کتب خانے تصوف پر ایک اہم کتاب اور لائبریری

ابن محمد جی

محفلین
اسرار الحرمین
اسرار الحرمین حضرت اللہ یارخانؒ کی تصنیف ہے ،یہ کتاب شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی کتاب فیوض الحرمین سے مشابہ ہے یعنی اس میں بھی بارگاہ نبوی علیہ اصلوۃ والسلام کے مشاھدات ہیں کتاب کے دوحصے ہیں ،اول حصہ میں دلائل ہیں اور آخری حصہ دوارانِ حج جو مشاھدات ومکاشفات حضرتؒ کو ہوئے لکھے گئے ہیں ،اس کتاب میں ایک اہم بات یہ ہے کہ شیعت پر بھی حضرتؒ کی گفتگو سرکار دو عالمﷺ سے ہوئی ہے،کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے
حضرت اللہ یار خانؒ چکڑالہ (میانوالی ،پاکستان) کے رہنے والے تھے آپ سلسہ نقشبنیہ اویسیہ کے مشائخ میں سے ہیں،علم تصوف میں آپ کی خدمات آفتاب کی طرح روشن ہیں آپ اپنے مریدوں کی تربیت کرکے بارگاہ نبویﷺ میں روحانی بیعت کرواتے تھے،راقم الحروف ذاتی طور پر بھی ایسے دسیوں احباب کو جانتا ہے جنہیں بارگاہ نبویﷺ کی حاضری نصیب ہے۔
آپ نے 1984میں وفات پائی آپکے جانشین حضرت امیر محمد اکرم اعوان مد ظلہ العالی ہیں۔جو آج بھی دارلعرفان منارہ چکوال میں سالکین کے قلوب گرما رہے ہیں۔ مزید دیکھے
http://www.naqshbandiaowaisiah.com/onlinelibrary.html
 

شمشاد

لائبریرین
ڈاؤنلوڈ پر کلک کرنے سے کتاب تو ڈاؤنلوڈ نہیں ہوتی اور کتاب کا سرورق JPG میں آ جاتا ہے۔
 
ابن محمد جی جزاک اللہ بہت عمدہ کتاب آپ نے شیئر کی ڈاونلوڈ کر کہ ایک دفعہ ساری پڑھ ڈالی مزا آگیا۔
شمشاد صاحب ڈاونلوڈ کی جگہ readپر کلک کر کہ scribd پر جائیں اور وہاں سے ڈاونلوڈ کر لیجئے میں نے ابھی اس ڈائرکٹ لنک سے کتاب ڈاونلوڈ کی ہے، لیکن ناجانے اب کی کام کرتا ہے کہ نہیں
http://www.scribd.com/document_down...t=1354629421&uahk=ljmT6UwqfwkTTgl8ccQUOwUFH8c
 

فلک شیر

محفلین
اسرار الحرمین
،اول حصہ میں دلائل ہیں اور آخری حصہ دوارانِ حج جو مشاھدات ومکاشفات حضرتؒ کو ہوئے لکھے گئے ہیں ،اس کتاب میں ایک اہم بات یہ ہے کہ شیعت پر بھی حضرتؒ کی گفتگو سرکار دو عالمﷺ سے ہوئی ہے،
http://www.naqshbandiaowaisiah.com/onlinelibrary.html
محترم ابن محمد جی انعام جی.....اگر برا نہ مانیں، تو مجھ ناقص العقل کو بھی سمجھائیں...کہ اگر یوں سید ولد آدم جناب محمدصلی اللہ علیہ و سلم سے رہنمائی لی جاسکتی ہے، تو موجودہ عصری مسائل اور امت کے بے شمار گروہ......اس سلسلہ میں اُن سے رہنمائی کیوں نہیں لی جاتی......اور کیا اس طرح کے مکاشفات و مشاہدات کی تشہیر مزید غلط فہمیاں پھیلانے کا سبب ہی نہ بنیں گی۔براہ کرم اسے کسی قسم کی گستاخی یا فرقہ پرستی پہ محمول نہ فرمایے گا......طالب علم ہوں..... رہنمائی فرمایے۔
 
