورنا چاہتی ہیں

اٹھائو آفتاب رخ سے پردہ
مری صبحیں اترنا چاہتی ہیں

چلو سجاد اس کو ڈھونڈتے ہیں
کہ امیدیں بکھرنا چاہتی ہیں
 
مدیر کی آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں جناب ۔ بہت داد ! لیکن مطلع کا مصرع اوّل وزن میں نہیں ہے ۔ آپ نے اسے ’’حدِ‘‘ باندھا ہے جبکہ یہ "حدِّ‘‘ بر وزن فعلن ہوتا ہے ۔

کبھی گزرو مرے دل کی گلی سے
کہ یہ راہیں سنورنا چاہتی ہیں
اس شعر میں ایک قسم کا شتر گربہ ہے ۔ پہلے مصرع میں گلی اور دوسرے میں راہیں ۔ یعنی واحد جمع کی غیر مطابقت ہے ۔ اس شعر کو بہتر بنا لیجیے۔
 

ابن رضا

لائبریرین
بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں جناب ۔ بہت داد ! لیکن مطلع کا مصرع اوّل وزن میں نہیں ہے ۔ آپ نے اسے ’’حدِ‘‘ باندھا ہے جبکہ یہ "حدِّ‘‘ بر وزن فعلن ہوتا ہے ۔
کبھی گزرو مرے دل کی گلی سے
کہ یہ راہیں سنورنا چاہتی ہیں
اس شعر میں ایک قسم کا شتر گربہ ہے ۔ پہلے مصرع میں گلی اور دوسرے میں راہیں ۔ یعنی واحد جمع کی غیر مطابقت ہے ۔ اس شعر کو بہتر بنا لیجیے۔
دوسرے اور تیسرے بیت کے روی کی طرف آپ کا دھیان نہیں گیا شاید ؟
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
دوسرے اور تیسرے بیت کے روی کی طرف آپ کا دھیان نہیں گیا شاید ؟
ابن رضا بھائی ۔ بالکل درست کہا آپ نے۔ یہ غلط قوافی نظر تو آگئے تھے لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ تبصرہ لکھتے وقت اگر کسی وجہ سے درمیان میں کوئی اور کام کرنا پڑجائے تو وہ یکسوئی نہیں رہتی اور بات لکھنے سے رہ جاتی ہے۔ نشاندہی کا بہت شکریہ۔

رہ وفا
 
Top