ترکِ وفا کی سر گزشت تیرے نام سے تھی

نور وجدان

لائبریرین

ترکِ وفا کی سر گزشت تیرے نام سے تھی
تحریر داستاں یہ منظر پہ عام سی تھی

ڈیرا مرا یہ کیسا اب تیرے شہر پھر سے
مانا کی جو محبت وہ بھی بے نام سی تھی


ہمدم رہا ترا سایہ بے خودی میں میری
اے ہم سفر تو چاہِ حسرت نا کام سی تھی


میں انتظار کرتی کیا تیری واپسی کا
سانسیں رکی رکی تھیں تحریک جام سی تھی


میں روم روم میں بس جاتی گلہ نہ ہوتا
چرچے نگر نگر یہ تو بات عام سی تھی

اے نورؔ وہ رفاقت بھی کیسی ساتھی پل کا
ہاں وہ کبھی کی قربت گامِ بہ گام سی تھی

 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
پہلے تمام اشعار ایک ہی بحر میں کیے جا ئیں گے۔
غالباً اس بحر میں کہے گئے ہیں۔کئی اوزان سے باہر ہو رہے ہیں ۔مثلاً
فعلن مفاعلاتن فعلن مفاعلاتن
 

نور وجدان

لائبریرین
پہلے تمام اشعار ایک ہی بحر میں کیے جا ئیں گے۔
غالباً اس بحر میں کہے گئے ہیں۔کئی اوزان سے باہر ہو رہے ہیں ۔مثلاً
فعلن مفاعلاتن فعلن مفاعلاتن
آپ نے بحر کی غلط پہچان کی ہے ۔۔ اور ان کے اوزان چیک کر ا چکی ہوں ۔ دوسری بات بھی بتا دیں:):):)
 

سید عاطف علی

لائبریرین
اللہ اکبر۔ !!! کسی غیر زبان والے کو اردو شاعری سکھانا کافی مشکل کام ہے۔ خاص طور پر الفاظ کے تلفظ۔ صرف اوزان کی نشاندہی کر رہا ہوں اس وقت۔

ترکِ وفا کی سر گزشت تیرے نام سے تھی
تحریر داستاں یہ منظر پہ عام سی تھی
÷÷
پہلا ہی شعر دیکھیں گزشت کا وزن فعول کے برابر ہے۔ یعنی 121 کے برابر۔ اور آپ نے عروضی سافٹ ویئر کی غلطی کی وجہ سے اسے گزشت کو 2-2 باندھا ہے۔

ڈیرا مرا یہ کیسا اب تیرے شہر پھر سے
مانا کی جو محبت وہ بھی بے نام سی تھی
÷÷ بے کو 2 کے برابر باندھا جاتا ہے۔ 1 باندھنا اچھا نہیں۔

ہمدم رہا ترا سایہ بے خودی میں میری
اے ہم سفر تو چاہِ حسرت نا کام سی تھی
÷÷ناکام میں نا بھی 2 کے برابر ہے۔ 1 نہیں باندھا جاسکتا۔

میں انتظار کرتی کیا تیری واپسی کا
سانسیں رکی رکی تھیں تحریک جام سی تھی
÷÷درست وزن۔

میں روم روم میں بس جاتی گلہ نہ ہوتا
چرچے نگر نگر یہ تو بات عام سی تھی
÷÷درست وزن۔

اے نورؔ وہ رفاقت بھی کیسی ساتھی پل کا
ہاں وہ کبھی کی قربت گامِ بہ گام سی تھی
÷÷درست وزن ہے۔
 

نور وجدان

لائبریرین
اللہ اکبر۔ !!! کسی غیر زبان والے کو اردو شاعری سکھانا کافی مشکل کام ہے۔ خاص طور پر الفاظ کے تلفظ۔ صرف اوزان کی نشاندہی کر رہا ہوں اس وقت۔
حضرات چنگی نی کیتی۔۔ یعنی خارج از زباں ۔۔ میرے آنسو ہیں روان۔۔ آپ کرتے رہیں اللہ اکبر۔۔۔ ہم روتے رہے سجدوں میں جاکر :):):):)تلفظ پر کرم کریں تاکہ پوری طرح نام ہو جایں ۔۔۔ اللہ اللہ:)
 
اب ایک بات اور بتا دیتے ہیں۔
اگر کوئی بحر دو مساوی حصوں (two equal halves) میں تقسیم ہوسکتی ہے تو اس کے آدھے حصے پر ایک جملہ اور باقی آدھے میں ایک جملہ مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر جون ایلیا کی غزل دیکھیں۔ اس غزل کی بحر - مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن۔ دو برابر حصوں میں ٹوٹ جاتی ہے۔ اور ہر ایک مفتعلن مفاعلن پر ایک جملہ بنتا ہے۔ غزل کو دیکھیں۔:

حالتِ حال کے سبب، حالتِ حال ہی گئی
شوق میں کچھ نہیں گیا، شوق کی زندگی گئی

ایک ہی حادثہ تو ہے، اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی

بعد بھی تیرے جانِ جاں، دل میں رہا عجب سماں
یاد رہی تری یہاں، پھر تری یاد بھی گئی

صحنِ خیالِ یار میں، کی نہ بسر شبِ فراق
جب سے وہ چاندنہ گیا، جب سے وہ چاندنی گئی

اس کے بدن کو دی نمود، ہم نے سخن میں اور پھر
اس کے بدن کے واسطے، ایک قبا بھی سی گئی

