" تقلید " کا دین میں تصور

ظفری

لائبریرین
تقلید
تقلید کا دین میں تصور

اردو محفل پر اور عام زندگی میں بھی ، ہم ایک دوسرے سے مختلف امور اور معاملات پر بحث و مباحثے میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ بحث برائے مقصد و تعمیر کیساتھ تبادلہِ علم اور عقل و دانش کیساتھ ہو تو انسانی فہم و فراست ، جمود کے تمام راستے ختم کردیتی ہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جس نظریے اور عقائد پر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اس پر نظرِ ثانی کرنے کو تیار نہیں ہوتے ۔ زیادہ تر یہ عقائد و نظریات قرآن و سنت سے ہٹ کر ہوتے ہیں ۔ جنہیں کسی مکتبہِ فکر کے کسی بڑے عالم کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے ۔ مکتبہِ فکر کے جلیل القدر عالموں نے دین پر گرانقدر کام کیا ہے ۔ مگر بعد میں آنے والے ان کے معتقدین نے اس میں بڑی الجھنیں پیدا کیں ہیں ۔ جس سے مسلمان معاشرے پر جمود طاری ہوگیا ہے ۔ گو کہ یہ مضمون میں نے تقلید کے حوالے سے ہی لکھا ہے مگر میری کوشش یہ بھی ہوگی کہ میں یہاں کچھ ایسے مسئلوں کو بھی زیرِ بحث لاؤں جو ہمارے لیئے بڑی سخت الجھنوں کا باعث بنے ہیں ۔ اس مضمون میں میری حتی الامکان یہی کوشش ہوگی کہ انتہائی سادہ زبان استعمال کروں ۔ کیونکہ میرا تاثر یہ ہے کہ ثقیل زبان کو فرد و عام کے لیئے استعمال کرنا ، مضمون کی دلچسپی کھو دیتا ہے ۔
مجھے امید ہے کہ محفل پر میرے دوست و احباب میری اس کاوش کو پہلے کی طرح سراہیں گے اور نیز یہ کہ بھی اس بار بھی میری حوصلہ افزائی بھی کریں گے ۔
 

ظفری

لائبریرین
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے لیئے مرکزِ تقلید ہیں ۔ اللہ کے نبی ہیں ، اللہ کے پیغمبر ہیں ۔ ہمارے پاس اللہ کی کتاب لیکر آئے ہیں ۔ ان کے بارے میں ہم سب کا ایمان یہی ہے کہ ان کے قول و فعل سے جو بات معلوم ہوجائے اس کے سامنے سرِ خم تسلیم کرنا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دین کے متعلق جو بات پوچھنی ہوتی تھی ۔ تو لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ پوچھتے لیتے تھے ۔ صحابہ کرام کا بھی اس معاملے میں یہی طریقہ تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ، جب کبھی کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تھا ۔ وہ اہلِ علم کے پاس جاتے تھے اور اپنے مسئلوں کا حل معلوم کر لیتے تھے ۔ اس کے بعد ہمارے ہاں اسلامی قانون باقاعدہ مرتب ہونا شروع ہوگیا ۔ یہ وہ دور ہے جس میں ہمارے جلیل و القدر فقہاء پیدا ہوئے ۔ امام ابو حنیفہ رح ، امام شافعی رح ، امام مالک رح ، امام حنبل رح ، ۔ ان کے نام تو سب نے سن رکھے ہیں ۔ مگر ان کے علاوہ بھی بہت جلیل القدر علماء اس دور میں پیدا ہوئے ۔ مسلمانوں نے بالعموم ان میں سے کسی نہ کسی ایک امام کو اپنا مرجا سمجھ کر اس کی طرف رجوع کرنا شروع کردیا ۔ پھر آہستہ آہستہ یہ خیال پیدا ہوا کہ جو اصول اب متعین ہوگئے ہیں ۔ اور جن جُزیات کے بارے میں ان علماء نے رائے دیدی ہے ۔ ان میں اگر لوگوں کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ کبھی وہ یہاں سے یہ بات ، کبھی وہاں سے کوئی اور بات سن لیں تو اس سے وہ خواہشِ نفس کے پیروکار ہوجائیں گے ، اس بات کا شدید اندیشہ ہے کہ جو بات ان کو اچھی لگے گی وہ اس کو قبول کرلیں گے اور دین بازیچہِ اطفال بن جائے گا ۔ لہذا لوگوں کو اس کا پابند کردیا جائے کہ وہ کسی ایک متعین امام کی تقلید کریں ۔ یعنی یہ تقلید کا مسئلہ یہاں اس طرح پیدا ہوا ۔ کوئی کسی ایک امام کو اصول میں بھی اپنا مرجا مانیں ۔ ان کو جب بھی دین میں کوئی رائے قائم کرنی ہو تو وہ اس امام کے اصول پر ( اگر پہلے سے کوئی بات معلوم ہے تو اسے اختیار کرلے ) ۔ ورنہ اگر کوئی نئی رائے بھی قائم کرنی ہے تو ان اصول کو پیشِ نظر رکھ کر کرے ۔ یہ وہ چیز ہے جسے اگر آپ سادہ زبان میں بیان کریں تو تقلید کہا جاتا ہے ۔ یعنی کسی ایک متعین امام کی پیروی کرنا ۔

