جنرل (ر) شاہد عزیز کے نیب کے بارے میں انکشافات

جاسم محمد

محفلین
جنرل (ر) شاہد عزیز کے نیب کے بارے میں انکشافات
15/02/2019 بشارت راجہ



نیب کے شکنجے میں پھنسے شہباز کو پرواز کی رہائی ملنے پر مجھے رتی بھر تعجب نہیں ہوا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ انھیں رہائی مل جائے گی۔ نیب ایک ایسا ادارہ ہے جسے مقتدر قوتیں سیاست دانوں کا کان مروڑنے اور انھیں اوقات میں رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

جنرل شاہد عزیز دو ہزار پانچ میں نیب کے چیئرمین بنائے گئے۔ اپنے نام کے ساتھ (ریٹائرڈ ) کا لاحقہ لگنے کے بعد انھوں نے ایک ”یہ خاموشی کہاں تک“ نامی ایک کتاب لکھ ماری۔ کتاب میں وہ رقمطراز ہیں کہ مقتدر قوتیں اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کے لیے نیب کو کس طرح استعمال کرتی ہیں۔

All cases against Benazir Butto stand closed, tell Shahid to find ways and closing it۔

جنرل پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز یہ پیغام لے کر میرے پاس آئے اور پوچھا کہ اب اس کا کیا کیا جائے؟ وہ لکھتے ہیں کہ نیب میں میرے آنے کے بعد دو ڈپٹی چیئرمین لگا دیے گئے۔ میجر جنرل محمد صدیق اور حسن وسیم افضل۔ حاضر سروس جنرل کو مجھ پر چیک رکھنے کے لیے لگایا گیا اور حسن وسیم افضل کو بی بی کے خلاف اوپن کیے گئے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے۔

دو ہزار سات کے شروع میں طارق عزیز نے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ اس بات پر خاصا زور دے رہے ہیں کہ بی بی سے سمجھوتہ کیا جائے اور انھیں ملک واپس آنے کی اجازت دی جائے۔ کہنے لگے کہ ان کیسوں کو شاید بند کرنا پڑے۔ وسیم افضل اور میں دونوں ان کیسز سے علیحدہ ہونے پر تیار نہیں تھے۔ طارق عزیز کہہ رہے تھے کہ ہمارا مقصد حل ہو گیا ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا راستہ نکلے کہ بی بی کے ساتھ ہونے والے مذکرات کامیاب ہوں۔ ان میں جان پڑ سکے۔ طارق عزیز کہنے لگے کہ ایک راستہ ہے کہ بی بی کے خلاف اسپین میں کھلے مقدمات کی اٹارنی تبدیل کر دیتے ہیں کچھ وقت لگے گا اس عرصے میں بی بی کے ساتھ ہوتے مذکرات کا پتہ بھی چل جائے گا کہ وہ کامیابی کی طرف جا رہے ہیں یا ناکامی کی طرف۔

میں نے طارق عزیز کو کہا کہ آپ لکھ کر دیں مگر وہ تیار نہ ہوئے۔ میں نے اور اٹارنی جنرل مخدوم علی نے لکھ کر دیا کہ جو پاور آف اٹارنی ہماری نمائندگی کرنے کے لیے دی گئی ہے ہم اُسے واپس لیتے ہیں اور وکلاء کا ایک نیا پینل تشکیل دیا جائے۔

ملک میں انتخابات کا موسم چل رہا تھا حکومت نیب کو اپنے مخصوص سیاسی مقاصد کی کامیابی کے لیے نیب کو استعمال کرنا چاہ رہی تھی کہ میں نے اخبارات میں خبر دی کہ ”باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ اس مرتبہ نیب انتخابات میں حصہ نہیں لے گی“۔

نیب نے مقتدر قوتوں کی آشیر باد سے نواز شریف کے خلاف جو شکنجہ کسا پھر عدالتوں میں لے گئے ایک ایک سماعت کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ کورٹ رپورٹنگ کرتے ہوئے میں نے احتساب عدالت اور ہائی کورٹ میں نیب کے گواہان کی ٹانگیں لرزتی ہوئی اور نیب پراسیکیوٹرز کے دلائل کی بھد اُڑتے ہوئے دیکھی۔ نیب کمزور بنیادوں پر سیاسی شخصیات کے خلاف کیسز دائر کرتی ہے اور پھر انھیں اعلی عدالتوں میں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔

جنرل شاہد عزیز اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مجھ پر جنرل مشرف نے سیاسی شخصیات پر کیسز بنانے کے لیے دباؤ ڈالا تو میں نے انھیں کہا سر آپ مجھے اجازت دیں کہ میری دراز میں مقدس گائیوں پر جو نصف درجن مضبوط بنیادوں پر کیسز بنائے گئے ہیں انھیں عدالتوں میں لے کر جاؤں تو مجھے جواب ملا کہ انھیں بعد میں دیکھا جائے گا جو کام آپ کو کہا جا رہا ہے وہ کریں۔