محترم ابن محمد جی انعام جی.....اگر برا نہ مانیں، تو مجھ ناقص العقل کو بھی سمجھائیں...کہ اگر یوں سید ولد آدم جناب محمدصلی اللہ علیہ و سلم سے رہنمائی لی جاسکتی ہے، تو موجودہ عصری مسائل اور امت کے بے شمار گروہ......اس سلسلہ میں اُن سے رہنمائی کیوں نہیں لی جاتی......اور کیا اس طرح کے مکاشفات و مشاہدات کی تشہیر مزید غلط فہمیاں پھیلانے کا سبب ہی نہ بنیں گی۔براہ کرم اسے کسی قسم کی گستاخی یا فرقہ پرستی پہ محمول نہ فرمایے گا......طالب علم ہوں..... رہنمائی فرمایے۔
آپ کا سوال میری ناقص تفہیم کے مطابق دو حصوں پر مبنی ہے
اولا کیا سید الانبیا سے آج کے دور میں رہنمائی لی جاسکتی ہے۔ جواب یہ ہے کہ لی جاسکتی ہے اور اس امت مرحومہ کے بے شمار افراد اس سے مشرف ہو چکے ہیں۔متعدد حضرات صوفیا نے اس بارے میں تفصیلا بیان کیا ہے۔
دوسرا سوال کہ موجودہ عصری مسائل اور امت کے بے شمار گروہوں کے بارے میں کیوں رہنمائی نہیں لی جاتی
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ رہنمائی سب سے اول قرآن و سنت رسول کی صورت میں موجود ہے ، لیکن ان سے تمسک کرنے والے کتنے ہیں؟ دوسری بات براہ راست بھی یہ رہنمائی لی جاتی رہی ہے۔ مکتوبات امام ربانی از حضرت مجدد الف ثانی، حسام الرمین از شاہ ولی اللہ اور کچھ ان کی تصانیف نیز مولانا اللہ یار صاحب کی مذکورہ بالا کتاب اسی سلسلے کی ہیں تاہم ان باتوں کو قبول کرنے میں ہمارے اپنے موجودہ عقائد و رجحانات سد راہ ہیں۔
ظاہر ہے جو افراد قرآن و احادیث رسول کو ہی سند نہ سمجھیں اور فرقہ بازوں کی تاویلات ان کے نزدیک سند کا درجہ رکھتی ہوں وہ مکاشفات صوفیا کے بھلا کیا قائل ہو سکتے ہیں؟
 

فلک شیر

محفلین
آپ کا سوال میری ناقص تفہیم کے مطابق دو حصوں پر مبنی ہے
اولا کیا سید الانبیا سے آج کے دور میں رہنمائی لی جاسکتی ہے۔ جواب یہ ہے کہ لی جاسکتی ہے اور اس امت مرحومہ کے بے شمار افراد اس سے مشرف ہو چکے ہیں۔متعدد حضرات صوفیا نے اس بارے میں تفصیلا بیان کیا ہے۔
دوسرا سوال کہ موجودہ عصری مسائل اور امت کے بے شمار گروہوں کے بارے میں کیوں رہنمائی نہیں لی جاتی
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ رہنمائی سب سے اول قرآن و سنت رسول کی صورت میں موجود ہے ، لیکن ان سے تمسک کرنے والے کتنے ہیں؟ دوسری بات براہ راست بھی یہ رہنمائی لی جاتی رہی ہے۔ مکتوبات امام ربانی از حضرت مجدد الف ثانی، حسام الرمین از شاہ ولی اللہ اور کچھ ان کی تصانیف نیز مولانا اللہ یار صاحب کی مذکورہ بالا کتاب اسی سلسلے کی ہیں تاہم ان باتوں کو قبول کرنے میں ہمارے اپنے موجودہ عقائد و رجحانات سد راہ ہیں۔
ظاہر ہے جو افراد قرآن و احادیث رسول کو ہی سند نہ سمجھیں اور فرقہ بازوں کی تاویلات ان کے نزدیک سند کا درجہ رکھتی ہوں وہ مکاشفات صوفیا کے بھلا کیا قائل ہو سکتے ہیں؟
آپ نے فرمایا: "جواب یہ ہے کہ لی جاسکتی ہے".....اور یہ بھی فرمایا ،کہ"جو افراد قرآن و احادیث رسول کو ہی سند نہ سمجھیں اور فرقہ بازوں کی تاویلات ان کے نزدیک سند کا درجہ رکھتی ہوں وہ مکاشفات صوفیا کے بھلا کیا قائل ہو سکتے ہیں؟" ۔۔۔۔۔۔۔
تو عزیز من! آپ کے پہلے دعوٰی یعنیآج کے دور میں رہنمائی لی جاسکتی ہے ، کے لیےاگرقرآن و حدیث سے سند عطا فرمائیں....تو امید ہے ،بات آسان ہو جائے گی۔
 