جو طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں رائج تھا ، وہی فطری طریقہ تھا ۔جب اس طریقے کو چھوڑا جائے گا تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہم ایک چیز حاصل کریں گے اور دوسری کھو بیٹھیں گے ۔ یعنی اگر اس کو عام فہم زبان میں بیان کیا جائے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک عالم یا ایک محقیق برائے راست چیزوں‌کو اخذ کرتا ہے ، سمجھتا ہے اور باقی لوگ اس کی مدد سے چیزوں کو سمجھتے ہیں ۔ اس کی رہنمائی میں لوگ چیزوں کو سمجھتے ہیں ۔ صحابہ کرام کے دور میں دیکھئے ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے لوگ صبح دیکھتے تھے ۔ اور شام کو ان کو معلوم ہوتا تھا کہ ابو موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے مخلتف رائے رکھتے ہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک بات پوچھتے تھے تو معلوم ہوتا تھا سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا نقطہِ نظر دوسرا ہے ۔ تو لوگ اسکو اختیار کرلیتے تھے اس سے ایک زندہ معاشرہ وجود میں آتا تھا ۔ جس میں جمود نہیں‌ ہوتا ، بلکہ لوگ آگے بڑھتے ہیں ۔ یہی اصول آج کے معاشرے پر بھی لاگو ہوسکتا ہے ۔ بشرطیکہ آپ اپنی قوم کی تربیت کریں ۔ پہلے ہمیں دین کی تعلیم دینی چاہیئے ۔ بتانا چاہیئے کہ دین میں مسائل کیسے پیدا ہوتے ہیں ۔ اصول کیا ہیں ۔ ؟ ایک ہے محقیقانہ تعلیم ، عالمانہ تعلیم ۔ اور ایک وہ تعلیم ہے جو ایک عام آدمی کو دیتے ہیں اور آپ دیکھیے کی باقی معاملات میں وہ بہت صحیح رویہ اختیار کرتا ہے ۔ یعنی طب اور دیگر امور میں آخر وہ ماہرین کی طرف رجوع کرتا ہے ، ان کی رہنمائی حاصل کرتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے ۔ تو معاشرے کی تعلیم و تربیت کا جب تک اہتمام نہیں کیا جائے گا ۔ اس وقت تک یہ اندیشہ برقرار رہے گا کہ ایک شخص ‌بغیر سوچے سمجھے جو چاہے گا قبول کر لے گا ۔ اور اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کے لیئے ایک چیز یہاں سے اختیار کرلےگا اور دوسری چیز کہیں اور سے اٹھا لے گا ۔ لیکن اس کا علاج کیا یہ ہے کہ آپ پابندی لگا دیں کہ کوئی کسی خاص مکتبِ فکر رکھنے والا ، کسی اور مکتبِ فکر کی رائے اختیار نہیں‌ کرسکتا ۔

قرونِ اولیٰ میں دین اپنی سوشلائزشن کے عمل میں بھی اپنے مرتبہِ کمال کو پہنچا ہوا تھا ۔ یعنی فرد کی سمتَِ کمال اور معاشرے کی سمتَِ کمال باہم تھیں ۔ جہاں دین اپنے کسی بڑے مقصد کو پہنچ جاتا ہے ۔ وہاں تقلید کا پہلو اجاگر ہوجاتا ہے ۔ تقلید کیا ہے ۔ ؟ میرا ایک عذر ہے کہ میں محقیق نہیں بن سکتا اور یہ عذر اکثریت کوہمیشہ لاحق رہے گا ۔ اس عذر کی موجودگی میں دین کو سمجھنے اور دین پر چلنے کی جو تدابیر موثر ہوں ، قابلِ عمل ہوں ، خواہ بہترین نہ ہوں ۔ وہ اختیار کرنی پڑتیں ہیں ۔ انسان اپنے عقائد ، اعمال اور اپنے نظریات میں جب ایک معاشرتی قوت حاصل کر لیتا ہے تو اس میں تقلید یعنی دوسرے سے تعلیم حاصل کرنے ، یا دوسرے سے راہِ عمل متعین کروانے میں یہ ایک ہی طرزِ عمل ہے ۔ یعنی وہ یہ کہ کچھ میں آپ سے پوچھ لوں اور کچھ چیزیں کوئی اور بہتر بتادے تو اس رائے کو بھی میں اپنالوں ۔ کیونکہ اس رائے کو پوچھنے اور پھر ایک رائے کو قبول کرکے اسے مسترد کرنے کے عمل میں میرا ایک داعیہِ کمال کارفرما ہوتا ہے تا کہ میں اپنے حدودِ تسلیم میں ، اور اپنے حدودِ تعمیل میں مسلسل رُوبہ کمال رہوں ۔ تقلید اپنی آئیڈیل فارم میں صرف یہی ہے ۔

