تو یوں غم کی شامیں مناتے نہ جاتے

ابن رضا

لائبریرین
از راہَ کرم اصلاح سے فیض یاب کریں
الف عینیعقوب آسیفاتحمحمدوارث و دیگر اہلَ سخن


دل و جاں میں تم کو بساتے نہ جاتے
تو یوں غم کی شامیں مناتے نہ جاتے

سنو ہم سے الفت اگر تھی ذرا بھی
تو دل کو ہمارے جلاتے نہ جاتے

نہ ہوتی کوئی بھی خلش میرے دل میں
جوتم دل کے گلشن میں آتے نہ جاتے

ہے خاروں سے تجھ کو یہ کیسی شکایت
گلوں سے دریچے سجاتے نہ جاتے

کبھی ہجر نہ خوں کے آنسو رلاتا
نظر سے نظر جو ملاتے نہ جاتے

تماشہ تو اپنا بنایا ہے خود ہی
غمِ جاں سبھی کو بتاتے نہ جاتے

نگاہیں رضا تیری با نور ہوتیں
جودن رات آنسو بہاتے نہ جاتے

جو آسان ہوتا اگر شعر کہنا
رضا گیت ہم کو سناتے نہ جاتے



(بحرمتقارب مثمن سالم۔۔فعولن فعولن فعولن فعولن)
 
آخری تدوین:
اچھی غزل ہے۔ شعر کہتے ہوئے ایک چیز کا خیال رکھا کیجیے کہ بھرتی کہ الفاظ نہ آئیں۔ اتنے الفاظ استعمال کیجیے جن میں موضوع ادا ہوجائے۔ جیسے اس مصرعے کو لیجیے: تماشہ تو اپنا بنایا ہے خود ہی۔ "ہے" "ہی" "تو" یہ تینوں ایک ہی مصرع میں! ظاہر ہے کہ مصرع چست نہیں ہوتا۔ جبکہ مقطع بہت چست ہے: جو آسان ہوتا اگر شعر کہنا، رضا، گیت ہم کو سناتے نہ جاتے! تو شعر کی کیفیتِ لطیف کا خیال ضرور رکھیں بحر و وزن کے ساتھ ساتھ!
اچھا ایک مصرع یہ دیکھ لیجیے: کبھی سوز تیرے نہ جی کو جلاتا۔ یا سوز تیرے، کر لیجیے۔ یا جی کو جلاتے۔
 

ابن رضا

لائبریرین
اچھی غزل ہے۔ شعر کہتے ہوئے ایک چیز کا خیال رکھا کیجیے کہ بھرتی کہ الفاظ نہ آئیں۔ اتنے الفاظ استعمال کیجیے جن میں موضوع ادا ہوجائے۔ جیسے اس مصرعے کو لیجیے: تماشہ تو اپنا بنایا ہے خود ہی۔ "ہے" "ہی" "تو" یہ تینوں ایک ہی مصرع میں! ظاہر ہے کہ مصرع چست نہیں ہوتا۔ جبکہ مقطع بہت چست ہے: جو آسان ہوتا اگر شعر کہنا، رضا، گیت ہم کو سناتے نہ جاتے! تو شعر کی کیفیتِ لطیف کا خیال ضرور رکھیں بحر و وزن کے ساتھ ساتھ!
اچھا ایک مصرع یہ دیکھ لیجیے: کبھی سوز تیرے نہ جی کو جلاتا۔ یا سوز تیرے، کر لیجیے۔ یا جی کو جلاتے۔
جی مہدی بھائی بجا فرمایا آپ نے دراصل بحر کے ساتھ غزل گوئی کی یہ میری وہ پہلی سعی تھی جس میں ، میں نے وزن کو ہر حال میں( بھرتی کے الفاظ سے) پُر کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن ظاہر ہے اب قلم کی وہ رفتار نہیں رہی کہ دھڑا ڈھڑ لکھتے جائیں ۔ اس پہلی کاوش کو من و عن پیش کیا ہے تا کہ باریک بینی سے تمام اسقام کو سمجھا جا سکے۔ توجہ فرمانے کا شکریہ
 

الف عین

لائبریرین
اس غزل کی ردیف بدلی جا سکتی ہے۔ اس صورت میں مبہم محسوس ہوتی ہے۔ یا تو ’چھپائے نہ جاتے ‘کر دیں۔ یا ’نہ رہتے‘ کچھ اشعار تب بھی کوئی اور ردیف چاہتے ہیں،
جو سینے میں تم کو چھپاتے نہ جاتے
کبھی غم کی شامیں مناتے نہ جاتے

سنو ہم سے الفت اگر تھی ذرا بھی
تو دل کو ہمارے جلاتے نہ جاتے

نہ ہوتی کوئی بھی خلش میرے دل میں
جوتم دل کے گلشن میں آتے نہ جاتے

کبھی سوز تیرے نہ جی کو جلاتا
غمِ عشق سینے لگاتے نہ جاتے
//سینے لگانا محاورے لے خلاف ہے، سینے سے لگانا محاورہ ہے۔

ہے خاروں سے تجھ کو یہ کیسی شکائت
گلوں سے دریچے سجاتے نہ جاتے

کبھی ہجر نہ خوں کے آنسو رلاتا
نظر سے نظر جو ملاتے نہ جاتے

تماشہ تو اپنا بنایا ہے خود ہی
غمِ جاں سبھی کو بتاتے نہ جاتے

نگاہیں رضا تیری با نور ہوتیں
جودن رات آنسو بہاتے نہ جاتے

جو آسان ہوتا اگر شعر کہنا
رضا گیت ہم کو سناتے نہ جاتے
یہ اشعار بھی ردیف کے لحاظ سے درست نیں
 
Top