ابن محمد جی

محفلین
آپ نے فرمایا: "جواب یہ ہے کہ لی جاسکتی ہے".....اور یہ بھی فرمایا ،کہ"جو افراد قرآن و احادیث رسول کو ہی سند نہ سمجھیں اور فرقہ بازوں کی تاویلات ان کے نزدیک سند کا درجہ رکھتی ہوں وہ مکاشفات صوفیا کے بھلا کیا قائل ہو سکتے ہیں؟" ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
تو عزیز من! آپ کے پہلے دعوٰی یعنیآج کے دور میں رہنمائی لی جاسکتی ہے ، کے لیےاگرقرآن و حدیث سے سند عطا فرمائیں....تو امید ہے ،بات آسان ہو جائے گی۔
میرے بھائی!آپ کا سوال کرنے کا انداز بہت اچھا ہے،اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ بات کو سمجھنا چاہتے ہیں۔اول آپ اس بات کو سمجھیے کہ کیا کشف ومشاھدہ ہو سکتا ہے؟ اگر ہو سکتا ہے تو کیا کشف سے دین کو سمجھنے میں مدد لی جا سکتی ہے اور وہ بھی کس حد تک؟کیا یہ کشف ومشاھدات امت میں تواتر سے ثابت ہو سکتا ہے؟دین میں کشف ومشاھدات کی کیا حثیت ہے؟وغیرہ وغیرہ
اس سلسلہ میں ایک بنیادی حصول ہے آپ اسکو مد نظر رکھ لیں! انبیاء کو جو کچھ عطا ہوتا ہے،امتی کو اس میں بحثیت امتی اتباع رسالت سے ملتا ہے ۔مثلا نبی کو اللہ کی پہچان ہو تی ہے تو امتی کو ہوتی ہے ،مگر نبی جس طرح اللہ پر یقین وایمان رکھتا ہے امتی کے پا س اسکا کروڑواں حصہ نہیں بھی ہوتا ،مگر امتی اللہ کی پہچان کئلے نبی کا محتاج ہے،پس انبیاء کو الہام کشف ومشاھدات ہوتے جو سو فیصد برحق ہیں اور تمام امت کیلئے ہیں،اور امتی کا مشاھدہ شریعت کا محتاج ہے ،اگر شریعت پر ہو تو بر حق ہے ،اگر شریعت سے ٹکرائے تو مشاھدہ برحق ہے اور کشف کو سمجھنے میں غلطی لگی ہے،عمل شریعت پر ہو گا۔
دین سارے کا سارا کشفی طور پر ہی ملاہے۔وحی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ عالی نے فرمایا:
ہوتایہ ہے کہ انبیا ء علیہم الصلوۃ والسلام نے بھی ساری شریعت کشف وا لہام سے ، وحی سے حاصل فرمائی ۔وحی کی کیفیت بھی صرف نبی پہ ظاہر ہوتی ہے کوئی دوسرا جو پاس بیٹھا ہوا اور وحی نازل ہو رہی ہوتو دوسرے کو سمجھ نہیں آتی ۔اس طرح کشف و الہام بھی صاحب کشف والہام پہ وارد ہوتاہے کوئی ساتھ دوسرا بیٹھا ہواسے سمجھ نہیں آتی ۔لیکن نبی کریم ﷺ پر جو وارد ہوتااس میں دوباتیں یقینی تھیں ۔اس میں ایک تو حضور ﷺ پہ جوکچھ واردہوتاوہ حق ہوتا تھا۔اس میں شیطان مداخلت نہیں کرسکتا تھا۔دوسری بات یہ حق ہوتی تھی کہ جو کچھ حضور پہ وحی یا کشف سے ‘ یا نبی کا خواب بھی وحی الہیٰ ہوتاہے ‘ خواب سے اگر کوئی بات نبی پہ وارد ہوتی ہے تو وہ بھی وحی ہوتی ہے اور وہ بھی برحق ہوتی ہے نہ اس میں شیطان مداخلت کرتا ہے اورنہ اللہ کے نبی کوسمجھنے میں غلطی لگتی ہے۔
صوفیا ء اور انبیا ء کے کشف اور مجاہدہ میں فرق :