تقلید کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک بات میں کسی سے پوچھ لوں اور دوسری بات کوئی مجھ سے پوچھ لے ۔ لیکن جب معاشرہ اپنی بناوٹ میں ، اور انفرادی زندگی ، معاشرے کے دباؤ سے اپنی ساخت میں دین کی مطلوبہ انسانیت اور معاشرت کی ضروری معیارات سے ہٹنے لگتی ہے ۔ یعنی جب ہم اپنی نفسیاتی اور ذہنی ساخت میں دین کے کم از کم معیار پر بھی مطلوب ( کوالیفائیڈ ) آدمی بننے کے قابل نہیں رہتے تو اس وقت دین ایک Legal Structures کی حیثیت سے سامنے آتا ہے ۔ میری رائے میں تقلید کو ایک ضروری عنصر کے طور پر جاری رکھنے کا نہایت مخدوش لیکن غالباً واحد قابلِ عمل سلسلہ شروع ہوا ۔ یہ ایک حکمتِ عملی تھی جو تدبیر کے طور پر لی گئی ۔ یہ حکمتِ عملی دینی اصطلاح میں کسی واجب ، کسی ضرورت کی نشان دہی نہیں کرتی ۔یہ تقلید کی آئیڈیل شکل ہے جو اس وقت ہمارے معاشرے میں رائج نہیں ہے ۔ کیونکہ عموما ً تقلید میں کسی بھی قول کو کسی بھی دلیل کے بغیر قبول کرلیا جاتا ہے ۔ اس میں انسانی کاوشیں ہیں مگر ایک مثبت حصول کے مقصد کے لیئے ۔ اور کوئی بھی انسانی کاوش اس طرح کی عامیانہ منطق کے تحت نہیں دیکھی جانی چاہیئے کہ یہ بات بلکل صحیح ہے یا بلکل غلط ہے ۔ ہر بات اپنے جواز کے کچھ شواہد رکھے گی اور اپنی تقلید کے بھی کچھ دلائل رکھے گی ۔ تقلید پر جب ہم شرعی اور دینی اصطلاحات میں گفتگو کرتے رہیں گے تو ہم سوائے بحث برائے بحث کو بڑھانے کی سوا اور کچھ نہیں کریں گے ۔ اگر ہم تقلید کو ایک انسانی ضرروت اور اس ضرورت کے تسکین کے بدلتے ہوئے مظاہر پر نظر رکھ کر گفتگو کریں گے تو پھر ہم کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں ۔ دین کیا ہے ۔ ؟ دین نام ہے عقائد اور احکامات کا ۔ جس میں کوئی تقلید نہیں ہے ۔ لیکن انسان کی بناوٹ ایسی ہے کہ وہ اجمال کوتقصیر میں بدلنے پر مجبور ہے ۔ وہ مجمل پر قانع نہیں رہ سکتا ۔ یعنی میں اپنی حدودِ تسلیم کو بڑھاتا ہوں ، اپنی حدودِ تعمیل کو بڑھاتا ہوں اور میں زندگی کے پورے پھیلاؤ کو ، جو انتہائی تنوع اور انتہائی سرعت کیساتھ بڑھتا جا رہا ہے ۔ اس کو میں اپنے داعیہ ِ تعمیل کے تحت رکھنا چاہتا ہوں ۔ اس خواہش سے انکار ، ایک سوجھ بوجھ والا انسان نہیں کرسکتا ۔ لیکن اس خواہش کے تقصیر اور تعمیل کے جو ذرائع نکالے گئے ہیں ۔ ان سب میں جو چیز مشترک ہے ۔ وہ تقلید ہے ۔ مگر اس کی تشریح ہمارے مذہبی ذہن میں جس طرح پروان چڑھی ہے ۔ میری رائے میں وہ انتہائی مضر ہے ۔ کیونکہ علم اور دین کی روایت میں تقلید کہیں موجود نہیں ہے ۔ اور نہ ہی لفظ " تقلید " قرآن و حدیث میں بھی کہیں ملتا ہے ۔

( جاری ہے )
 
ظفری مفتی رفیع‌ عثمانی سے تقلید کے متعلق چند دن پہلے ہی ٹی وی پر سوال ہوا اور ان کے جواب میں جو گہرائی تھی اور جو نچوڑ تھا وہ میں ضرور پیش کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے تقلید کے ضروری اور غیر ضروری ہونے کے بارے میں سادہ سا یہ جواب دیا جس کا مفہوم یہ تھا۔

تقلید ایک شرعی نہیں انتظامی مسئلہ ہے

ظفری اس پر میں بھی ایک مضمون لکھنے کی کوشش میں ہوں اور اس کے لیے میں نے اپنے ایک انکل سے رابطہ کیا ہے جو مدرسہ سے فارغ التحصیل ہیں اور بہت سا وقت سعودی عرب بھی گزار کر آئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ پہلے اس پر مستند کتابیں لائبریری سے لے آئیں اور پھر اس پر ایک سیر حاصل گفتگو ہو۔ تم جاری رکھو میں بھی بیچ بیچ میں کچھ نکات پر بات کرتا جاؤں‌گا۔
 

ظفری

لائبریرین
محب ! بات یہ ہے کہ اس مسئلے پر میری نظر کافی عرصے سے تھی ۔ مگر میرے پاس یہاں کتب کا کوئی ذخیرہ نہیں ہے ۔ جس سے میں مستفید ہوسکوں ۔ اس طرح کے جو کچھ مضامین بھی میں یہاں تحریر کرتا ہوں ۔ وہ میری " یاداشت " اور سوچ و بچار کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔ مگر اللہ کے فضل وکرم سے کچھ عرصے سے مجھے ایسے لوگوں کی صحبت نصیب آگئی ہے جن کے علم کی روشنی سے استفادہ کرکے میرا رکا ہوا سفر دوبارہ شروع ہوگیا ہے ۔

