جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر صحافی سراپا احتجاج

جاسم محمد

محفلین
جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر صحافی سراپا احتجاج
196552_2761897_updates.jpg

کراچی کے احتجاجی کیمپ اور دھرنے میں صحافتی تنظیموں، ٹریڈ یونینز، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی—۔فوٹو/ بشکریہ سوشل میڈیا

کراچی: میڈیا ہاؤسز اور مختلف اداروں سے ملازمین کی جبری برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف جوائنٹ ورکرز ایکشن کمیٹی میدان میں آگئی اور ملک گیر احتجاجی دھرنوں کا آغاز کردیا گیا۔

ایک روز قبل کراچی کے احتجاجی کیمپ اور دھرنے میں صحافتی تنظیموں، ٹریڈ یونینز، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

دھرنے کے شرکاء ہاتھوں میں احتجاجی بینرز اور پلے کارڈز اُٹھائے شدید نعرے بازی کرتے رہے، بعدازاں مظاہرین نے دھرنا دے کر سڑک بلاک کردی۔

مقررین کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز میں کارکنوں کے مسلسل استحصال پر حکومت کی مجرمانہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ سب کچھ ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔

انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

جوائنٹ ورکرز ایکشن کمیٹی نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پارلیمنٹ ہاؤس سمیت پورے ملک میں احتجاجی دھرنے دیئے جائیں گے۔

گذشتہ روز اسلام آباد میں بھی صحافیوں نے میڈیا ہاؤسز اور مختلف اداروں سے ملازمین کی جبری برطرفیوں اور تنخواہوں میں غیر معمولی تاخیر اور کٹوتی پر مظاہرہ کیا جبکہ آج کراچی میں دوبارہ مظاہرہ کیا جائے گا۔
 

جاسم محمد

محفلین
مقررین کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز میں کارکنوں کے مسلسل استحصال پر حکومت کی مجرمانہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ سب کچھ ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔
نجی میڈیا کو قومی خزانے سے چلانا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ایسا کسی ملک میں نہیں ہوتا۔ ماضی کی حکومتوں میں ہونے والی غلط میڈیا پالیسیاں کا خمیازہ نئی حکومت نہیں بھرے گی۔ اس معاملہ میں احتجاج کا حق صرف پی ٹی وی کے ملازمین کو ہے جو کہ سرکاری محکمہ ہے۔
 

جان

محفلین
نجی میڈیا کو قومی خزانے سے چلانا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ایسا کسی ملک میں نہیں ہوتا۔ ماضی کی حکومتوں میں ہونے والی غلط میڈیا پالیسیاں کا خمیازہ نئی حکومت نہیں بھرے گی۔ اس معاملہ میں احتجاج کا حق صرف پی ٹی وی کے ملازمین کو ہے جو کہ سرکاری محکمہ ہے۔
کہاں کی بات کہاں لے گئے حضور۔ عوام کے حقوق کی حفاظت کرنا، قانون کا نفاذ اور موثر پالیسی بنانا حکومت کا ہی کام ہے اور اگر کوئی ان کو فالو نہیں کرتا تو ایکشن لینا بھی حکومت کا ہی کام ہے۔ ریگولیٹری باڈیز اور لا انفورسمنٹ ایجنسیز اسی لیے بنائی جاتی ہیں۔
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
کہاں کی بات کہاں لے گئے حضور۔ عوام کے حقوق کی حفاظت کرنا، قانون کا نفاذ کرنا اور موثر پالیسی بنانا حکومت کا ہی کام ہے اور اگر کوئی ان کو فالو نہیں کرتا تو ایکشن لینا بھی حکومت کا ہی کام ہے۔ ریگولیٹری باڈیز اور لا انفورسمنٹ ایجنسیز اسی لیے بنائی جاتی ہیں۔
ملک کے تمام نجی میڈیا اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی بھرتی، برطرفی اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کی ذمہ داری متعلقہ ادارے پر عائد ہوتی ہے۔ جو ادارے اس معاملہ میں کوتاہی برت رہے تھے ان کے خلاف عدالتوں نے احکامات جاری کر رکھے ہیں کہ میڈیا میں کام کرنے والے تمام ملازمین کی بروقت تنخواہیں جاری کی جائے۔
نجی میڈیا کے مالکان ان عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے برعکس حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں تاکہ وہ ماضی کی حکومت کی طرح قومی خزانے سے مہنگے مہنگے اشتہارات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے۔ جو کہ نئی میڈیا پالیسی کے تحت ممکن نہیں۔ صحافیوں کا رونا دھونا اور احتجاج اسی سلسلہ کی کڑی۔ میڈیا مالکان کہتے ہیں کہ پہلے حکومت ہمیں ماضی کے ریٹس پر اشتہارات دے تو ہم ان ملازمین کے تنخواہیں بحال کر دیں گے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ان ملازمین کو سرکاری اداروں نے بھرتی نہیں کیا جو وہ ان کے اخراجات سرکاری خزانے سے اٹھائیں۔
 
