جسے بھی دیکھیے سینہ فگار شہر میں ہے - ریحان اعظمی

حسان خان

لائبریرین
جسے بھی دیکھیے سینہ فگار شہر میں ہے​
قدم قدم پہ لہو کی بہار شہر میں ہے​
​
دھواں دھواں ہوئے جاتے ہیں مسجد و محراب​
فقیہِ شہر یہ کیا انتشار شہر میں ہے​
​
نکل کے دل سے محبت کہاں گئی سوچو​
ہر ایک گام یہ کس کا مزار شہر میں ہے​
​
جدھر بھی دیکھیے دریائے خوں کی موجیں ہیں​
تعصبات کا اک آبشار شہر میں ہے​
​
وہ جس نے شہر کی بنیاد خوں سے رکھی تھی​
وہ شخص آج غریب الدیار شہر میں ہے​
​
سکون، چین، محبت، خلوص سب موقوف​
نفاق و بغض فقط برقرار شہر میں ہے​
​
خبر کسی کو نہیں ہے یہ مقتلِ جاں میں!​
کہ اُس کا قتل کسی پر اُدھار شہر میں ہے​
​
اگرچہ بے گھری ریحان کو ملی ہے مگر​
فقط یہی تو مگر شہریار، شہر میں ہے​
​
(ریحان اعظمی)​
 

سید زبیر

محفلین
واہ ۔ ۔ بہت خوب کلام
جدھر بھی دیکھیے دریائے خوں کی موجیں ہیں
تعصبات کا اک آبشار شہر میں ہے
جزاک اللہ
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top