رہی بات تقلید کے شرعی مسئلے نہ ہونے کی تو اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ اس کا دین میں کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے ۔ لہذا اسے قانون یا شریعت بنانے کی بحث کرنا ۔ زیرِ بحث موضوع کے دائرے سے باہر ہے ۔ دراصل میں یہاں ان خرابیوں کو اجاگر کرنا چاہ رہا ہوں ۔ جس نے مسلم امہ کو تقسیم کردیا ہے ۔ اور اس تقسیم کے بڑے اسباب میں ایک " تقلید " بھی ہے ۔ مسلم امت پر جمود اور ایک دائرے کا سفر ، دراصل اسی تقلید کے گرد گھومتا ہے ۔ اور اس سے کیا کیا پیچیدگیاں پیدا ہوئیں ہیں ۔ انشاءاللہ میں اسے آگے بیان کروں گا ۔ جس سے یہ بات سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ خرابی اصل میں کہاں سے پیدا ہوئی ہے ۔

اور مجھے خوشی ہوگی کہ تم اس سلسلے میں کوئی نکات یہاں پیش کرو ۔ تاکہ اس پر کوئی سیر حاصل گفتگو ہوسکے ۔ تاکہ اس موضوع کو مذید کوئی وسعت مل سکے ۔ :)
 
صحبت سے کیا خوب یاد دلا دیا تم نے مجھے بھی ایسی صحبت پھر سے میسر آ‌گئی ہے اس وجہ سے ان موضوعات پر پھر سے میں بھی متحرک ہو رہا ہوں۔

میں اس پر ضرور اظہار خیال کروں گا اور تاریخ کے مختلف ادوار میں تقلید کے رجحانات پر بھی بات کروں گا۔ تم اسے جاری و ساری رکھو دیکھنا کچھ ہی دیر میں اس موضوع پر سب سے زیادہ گرما گرم بحث ہونی ہے ;) مگر لطف رہے گا کیونکہ ایک طرف ہوں گے تقلید کے حامی اور دوسری طرف تقلید کے منکر :)
 

ظفری

لائبریرین
کیا بات ہے کہ ، آگ دونوں طرف ہے برابر لگی ہوئی ۔ ;)

میں نے اس بار خاص خیال رکھا ہے کہ یہاں بحث برائے بحث کا کوئی پہلو پیدا نہ ہو ۔ اس لیئے ایسے جزئیات اور نکات زیرِ بحث لا رہا ہوں کہ جس پر کلی اختلاف ناممکن ہوگا ۔ مگر کچھ کہہ نہیں سکتے ۔ اگر ایسا ہو بھی تو میں کوشش کروں‌گا کہ بحث کوعلمی انداز میں لوں تاکہ مکالمے کی فضا برقرار رہ سکے ۔
 
واضح رہے کہ جسے شریعیہ کہتے ہیں وہ ایک طرح سے قرآن کی مدد سے قوانین بنانے کی کوشش کا نام ہے۔ جس کے لئے کوشش یہ کی گئی کہ لوگ اس کو قرآن کی طرح مانیں۔ دیگر یہ کہ شریعیہ ایک غیر موجود حکومت کے بنائے ہوئے قوانین تھے یا کچھ لوگوں کی قرآن سے قوانین بنانے کی کوشش تھی، انسانوں کی اپنی عقل سے بنائے ہوئے قوانیں یعنی شریعیہ کی اپنی کوئی الہامی حیثیت نہیں، اس سے علمی استفادہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن ایمان بالقرآن کے مترادف نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ ایک مزید نکتہ ہے رد اندھی تقلید کی مد میں۔
 

ظفری

لائبریرین
فاروق بھائی ۔ بلکل صحیح فرمایا آپ نے ۔ اور اسی بات کا کسی اور انداز سے میں پہلے بھی کہیں ذکر چکا ہوں ۔ اصل میں ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم نے مذہب کو قانونی اصطلاحات میں اسیر کرکے ایک طاقت پر قائم رہ جانے والا نظام بنا کر پیش کیا ۔ ہمارا معاشرہ ہو یا ریاست ، اس نے دین کے احکامات کی اخلاقی روح کو اقدار بنانے کے بجائے دین کے احکام کو مجموعہِ قوانین بنا کر اس کو بلا لحاظ نافذ کردینے کا ایک تصور پال رکھا ہے ۔ جو ہمارے یہاں ریاست اور نظریے کے تعلق میں بھی ایک تصنوع ، جبر اور ناکامی کا سبب بنا ہے ۔ جب ہم اسلام کو لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہوتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا کہ ہم اقدار پر مبنی کسی تصور کی بات کررہے ہیں بلکہ ہم قوانین پر ایک فکر کو فروغ دے رہے ہوتے ہیں جس پر ہمارا تمام اصرار اسی بات پر ہوتا ہے کہ یہ قانین نافذ کر دیئے جائیں یا یہ حدودِ قوانین آجائیں تو اس سے فلاح آسکتی ہے لہذاٰ اس طرزِ عمل سے یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ اسلام جبری طور پر قانون معاشرے پر نافذکرنا چاہتا ہے ۔ جبکہ اسلام بنیادی طور پر اقدار پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں قانون بھی بنے گا ۔ ناکہ قانون سازی کے ذریعے وہ ریاست یا سوسائٹی پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے ۔
اس پر بھی بحث ہوتی رہے گی آپ اب اس آرٹیکل کا دوسرا حصہ پڑھیئے ۔ :)
 