جنرل شاہد کی باتوں پر یقین کیا جائے تو پھر اس کا مطلب ہوا کہ پاکستان میں ہوئے دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں ”مقتدر قوتوں، نیب اور تحریک انصاف نے مل کر ن لیگ کے خلاف حصہ لیا“۔

بحیثیتِ کورٹ رپورٹر ایون فلیڈ، فلیگ شپ اور العزیزیہ کی سماعتوں کے دوران میں اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ شریف خاندان کے خلاف بنائے گئے کیسز خالصتاً سیاسی بنیادوں پر ہیں زمینی حقائق سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

میرا شک یقین میں اُس دن بدلا جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب پراسیکیوٹر شریف خاندان کی لگی ضمانت پیٹیشن پر دلائل دے رہے تھے تو انھیں یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا بات کروں۔ وہ دلائل دیتے ہوئے پٹڑی سے اتر گئے تو جسٹس اطہر من اللہ نے ان کی سرزنش کی تو نیب پراسیکیوٹر نے شرمندگی سے بچنے کے لیے معزز عدالت سے وقفہ مانگ لیا۔

نیب کے موجودہ چیئرمین کا ماضی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں یہ اپنے کام میں کتنے آزاد ہیں یہ بھی بھید نہیں۔ نیب کے چیئرمین کسی دباؤ میں نہیں آتے تو وہ اُن فائلوں پر سے بھی گرد جھاڑیں جن کی طرف اشارہ جنرل شاہد نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ مملکت خداداد میں سیاست دانوں کی کرپشن مقدس گائیوں کی نسبت بہت کم ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
ہم محترم بشارت راجہ کی صحت و سلامتی کے لیے دعاگو ہیں۔ اسے جرات رندانہ نہ کہا جاوےتو آخر کیا کہا جاوے؟
مشرف کے جاتے ساتھ ہی آئی نئی جمہوری حکومت کے پاس سنہری موقع تھا کہ جہاں اٹھارویں ترمیم، مشرف کی برطرفی، میثاق جمہوریت وغیرہ کر کے ملک کے جمہوری نظام کو آگے بڑھایا۔ وہیں مل جل کر اس فوج کے سیاسی ادارہ نیب کو بھی زندہ درگو ر کر دیتے۔ مگر جیسے ماضی میں ن لیگ جسٹس کی جگہ جسٹس قیوم کر لیتی تھی۔ یا احتساب کی جگہ احتساب الرحمٰن۔ ویسے ہی اس نے یہاں بھی اپنی فطرت ترک نہ کی۔ اور پی پی پی کے بھرپور زور کے باوجود نیب کا کالا قانون ختم نہیں کیا۔ جس کا خمیازہ یہ دونوں جماعتیں اور آئندہ تحریک انصاف بھی بھگتے گی۔
اپوزیشن کو جسٹس نہیں جسٹس قیوم چاہئے ، احتساب نہیں احتساب الرحمان چاہئے ، مراد سعید
 

جاسم محمد

محفلین
نیب از آ لیب ، وئر ایسڈز آر ٹرنڈ ان ٹو بیسز اینڈ وائس ورسا۔ ھذا
عمران خان نے حکومت میں آنے کے بعد کرپٹ عناصر کی چیخیں نکالنی تھیں۔ نیب کی حالیہ کاکردگی کے بعد اپنی چیخیں نکل رہی ہیں :)
شہباز شریف کی رہائی نیب کے لیے لمحہ فکریہ: فواد چوہدری
 

فرقان احمد

محفلین
مشرف کے جاتے ساتھ ہی آئی نئی جمہوری حکومت کے پاس سنہری موقع تھا کہ جہاں اٹھارویں ترمیم، مشرف کی برطرفی، میثاق جمہوریت وغیرہ کر کے ملک کے جمہوری نظام کو آگے بڑھایا۔ وہیں مل جل کر اس فوج کے سیاسی ادارہ نیب کو بھی زندہ درگو ر کر دیتے۔
نیب کو برقرار رہنا چاہیے تاہم اس میں ملٹری اسٹیبلشیہ کا جو اثر و رسوخ ہے، اسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ آہستہ آہستہ یہ ادارہ بہتری کی طرف گامزن ہو جائے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جو ادارہ حکومتی اثر سے آزاد ہوتا ہے، وہاں پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں خفیہ ہاتھ متحرک ہو جاتے ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ نیب کو ایک ایسے آزاد اور خود مختار احتسابی ادارے کی شکل دینے کی ضرورت ہے جہاں سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ ججوں اور جرنیلوں کا احتساب بھی ہو سکے۔
 
Top