ملک تیزی سے آمریت کی آخری شکل یعنی فوجی ڈکٹیٹر شپ کی جانب گامزن ہے۔ پریس کو ’’منفی پروپیگنڈوں‘‘ سے باز رکھنے کے لیے حکومتِ وقت کا آمرانہ ہتھیار یعنی پریس پر قدغن عائد کرنا سیلیکٹڈ وزیرِ اعظم کا ایک بہت مہلک ہتھیار ہے۔ کیوں نہ پریس پر علانیہ سنسرشپ عائد کردی جائے، جو اخبار یا جو صحافی حکومت کے خلاف لکھے گا اسے ٹکٹکی پر باندھ کر کوڑے لگائے جائیں۔

کیا وجہ ہے کہ بہت سے مضامین آج کل اخباروں کی زینت بننے کے بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے منظرِ عام پر آتے ہیں۔
 
ملک تیزی سے آمریت کی آخری شکل یعنی فوجی ڈکٹیٹر شپ کی جانب گامزن ہے۔ پریس کو ’’منفی پروپیگنڈوں‘‘ سے باز رکھنے کے لیے حکومتِ وقت کا آمرانہ ہتھیار یعنی پریس پر قدغن عائد کرنا سیلیکٹڈ وزیرِ اعظم کا ایک بہت مہلک ہتھیار ہے۔ کیوں نہ پریس پر علانیہ سنسرشپ عائد کردی جائے، جو اخبار یا جو صحافی حکومت کے خلاف لکھے گا اسے ٹکٹکی پر باندھ کر کوڑے لگائے جائیں۔

کیا وجہ ہے کہ بہت سے مضامین آج کل اخباروں کی زینت بننے کے بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے منظرِ عام پر آتے ہیں۔
پہلے بھی ایک لڑی میں کہا ہے یہاں پھر دہرا رہا ہوں۔ ہٹلر نے ہٹلر بننے کا عمل ایسے ہی شروع کیا تھا کہ مخالف آواز کو سرے سے ہی ختم کر دو۔
 

جاسم محمد

محفلین
کیا وجہ ہے کہ بہت سے مضامین آج کل اخباروں کی زینت بننے کے بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے منظرِ عام پر آتے ہیں۔
اخبارات و میڈیا ہاؤسز کی اپنی ایڈیٹوریل پالیسی ہوتی ہے۔ اگر کسی صحافی یا مصنف کے مضامین اداریہ کلیر نہیں کر رہا تو وہ اسے سوشل میڈیا کے ذریعہ عام کر سکتا ہے۔ جہاں پڑھنے والوں کی تعداد پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے کہیں زیادہ ہے۔
پہلے بھی ایک لڑی میں کہا ہے یہاں پھر دہرا رہا ہوں۔ ہٹلر نے ہٹلر بننے کا عمل ایسے ہی شروع کیا تھا کہ مخالف آواز کو سرے سے ہی ختم کر دو۔
ہٹلر کے زمانہ میں صرف پرنٹ میڈیا ہوا کرتا تھا۔ جسے کنٹرول کرنا آسان تھا۔ آجکل کے دور میں اگر کسی حکومت کو میڈیا کنٹرول کرنا ہے تو سب سے پہلے آزاد و خودمختار سوشل میڈیا کو قابو کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ماضی وحال میں ایران، ترکی، سعودیہ وغیرہ میں یہ ہو چکا ہے۔
حالیہ حکومت کے تمام تر سپورٹرز سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ ایسی صورت حال میں سوشل میڈیا پر پابندی اپنے ہی حمایتیوں کے خلاف جانے والی بات ہو گی۔ باقی رہ گیا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا تو وہ حکومتی اشتہارات بندہونے کے بعد اپنی موت آپ مر رہا ہے۔ سوشل میڈیا مستقبل کا میڈیا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
کیوں نہ پریس پر علانیہ سنسرشپ عائد کردی جائے، جو اخبار یا جو صحافی حکومت کے خلاف لکھے گا اسے ٹکٹکی پر باندھ کر کوڑے لگائے جائیں۔
اس قسم کی "پریس" کے بارہ میں گمان ہے کہ حکومت ان پر پابندیاں لگا رہی ہے۔ یعنی اب بکاؤ میڈیا اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت گرائے گا تاکہ لفافے بحال ہو سکیں۔
 