الف نظامی

لائبریرین
واضح رہے کہ جسے شریعیہ کہتے ہیں وہ ایک طرح سے قرآن کی مدد سے قوانین بنانے کی کوشش کا نام ہے۔ جس کے لئے کوشش یہ کی گئی کہ لوگ اس کو قرآن کی طرح مانیں۔ دیگر یہ کہ شریعیہ ایک غیر موجود حکومت کے بنائے ہوئے قوانین تھے یا کچھ لوگوں کی قرآن سے قوانین بنانے کی کوشش تھی، انسانوں کی اپنی عقل سے بنائے ہوئے قوانیں یعنی شریعیہ کی اپنی کوئی الہامی حیثیت نہیں، اس سے علمی استفادہ تو کیا جاسکتا ہے لیکن ایمان بالقرآن کے مترادف نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ ایک مزید نکتہ ہے رد اندھی تقلید کی مد میں۔

شریعہ قرآن و حدیث سے استنباط کرکے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
قرآن کے ساتھ شارع قرآن محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ارشادات بھی یکساں ضروری ہیں۔
 

ظفری

لائبریرین
تقلید کا دین میں تصور

فطری طور پر ایسا ضروری نہیں ہے کہ ہر آدمی دلیل طلب کرنے کا تقاضا کرے ، یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ مناظرہ کرے ۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ مباحثہ کرے ۔اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کوئی بات اس کو بتائی جائے تو وہ اس عدمِ اعتماد پر کھڑا ہو جائے کہ ، اچھا بتایئے کہ آپ کہاں سے کہہ رہے ہیں ۔ عام طور پر ہم اعتماد کرتے ہیں ۔ اصل میں خرابی کہاں سے پیدا ہوئی ہے کہ جہاں سے ہم فطری حدود سے تجاویز کرکے ایک قدم آگے رکھتے ہیں اور اب ایک باقاعدہ شرعی مسئلے کی حیثیت سے تقلید کو بیان کرتے ہیں کہ چوتھی صدی کے بعد ، اب کسی صاحب ِعلم کے لیئے اس میں کوئی رائے قائم کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جو خرابی کا باعث بنی ہے ۔ اصل میں عام آدمی فطری طور پر ماہرین کے پاس جاتا ہے ، ان سے رائے طلب کر لیتا ہے اور اس معاملے میں وہ کوئی تردود رکھتا ہے ،یا کوئی بات پوچھ لے تو یہ کوئی ناجائز نہیں ہے ۔ سارے لوگ پوچھتے ہیں ۔ خرابی یوں پیدا ہوئی کہ علماء نے اپنے اوپر یہ بات لازم کی کہ اگر وہ حنفی ہیں تو پھر وہ پیدائشی حنفی ہیں ۔ اب ان کو کسی اہلِ حدیث کی کسی رائے پر غور نہیں کرنا ۔ اگر وہ شافعی ہیں تو وہ پیدائشی شافعی ہیں اور یہ ان کی حرمت میں ہے کہ وہ کبھی امام مالک کی رائے پر غور نہیں کریں گے ۔ یہ سب ہمارے علماء ہیں ۔ اگر ہم ان کو دین میں اپنا رہنما مانیں ۔ خواہ وہ امام مالک ہوں ، امام شافعی ہوں ، امام ابوحنیفہ ہوں یا امام حنبل ہوں یا بعد کے جلیل و القدر علماء ہوں ۔ فہقاء ہوں ، جو بھی ہوں ان کو اپنا رہنما مانیں اور یہ بھی خیال کریں کہ موجودہ زمانے میں کوئی صاحب ِ علم ہے تو ہم اس کی طرف بھی رجوع کریں ۔ اگر کوئی عام آدمی کسی عالم کی طرف رجوع کرتا ہے تو کون اس سے اختلاف کرے گا ۔ اگر ایک عام آدمی کو کہا جاتا ہے کہ اپنا نسخہ خود نہیں لکھنا چاہیئے ، بلکہ کسی ماہرِ طب سے رجوع کر لینا چاہیئے کہ اس طرح اس کی صحت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ تو کوئی بھی اس سے اختلاف نہیں کرے گا ۔ مصبیت کہاں واقع ہوئی ہے ؟ مصبیت یہاں واقع ہوئی ہے کہ اہلِ علم یہ چیز اپنے اوپر حرام قرار دے بیٹھے ہیں ۔ لہذا وہ یہ کہتے ہیں کہ اب جو حنفی پیدا ہوا ہے ، وہ حنفی مرے گا ۔ جو شافعی پیدا ہوا ہے وہ شافعی ہی مرے گا ۔ اور کسی حنفیت کے لیئے اپنی حنفیت چھوڑ کر شافعیت کو اختیار کرنا یا شافعیت کے لیئے کسی اور رائے کو اختیار کرنا ناممکن ہے بلکہ حرمت کے درجے میں ہے ۔ میرے نزدیک یہ وہ چیز ہے جو ان آئمہ کو پیغمبر کا درجہ دیدیتی ہے ۔ جس کے بعد دین کے تمام نصوص بے معنی ہوجاتے ہیں ۔ اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امام ابو حنیفہ میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا ۔ اس خرابی کی اصلاح کی ضرورت علماء میں ہے ۔ عام آدمی تو بیچارہ وہیں کھڑا ہوتا ہے اگر آپ اس کو اجتہاد کرنے کو کہہ دیں گے تو پتا نہیں وہ کیا کر بیٹھے گا ۔ اور یہ بھی اسے کہہ دیں کہ وہ اپنی کوئی آراء قائم کرلے تو پتا نہیں کیا آراء قائم کرلے گا ۔ یہ بات بلکل درست اور بجا ہے کہ عام آدمی کو تعلیم بھی دینی ہے ، تربیت بھی کرنی ہے ۔ اور اس کے اندر کمال حاصل کرنے کے داعیت بھی پیدا کرنے ہیں ۔ اس کے بغیر اگر ہم اس کو کہیں گے کہ یہ وہاں سے لے لو ، وہ یہاں سے لے لو ۔ تو اسکا شدید اندیشہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کسی گہرے کھڈ میں گرا دیگا ۔ عام آدمی یہ کام نہیں کرتا ، کبھی نہیں کرے گا ، کیونکہ وہ یہ کام ، طب میں نہیں کرتا ، سائنس میں نہیں کرتا ۔