جو کشف اور مجاہدہ صوفیاء کو ہوتاہے وہ بھی وہی ہوتاہے جو نبی کو ہوتاہے ۔اس لئے کہ باتباع نبی اور نبی کی اطاعت میں فنا ہونے سے وہ برکات نصیب ہوتی ہیں ۔لیکن یہاں بہت بڑا فرق ہے ۔صوفی کے مشاہدے یا اس کے القایا کشف میں شطان بھی مداخلت کرسکتاہے ۔یہ دونوں خطرات ولی کے ساتھ موجود ہیں جو نبی کے ساتھ نہیں ہیں ،لہٰذاہر ولیٰ االلہ کا کشف ومشاہدہ محتاج ہے نبی کے ارشادات عالیہ کا ۔ اگر حضور ﷺ کے احکام کی حدود کے اندر ہے ،اس کے مطابق ہے تو درست ہے اگر متصادم ہے تو باطل ہے ۔دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ جو کشف نبی کو ہوتوہے ،جوا لہام نبی ہوتا ہے ،جو وحی نبی پہ آتی ہے ، جو خواب اللہ کا نبی دیکھتا ہے ساری امت اس کی مکلف ہوتی ہے۔پوری امت کو وہ ماننا پڑتا ہے ۔ جو مشاہدہ ولی کو ہوتا ہے کو ئی دوسرا بندہ اس کا مکلف نہیں ۔صاحب مشاہدہ اگر اس کا مشاہدہ شرعی حدود کے اندر ہے تو اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے کہ فلاں کو یہ کشف ہوااس لئے میں یہ عمل کروں ۔ یہ شان صرف انبیاء علیہم الصلوۃوالسلام کی ہے تو لہذا کو ئی بھی نظریہہو یا اسے آپ اصطلاح کہیں یا کشف کہیں یا مشاہدہ کہیں تو بنیاد شریعت مطہرہ ہے اور ارشادات نبوی ﷺاور قرآن اور حدیث ہے اور سنت ہے اس کے اندر اندر اس کی تشریحات اس کی تفصیلات علماء کو اللہ کریم علم کے راستے بتادیتاہے ،علم کے ذریعے سے سمجھا دیتا ہے اور بڑی بڑی بحثیں علماء حضرات نے فرمائی ہیں اور علما ہی کو مشاہدات بھی نصیب ہوتے ہیں ۔جو اس طرف آجائے اس اللہ کریم کشف اور مشاہدے سے سرفراز فرماتے ہیں ان کے کشف سے کوئی نیا حکم جاری نہیں ہو سکتااور شرعی حدود سے باہر بھی نہیں ہو سکتیں ۔اسلام تو ارشادات نبویﷺ کا نام ہے ، اسلام تو اعمال نبوی کا نام ہے ،اسلام تواخلاق نبوی ﷺکا نام ہے ۔جو حضور ﷺ نے سکھادیا وہ اسلام ہے۔
یہ ایک وسیع موضعوع ہے ،اور اسکا تعلق عملی تصوف وسلوک سے ہے آپکو نیچے ایک دو کتابوں کے لنک دے رہا ہو ں آپ اچھی طرح تفصیل سے مطالعہ کر کے پھر بات کریں۔
http://www.scribd.com/doc/14876303/ilmoirfan
سکے علاوہ آپ یہاں http://www.naqshbandiaowaisiah.com/library_books_HJ2.htmlسے محافل شیخ ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھ سکتے ہیں یہ بھی سوال جواب میں ہے اور اپکے سوال کا جواب بھی مل جائے گا
مزید آپکی تسلی کئلئے آپکو علم سلوک حاصل کرنے بندہ عاجز کی دعوت بھی دیتاہے تا کہ عملی طور پر آپ اس میں داخل ہو کر دیکھ لیں کہ حقائق کیا ہیں
 
مکتوبات امام ربانی از حضرت مجدد الف ثانی، حسام الرمین از شاہ ولی اللہ اور کچھ ان کی تصانیف نیز مولانا اللہ یار صاحب کی مذکورہ بالا کتاب اسی سلسلے کی ہیں
غالباّ آپ فیوض الحرمین لکھنا چاہتے تھے لیکن غلطی سے حسام الحرمین ٹائپ ہوگیا :)
 
السلام علیکم!
کیا کوئی حضرت بایزید بسطامی رح کے بارے یا انکی سیرت، اقوال، کے متعلق بہت سی کتب کے نام بتا سکتا ہے؟؟؟
 
Top