جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر صحافی سراپا احتجاج

جاسم محمد

محفلین
عسکروی اداروں کے کارناموں پر بات کرنا بالکل بھی جرم نہیں ہے۔ لیکن اسے جرم بنا دیا گیا ہے۔
ایک حد کر کے اندر رہتے ہوئے بات کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ ماضی میں عمران خان دھرنے کے دوران فوجی برگیڈرز پر ن لیگ کے حق میں دھاندلی کا الزام آن ریکارڈ لگا چکے ہیں۔ نیز ان کی ایک ڈرائنگ روم ویڈیو بھی لیک ہوئی تھی جہاں وہ جرنیلوں کو ڈرپوک کہہ رہے تھے۔ اس کے باوجود اگر آج کی اسٹیبلشمنٹ ان کو سپورٹ کر رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ فوج جائز تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
ہاں جس قسم کی لایعنی تنقید لبیک یا رسول اللہ والے کر رہے تھے۔ فوج کے اندر بغاوت پراکسا رہے تھے۔ اس پر کاروائی بنتی تھی اور ہوئی۔
 
پچھلی حکومت کو انصافی دھاندلی شدہ کہتے تھے اور اس حوالہ سے دھرنے بھی دیتے آئے ہیں۔ اس وقت فوج کے برگیڈیئرز پر ن لیگ کے حق میں دھاندلی کا الزام بھی لگا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہر ہارنے والے جماعتیں الیکشن کے بعد یہی کچھ ہی کرتی ہیں۔
جو یوتھیوں کے لیے جائز تھا، وہ مخالفین کے لیے بھی جائز سمجھیں۔ آپ کے چار حلقے تھے (جو شومئی قسمت ابھی بھی ن لیگ کے پاس ہی ہیں) لیکن یہاں تو پوری حکومت ہی نصب شدہ ہے اور ابھی وزیر خارجہ مانا ہے، کچھ عرصے میں اور بھی بہت سے مان جائیں گے۔
 

جاسم محمد

محفلین
جو یوتھیوں کے لیے جائز تھا، وہ مخالفین کے لیے بھی جائز سمجھیں۔
لیکن یہاں تو پوری حکومت ہی نصب شدہ ہے
انتخابی دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی 4 سال نہیں 4 دن کے اندر اندر نئی حکومت نے بنا کر دے دی تھی۔ اپوزیشن اگر سمجھتی ہے کہ وسیع پیمانہ پر دھاندلی کر کے اسے اقتدار سے ہٹایا گیا تو جائیں وہاں جا کر اپنے تحفظات رکھیں اور سابقہ اپوزیشن کی طرح انکوائریاں کروائیں۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔
لیکن ان کو معلوم ہے کہ یہاں بھی دال نہیں گلنے والی۔
 
Top