عالم یہ کہتے ہیں کہ ہم کو دین پر براہِ راست غور نہیں کرنا ۔ عالم یہ کہتے ہیں کہ آپ قرآن کی آیت پیش کررہے ہیں ۔ مگر ہمارا امام یہ کہتا ہے ۔ عالم یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہے ۔ مگر ہمارے امام کا یہ فرمان ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جس نے آئمہ کو پغیبر کا درجہ دیدیا ہے ۔ اور امت میں اتحاد ، اتفاق اور مکالمے کے سارے راستے بند کر دیئے ہیں ۔ اب میں کسی ایسے شخص سے مکالمہ نہیں کرسکتا جس نے اپنے آئمہ کو سب کچھ بنالیا ہے ۔ کیونکہ میں اس کے سامنے قرآن اور حدیث کے سارے نصوص سامنے رکھ دونگا اور وہ کہے گا کہ ہمارا مسلک کچھ اور کہتا ہے ۔ لہذا ایک عام آدمی پر جہاں تعلیم و تربیت لازم ہے ، اسی طرح علماء کی بھی اصلاح ان خطوط پر ہونی ضروری ہے ۔ چنانچہ یہ صورت یعنی تقلید ، تحقیق اور اجتہاد کے سارے دروازے بند کردیتی ہے ۔ کیونکہ عالم کے لیئے یہ ایسا ہے کہ وہ اپنی دینی ذمہ دار ی سے فرار اختیار کر رہا ہے ۔ اگر وہ تقلید پر اس درجہ میں اصرار کرتا ہے کہ جس درجے میں وہ اصرار مروج ہے تو معمول میں ہے ۔ انسان کی ذہنی استعداد ، انسانی شعور کا جوہر ، اپنے حالات کے بہت حد تک تابع ہوتا ہے ۔ اور وہ اس کے مطابق اپنی قبولیت کی صلاحیتیں بدلتا رہتا ہے ۔ علماء کے اس رویے کی وجہ سے ہماری "Revelant” استعداد دین سے متعلق نہیں رہی ۔ یعنی میری حاضر استعداد جو میرے اختیار سے پیدا نہیں ہوئی ۔ وہ ساری کی ساری استعداد ، میری سب سے قیمتی چیز ، دین سے غیر متعلق ہوکر رہ گئی ۔ یہ بہت بڑا نقصان ہوا ہے ۔ اسی وجہ سے ہم دینی سطح پر کوئی ایسا اسلوب فراہم نہیں کرسکیں ہیں جو ہمارے ذہن میں پہلے سے موجود طرزِ استدلال سے ایک اطمینان بخش مناسبت رکھتا ہو ۔ چناچہ ایک طرح سے دولختی پیدا ہوگئی کہ ہمارے لیئے ثبوت کے صرف دو ذرائع ہیں ۔ ہماری اصل صلاحیت کے سارے ثبوت کے ذرائع ، بنیادی تعلیم سے حاصل ہوتے ہیں ۔ اور ہمارے واہمے میں جتنے بھی ثبوت اور اصرار کی قسمیں ہیں وہ ساری کی ساری دینی ہے ۔ لہذا یہ انتہائی ناقابلِ تلافی نقصان یوں ہوا ہے کہ دین سے متعلق تمام سطحیں انتہائی مکینکل اور انتہائی پست درجے پر قانونی صداقت کو ثابت کرنے والی رہ گئیں ہیں ۔

( جاری ہے )
 

خرم

محفلین
دراصل مخمصہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم تقلید کو صرف من و عن مان لینا ہی سمجھتے ہیں۔ عوام کے لئے تو یہی اور صرف یہی صورت جائز ہے لیکن علماء و خواص‌کے لئے یہ بات جاننا بہت ضروری ہے کہ ان کے امام نے اگر کسی آیۃ قرآن کی یا کسی حدیثِ نبوی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریح‌کی تو اس کی موافقت میں کیا دلائل دئے۔ پھر اس بات کا بھی جاننا ضروری ہے کہ دوسرے ائمہ نے ان دلائل کا کن وجوہات کی بنا پر رد کیا یا ان سے انحراف کیا۔ جب تک آپ کو یہ علم نہیں ہوگا آپ عالم کہلانے کے لائق ہی نہیں۔ عمومی طور پر تو یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ چہار ائمہ میں سے کسی کی بھی تقلید اہلسنت کے یہاں‌روا رکھی جاتی ہے۔ لیکن جب بات علماء کی آتی ہے تو ان کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات پر آگاہ ہوں کہ وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر وہ کسی امام کی تقلید کر رہے ہیں‌اور یہ وجوہات خالصتاَ علمی ہونا چاہئیں نا کہ جذباتی۔ بدقسمتی سے موجودہ علماء کی اکثریت اپنے علم میں‌ایک عامی سے بہتر نہیں ہیں۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ اکثریت نے کبھی اپنے مسلک سے باہر کبھی مطالعہ ہی نہیں‌کیا۔ بس طوطے کی طرح مسائل رٹ لئے اور اللہ اللہ خیر صلا۔ یقیناَ دین کےمسائل میں‌علمائے اولٰی کی اتباع ضروری ہے کیونکہ ان کا زمانہ ہم سے بہتر تھا اور انہوں نے دین ہم سے بہتر لوگوں سے سیکھا لیکن یہ اتباع فہمِ دین میں اضافہ کا باعث ہونا چاہئے نا کہ اس میں کمی و جمود کا۔
 

