حبیب جالب کی برسی

عسکری

معطل
میں شاعر تو نہیں پر کبھی کبھار پڑھ لیتا ہوں ۔ کوئی کوئی شعر دل کو اچھے لگ جاتے ہیں ۔ حبیب جالب کے بھی بہت سارے اشعار اچھے لگے مجھے آج ان کی برسی تھی شاید اردو محفل انہیں بھول گئی ہے :(
 

عسکری

معطل
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے، تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے، تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے، تم کہو
اس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
 

عسکری

معطل
540865_622516854441432_237705921_n.jpg
 

ساجد

محفلین
میں شاعر تو نہیں پر کبھی کبھار پڑھ لیتا ہوں ۔ کوئی کوئی شعر دل کو اچھے لگ جاتے ہیں ۔ حبیب جالب کے بھی بہت سارے اشعار اچھے لگے مجھے آج ان کی برسی تھی شاید اردو محفل انہیں بھول گئی ہے :(
ہان بھئی جوان ، ٹھیک کہتے ہو 12 مارچ 1993 کو جالب ہم سے جدا ہو گئے تھے۔
 

غدیر زھرا

لائبریرین
بلا شبہ عظیم شاعر ۔۔۔

بھیا آپ پلیز دھاگے کا عنوان درست کر لیں ۔۔ حبیب ضالب لکھا گیا ہے غلطی سے ۔۔
 

نایاب

لائبریرین
دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سُنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیں
لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا، جن کے لئے بدنام ہوئے
آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

وہ جو ابھی اس راہگزر سے چاک گریباں گزرا تھا
اس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں
 
بہتے لہو میں سب تیرا مفہوم بہہ گیا
چودہ اگست صرف تیرا نام رہ گیا
جلنا ہے غم کی آگ میں ہم کو تمام شب
بجھتا ہوا چراغ سر شام کہہ گیا
ہوتا اگر پہاڑ تو لاتا نہ تاب غم
جورنج اس نگر میں یہ دل ہنس کہ سہہ گیا
گزرے ہیں اس دیار میں یوں اپنے روزوشب
خورشید بجھ گیا کبھی مہتاب گہنا گیا
شاعر حضور شاہ سبھی سر کے بل گئے
جالب ہی اس گناہ سے بس دور رہ گیا
 

زرقا مفتی

محفلین
یہ وزیرانِ کرام

کوئی ممنونِ فرنگی، کوئی ڈالر کا غلام
دھڑکنیں محکوم ان کی لب پہ آزادی کا نام
ان کو کیا معلوم کس عالم میں رہتے ہیں عوام
یہ وزیرانِ کرام

ان کو فرصت ہے بہت اونچے امیروں کے لیے
ان کے ٹیلیفون قائم ہیں‌ سفیروں کے لیے
وقت ان کے پاس کب ہے ہم فقیروں کے لیے
چھو نہیں سکتے ہم ان کا اونچا مقام
یہ وزیرانِ کرام

صبح چائے ہے یہاں تو شام کھانا ہے وہاں
کیوں نہ مغرور چلتی ہے میاں ان کی دکاں
جب یہ چاہیں ریڈیو پہ جھاڑ‌سکتے ہیں بیاں
ہم ہیں پیدل، کار پہ یہ، کس طرح ہوں ہم کلام
یہ وزیرانِ کرام

قوم کی خاطر اسمبلی میں یہ مر بھی جاتے ہیں
قوت بازو سے اپنی بات منواتے بھی ہیں
گالیاں دیتے بھی ہیں اور گالیاں کھاتے بھی ہیں
یہ وطن کی آبروں ہیں کیجیے ان کو سلام
یہ وزیرانِ کرام

ان کی محبوبہ وزارت داشتائیں کرسیاں
جان جاتی ہے تو جائے پر نہ جائیں کرسیاں
دیکھئے یہ کب تلک یوں ہی چلائیں کرسیاں
عارضی ان کی حکومت عارضی ان کا قیام
یہ وزیرانِ کرام
 

غدیر زھرا

لائبریرین
اے نظامِ کہن کے فرزندو!
اے شبِ تار کے جگر بندو!

یہ شبِ تار جاوداں تو نہیں،
یہ شبِ تار جانے والی ہے،
تا بکے تیرگی کے افسانے،
صبحِ نو مسکرانے والی ہے،
اے شبِ تار کے جگر گوشو!
اے سحر دشمنو، ستم کوشو!
صبح کا آفتاب چمکے گا،
ٹوٹ جائے گا جہل کا جادو،
پھیل جائے گی ان دیاروں میں،
علم و دانش کی روشنی ہر سو،
اے شبِ تار کے نگہبانو!
شمعِ عہدِ‌ زیاں کے پروانو!
شہرِ ظلمات کے ثناء خوانو!
شہرِ ظلمات کو ثبات نہیں،
اور کچھ۔ دیر صبح پر ہنس لو،
اور کچھ۔ دیر۔۔۔۔۔۔ کوئی بات نہیں!!
 

نیلم

محفلین
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا
اپنا شریکِ درد بنائیں کسی کو کیا

ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلا
زنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا

بچھڑے ہوئے وہ یار وہ چھوڑے ہوئے دیار
رہ رہ کے ہم کو یاد جو آئیں کسی کو کیا

رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہت
اس انجمن میں خود پہ ہنسائیں کسی کو کیا

وہ بات چھیڑ جس سے جھلکتا ہو سب کا غم
یادیں کسی کی تجھ کو ستائیں کسی کو کیا

سوئے ہوئے ہیں لوگ تو ہوں گے سکون سے
ہم جاگنے کا روگ لگائیں کسی کو کیا

جالب نہ آئے گا کوئی احوال پوچھنے
دیں شہرِ بے حساں میں صدائیں کسی کو کیا

حبیب جالب
 
Top