1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

ترک فوج کی شام میں کرد جنگجوؤں پر بمباری

جاسم محمد نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 10, 2019 8:22 شام

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,147
    ترک فوج کی شام میں کرد جنگجوؤں پر بمباری
    مانیٹرنگ ڈیسک جمعرات 10 اکتوبر 2019
    [​IMG]
    ترکی شام کی خودمختاری کااحترام کرے، ایران۔ فوٹو: سوشل میڈیا


    انقرہ / تہران: ترکی نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد جنگجوؤں کیخلاف فوجی آپریشن کا شروع کردیا ہے اور سرحد سے ملحق قصبے راس العین میں فضائی کارروائی کی گئی۔

    ایک برطانوی خبرایجنسی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد میں دہشت گردوں کی راہداری کو ختم کرنا ہے، ترکی نے شام میں فوجی آپریشن کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی فوج کو وہاں سے بے دخل کرنے کے اچانک فیصلے کے فوری بعد کیا جبکہ ٹرمپ کے فیصلے کو واشنگٹن میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق فوجی کارروائی کے حوالے سے ترک سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ شام میں فوجی آپریشن فضائی کارروائی سے شروع کیا گیا ہے اور اس میں بری فوج کا تعاون بھی حاصل ہوگا۔

    ترک میڈیا کے مطابق راس العین میں بمباری کی گئی، طیاروں کے اڑنے کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں اور عمارتوں سے دھواں اٹھتا نظر آرہا ہے،شام میں فوجی کارروائی کے تازہ سلسلے پر متعدد ممالک کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اس سے خطے کے بحران میں اضافہ ہوگا، ترکی کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد خطے کو محفوظ بنانا ہے تاکہ لاکھوں مہاجرین کو شام واپس بھیجا جاسکے۔

    دوسری جانب شام کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کی کسی بھی جارحیت کا قانونی طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہے،دریں اثناء ایران نے شام میں ترکی کے ممکنہ فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ترکی شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔جواد ظریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل کیلئے سب سے بہترین راستہ ’آدنا معاہدہ‘ ہے۔

    ادھر ترک صدر رجب طیب اردوآن کے ایک قریبی ساتھی نے کہا ہے کہ ترک فوجی دستے شامی باغیوں کے گروپ فری سیریئن آرمی کے ساتھ جلد ہی سرحد عبور کر کے شمالی شام میں داخل ہو جائیں گے، ادھر یورپی یونین نے کہا ہے کہ شام میں ترکی کے مجوزہ فوجی آپریشنز سے پناہ گزینوں کی نئی لہر پیدا ہوگی ۔
     

اس صفحے کی تشہیر