ظفری

لائبریرین
(تقلید کا دین میں تصور) حصہ سوئم
مسلمانوں کی اگر مذہبی نفسیات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پہلی دو ، تین صدیوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کے ہاں فقہہ کا جو ڈھانچہ ہے یعنی ہمارے ہاں شریعت اور جو قانون ہے ۔ اس کے بارے میں بھی تقلید کا نظریہ قائم کرلیا گیا ہے ۔ تقلید کا نقطہِ نظر دراصل جہموری روح کے بلکل خلاف ہے ۔ یعنی یہ اس اصول کو نہیں مانتا کہ لوگ سوچ سکتے ہیں ، غور کر سکتے ہیں ، وہ کسی چیز کو ردوبدل کی بنیاد پر دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ بات قبول کرنے کے لیئے تقلید کا نقطہِ نظر تیار نہیں ہے ۔ پاپائیت کی جو روایت عیسائیوں میں پہلے رائج تھی ۔ اس کو ہم مکمل طور پر تو اپنے ہاں زندہ نہیں کرسکے مگر اس کا کسی حد تک ایک پَرتَو ہم نے اپنے ہاں زندہ ضرور کیا ہے ۔

اب شریعت ، قانون اور فقہہ کے دائرے کو چھوڑ دیں ۔ اب اس کے بعد دین و اخلاق میں لوگوں کی طرف جب رجوع کیا جاتا ہے تو ہمارے ہاں مرشد کا ادارہ وجود میں آگیا ۔ یعنی یہاں آپ Surrender کرتے ہیں ۔ چناچہ ہمارے ہاں مسلمانوں کی جو عمومی ذہنیت ہے وہ یا تو محکوم کی ہے یا مقلیدین کی ہے ، یا پھر مریدین کی ہے ۔ یعنی آزادی ، حریت ، زندگی اور چیزوں کے بارے میں ایک عام سوچ بھی سکتا ہے ، کوئی رائے قائم کرسکتا ہے ، اس کو ہم قبول کرنے کے لیئے تیار نہیں ہوتے ۔ اگر آپ آج دیکھیں کہ کوئی بھی آزادی اور حریت کیساتھ دین پر گفتگو نہیں کرسکتا ۔ یعنی ہمارے ہاں مکالمے کی فضا ہے ہی نہیں ۔ یعنی معمولی درجے پر بھی اگر کوئی ادمی اختلاف کردے تو سمجھئے کہ پگڑی پونجی غائب ۔ جو چیزیں معاشرتی ہیں ، مگر ان کو قوم اختیار کرنے کو تیار نہیں ہوتی تو اس کے بارے میں اللہ بھی کیا کرسکتا ہے سوائے اس کے کہ بات سمجھا دے ۔ ہمارے ہاں بھی بلکل ایسے ہی ہوا ۔ جس وقت مسلمانوں نے خلافت قائم کی ۔ ( جس کو خلافت کا نام دیا گیا ) ۔ تو اس کے بعد عراق فتح ہوگیا ، شام فتح ہوگیا ، رومیوں کو شکست ہوگئی ، ایران تسخیر ہوگیا تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ آسائشیں ، وہ محلات ، وہ ساری نعمتیں جو اُن بادشاہوں کو حاصل تھیں ۔ وہ انہیں کیوں نہیں حاصل ہوسکتیں ۔ چناچہ نظام کے اعتبار سے مسلمان جلد ہی اس سے متاثر ہوگئے ۔ اور ہماری خلافت کا نظام ( جس کو لوگوں نے خلافت کے لفظ سے تعبیر کیا ہوا ہے ) اس کے بعد ملکویت قائم ہوگئی ۔ خلافت پر اکثر بحث ہوتی ہے ۔ مگر خلافت کو کسی نظام سے تعبیر نہ کجیئے ۔ کیونکہ قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کا نظم ِ حکومت نہ تو کوئی آسمان سے اتر کر چلائے گا ۔ نہ ہی کسی خاندان کو کوئی خصوصی حیثیت حاصل ہے ۔ اور نہ کوئی طاقت کے بل بوتے مسلمانوں پر مسلط ہوسکتا ہے ۔ قرآن نے ” اَمرَھُم شُوریٰ بَنیَا ھُم ” کا اصول بیان کردیا ۔ اس کی بنیاد پر کوئی نظام نہیں دیا گیا ۔ اور نہ ہی مذہب کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ کوئی نظام دے ۔ وہ صرف اصول دیتا ہے ، اصول وضع کرتا ہے ۔ اور انسان ان اصول کو سامنے رکھ کر اپنے تجربات سے نظام تخلیق کرتا ہے ۔ قرآن اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہتا ۔ اور اس کو کہنا بھی نہیں چاہیئے تھا ۔ نظم بنانا ہمارا کام ہے ۔ اور یہ بات ایک قبائلی معاشرے میں کہی گئی ۔ چناچہ اس کی بنیاد پر وہاں کوئی نظام وجود میں آجاتا ، ایسا نہیں ہوا ۔ خلافتِ راشدہ بنیادی طور پر ( معذرت کیساتھ عرض کروں ) کہ ایک قبائلی حکومت تھی اور ایک قبائلی حکومت ، قبائلی روایت میں جس طرح اس عمل پر ، اس اعلیٰ اصول پر روبہ عمل ہوسکتی تھی ۔ انہوں نے اُسے اعلیٰ پیمانے پر کرکے دکھایا ۔ اس کو کسی نظام میں بدلنا تو بہت بعد میں ہونا چاہیئے تھا ۔ لیکن قبل اسکے کہ یہ کام ہوتا ، ملکویت قائم ہوگئی ۔