تو سب سے پہلے آزاد و خودمختار سوشل میڈیا کو قابو کرنا پڑے گا۔
پڑے گا کیا مطلب ؟
پچھلے اڑھائی سال سے بے شمار بلاگرز، سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور این جی اوز کے کارکنان ’ویگو ڈالے‘ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ؟ پا غفور ببانگ دہل پریزینٹیشن میں محب وطن اور غدار سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کی فہرستیں دے چکا۔ عام لوگوں کے نام پر سرخ دائرے لگ چکے۔ اور کیا قابو کرنا ہے ؟

ہاں شاید ابھی تک کسی یوتھیے پر ایسا وقت نہیں آیا اس لیے آپ کو کچھ قابو نظر نہیں آ رہا۔
 

جاسم محمد

محفلین
پچھلے اڑھائی سال سے بے شمار بلاگرز، سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور این جی اوز کے کارکنان ’ویگو ڈالے‘ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ؟ پا غفور ببانگ دہل پریزینٹیشن میں محب وطن اور غدار سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کی فہرستیں دے چکا۔ عام لوگوں کے نام پر سرخ دائرے لگ چکے۔ اور کیا قابو کرنا ہے ؟
جن ٹویٹیراٹیز کے نام پائین غفور نے اپنی پریزنٹیشن میں دکھائے تھے کیا ان کے اکاؤنٹس بند ہو چکے ہیں؟ ٹویٹر اوردیگر سوشل میڈیا پر 2018 الیکشن کے بعد سے فوج مخالف کمپین طول پکڑ چکی ہے۔ نئی حکومت کے لئے سلیکٹڈ سلیکٹڈ کی آوازیں پارلیمنٹ میں روزانہ کی بنیاد پر کسی جاتی ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کیا چیز ہے۔
 
جن ٹویٹیراٹیز کے نام پائین غفور نے اپنی پریزنٹیشن میں دکھائے تھے کیا ان کے اکاؤنٹس بند ہو چکے ہیں؟
تو پریذینٹیشن دینے کا مقصد؟ وہ بھی فوج کے ایک جنرل کی طرف سے۔ اپنے کرتوتوں پر شرم نہیں آتی، لیکن اگر کوئی بولے تو اسے بندوق کے زور پر دھمکانا عین حب الوطنی ہے۔
ٹویٹر اوردیگر سوشل میڈیا پر 2018 الیکشن کے بعد سے فوج مخالف کمپین چل رہی ہے۔
غلط بیانی نا کریں، کوئی فوج مخالف کمپین نہیں چل رہی۔
البتہ ان کے ان ’کارناموں‘ بارے کمپین ہر وقت چلنی چاہیے جو ان کا مینڈیٹ نہیں تھا، نہیں ہے اور نا ہو گا۔ خدارا پاکستانی عوام کو آزادی سے جینے دیں۔
نئی حکومت کے لئے سلیکٹڈ سلیکٹڈ کی آوازیں پارلیمنٹ میں کسی جاتی ہیں
ہر ذی شعور کو پتہ ہے کہ حکومت نصب شدہ ہے، جب ہے تو پھر برداشت کرے۔ یا کہہ دیں کہ ہمارے وزیر خارجہ نے جھوٹ بولا تھا؟
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
غلط بیانی نا کریں، کوئی فوج مخالف کمین نہیں چل رہی۔
پی ٹی ایم ایکٹیوسٹس کے اکاؤنٹس چیک کریں۔ مریم نواز سوشل میڈیا سیل سے منسلک اکاؤنٹس ابھی تک عسکری اداروں کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں۔ گو کہ ان کا اپنا اکاؤنٹ بیک ڈور ڈیل کے تحت خاموش ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
ہر ذی شعور کو پتہ ہے کہ حکومت نصب شدہ ہے، جب ہے تو پھر برداشت کرے۔ یا کہہ دیں کہ ہمارے وزیر خارجہ نے جھوٹ بولا تھا؟
پچھلی حکومت کو انصافی دھاندلی شدہ کہتے تھے اور اس حوالہ سے دھرنے بھی دیتے آئے ہیں۔ اس وقت فوج کے برگیڈیئرز پر ن لیگ کے حق میں دھاندلی کا الزام بھی لگا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہر ہارنے والے جماعتیں الیکشن کے بعد یہی کچھ ہی کرتی ہیں۔
 
پی ٹی ایم ایکٹیوسٹس کے اکاؤنٹس چیک کریں۔ مریم نواز سوشل میڈیا سیل سے منسلک اکاؤنٹس ابھی تک عسکری اداروں کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں۔
عسکروی اداروں کے کارناموں پر بات کرنا بالکل بھی جرم نہیں ہے۔ لیکن اسے جرم بنا دیا گیا ہے۔
 
Top