تہی تہی سا مننظر

Tahir javed

محفلین
میں جب گھر چھوڑ کے نکلہ تھا نیے رستوں پر
جانتا تھا کہ .....
مہ و سال اب انہی رستوں پہ,
منزلوں کی خواہش میں
کچھ اس طرح سے گذار دوں گا
اردگرد رینگتے سایوں کو
روح کی روشنی ادھار دوں گا
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top