( جاری ہے )
 

خرم

محفلین
یہاں چند ایک باتیں ہیں جن کا بیان کرنا ضروری سمجھوں گا۔ سب سے پہلی بات یہ کہ مرشد ماننا یا مرید بننا یا کسی امام کا مقلد ہونا ابتدائی اقدامات ہیں۔ جیسے طریقت میں کہا جاتا ہےکہ بیعت ہونا صرف دروازے میں داخل ہونا ہوتا ہے۔ مرشد یا امام صرف ایک استاد ہوتا ہے جو قولاً و فعلاَ اپنے مرید یا شاگرد کی رہنمائی کرتا ہے۔ سیکھنے کا جذبہ اور تڑپ تو مرید یا مقلد کی اپنی ہوتی ہے۔ کوئی بھی سچا پیر یا امام اپنے مریدوں یا شاگردوں کو سوال کرنے سے نہیں‌روکے گا۔ ہاں کبھی کبھار ایسی باتوں پر ٹوک ضرور کی جاتی ہے جو مرید/شاگرد کی موجودہ ذہنی استعداد سے دور کی ہوں تاکہ قبل از وقت علم سے نقصان نہ پیدا ہو۔ مکالمہ کی بندش کا ماحول کبھی بھی علمائے حق یا خالص راہبرانِ طریقت کے یہاں نہیں رہا۔ ہاں یہ ضرور رہا کہ اگر ایک عامی اٹھ کر ایک پیچیدہ مسئلہ پوچھے تو اس کے لئے اتنا ہی بتایا جانا کافی ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں اسے کیا طرزِ عمل اختیار کرنا ہے۔ اس سے زیادہ کی نا تو اسے ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کرنا مناسب ہوتا ہے۔ سب سے بڑی مثال یہ کہ معلمِ کامل سرکارِ دوعالم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب میں علم بھی ان کے ظرف و طلب کو سامنے رکھ کر دیا۔ حضرات ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمانِ عفان، حیدرِ کرار، ابن عباس، عبداللہ ابن عباس، عبداللہ ابن عمر، عبداللہ ابن سلام، ابوذر غفاری رضوان اللہ علیہم اجمعین کو عطا کردہ علم کی مقدار مختلف ہے۔ یہی اصول ہے جس پر تمام شیوخِ طریقت و علمائے حق کاربند رہتے ہیں۔
یہاں‌اس غلط فہمی کا بھی تدارک چاہوں گا کہ قرآن نے ہمیں نظام نہیں دیا۔ جیسا کہ ظفری بھائی نے کہا کہ قرآن نے ہمیں اصول دئے اور نظام کی بنیادیں اصولوں پر ہی ہوا کرتی ہیں خواہے وہ اصول سماوی ہوں یا جبلیاتی۔ ہاں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قرآن ہمیں ایک خاص طریقہ حکومت کا پابند نہیں کرتا اور ایسا کرنا ہی قرآن کی حقانیت کا ثبوت ہے کیونکہ قرآن ہر زمانے کے لئے ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ قرآن صرف مذہبی معاملات کے لئے ہے غلط ہوگا۔ کیونکہ قرآن مذہب،معاشرت، تمدن، تہذیب، سائنس ہر چیز کے لئے بنیادی اصول فراہم کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کریم انسانوں کو آزادی دیتا ہےکہ ان اصولوں کے اندر رہتے ہوئے جس طرح چاہیں اپنی زندگی گزاریں۔ ایک مثال عرض کرتا ہوں۔ قرآن زکوٰۃ کا نظام قائم کرتا ہے اور اسے کسی بھی اسلامی نظامِ حکومت کے لئے لازم قرار دیتا ہے۔ اب یہ اپنی روح‌میں ایک عباداتی حکم نہیں ایک انتظامی و معاشی حکم ہے کہ دولت امیروں سے لے کر غریبوں میں تقسیم کی جائے۔ اسی طرح قرآن چند معاملات میں حدود کا تعین کرتا ہے جن پر عملدرآمد ایک اسلامی معاشرہ کے لئے لازم ہے۔ ہاں ان کے سوا کسی بھی قسم کی قانون سازی کے لئے انسان آزاد ہے جب تک کہ دامنِ عدل ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ تو قرآن کو صرف ایک مذہبی کتاب نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں‌ ایک متوازن معاشرے کی تشکیل کے رہنما اصول درج ہیں۔
 
Top