اس کی امیدِ ناز کا، ہم سے یہ مان تھا کہ آپ
عمر گزار دیجیے، عمر گزار دی گئی

اس کے وصال کے لیے، اپنے کمال کے لیے
حالتِ دل کہ تھی خراب، اور خراب کی گئی

تیرا فراق جانِ جاں، عیش تھا کیا مرے لیے
یعنی ترے فراق میں، خوب شراب پی گئی

اس کی گلی سے اٹھ کے میں، آن پڑا تھا اپنے گھر
ایک گلی کی بات تھی، اور گلی گلی گئی
 
حضرات چنگی نی کیتی۔۔ یعنی خارج از زباں ۔۔ میرے آنسو ہیں روان۔۔ آپ کرتے رہیں اللہ اکبر۔۔۔ ہم روتے رہے سجدوں میں جاکر :):):):)تلفظ پر کرم کریں تاکہ پوری طرح نام ہو جایں ۔۔۔ اللہ اللہ:)

اللہ!! میرا مطلب ایسا نہیں تھا۔ ہم نے آپ کو زبان سے خارج نہیں کیا۔ واللہ ایسا ہمارا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ البتہ زبان سے زیادہ واقفیت بھی نہیں آپ کی اس لیے ایسا کہا گیا۔ کوئی بری نیت نہیں تھی۔
پھر بھی معذرت۔
 

نور وجدان

لائبریرین
حضرات چنگی نی کیتی۔۔ یعنی خارج از زباں ۔۔ میرے آنسو ہیں روان۔۔ آپ کرتے رہیں اللہ اکبر۔۔۔ ہم روتے رہے سجدوں میں جاکر :):):):):)
اللہ!! میرا مطلب ایسا نہیں تھا۔ ہم نے آپ کو زبان سے خارج نہیں کیا۔ واللہ ایسا ہمارا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ البتہ زبان سے زیادہ واقفیت بھی نہیں آپ کی اس لیے ایسا کہا گیا۔ کوئی بری نیت نہیں تھی۔
پھر بھی معذرت۔
آپ کی نیت پہ شبہ کس نے کیا۔۔۔ پر دل ہے یہ سنگ و خشت تو نہیں۔۔بجا فرمایا۔۔اردو شاعری سے نابلد ہوں پر شعر کہ دیتی ہوں اور آپ کو ثواب کمانے کا موقع دیتی ہوں ۔۔ میں اب درد ناک آڈیو سنو یا سانگ سنو ان کے تلفظ کے لیے۔پہلے ہی بڑا درد دل میں ۔۔۔۔۔:cry2::cry2::(;):D:secrettelling:
 

نور وجدان

لائبریرین
مفتعلن مفاعلن
مفاعلن تو 2121 ہوا اور مفتعلین؟

پہلا ہی شعر دیکھیں گزشت کا وزن فعول کے برابر ہے۔ یعنی 121 کے برابر۔ اور آپ نے عروضی سافٹ ویئر کی غلطی کی وجہ سے اسے گزشت کو 2-2 باندھا ہے۔

121 فاعلن یا فعولن۔۔ چوک ہوگئی مجھے بتاتے بتاتے
 

سید ذیشان

محفلین
پہلا ہی شعر دیکھیں گزشت کا وزن فعول کے برابر ہے۔ یعنی 121 کے برابر۔ اور آپ نے عروضی سافٹ ویئر کی غلطی کی وجہ سے اسے گزشت کو 2-2 باندھا ہے۔

عروض سافٹوئر اگرچہ غلطیوں سے پاک نہیں لیکن اس کیس میں غلطی سافٹوئر کی نہیں۔ اگر مکمل لفظ ”سرگزشت“ لکھا جائے تو درست تقطیع کرتا ہے۔ :)
 
عروض سافٹوئر اگرچہ غلطیوں سے پاک نہیں لیکن اس کیس میں غلطی سافٹوئر کی نہیں۔ اگر مکمل لفظ ”سرگزشت“ لکھا جائے تو درست تقطیع کرتا ہے۔ :)
جی یہ مراسلہ لکھنے کے بعد میرے ذہن میں یہی بات آئی تھی کہ شاید یہی مسئلہ ہے۔
 

شوکت پرویز

محفلین
بحرِ رمل مثمن مشکول مسکّن - یا - بحر رمل مضارع مثمن اخرب
مفعول فاعلاتن - مفعول فاعلاتن
122 2212 - 122 2212
جس میں ہر "فاعلاتن (2212)" کو "فاعلاتان (12212)" کِیا جا سکتا ہے۔
اور جس میں فاعلاتن (یا فاعلاتان) پر جملہ مکمل ہونا احسن ہے۔
۔۔۔
آپ کے اس شعر میں "فاعلاتن" پر جملہ مکمل ہو رہا ہے
میں انتظار کرتی کیا تیری واپسی کا
سانسیں رکی رکی تھیں تحریک جام سی تھی
لیکن
اس شعر میں 'سایہ' دو حصوں میں بَٹ رہا ہے، جو کہ مستحسن نہیں۔
ہمدم رہا ترا سایہ بے خودی میں میری
اے ہم سفر تو چاہِ حسرت نا کام سی تھی
۔۔۔۔
اس بحر میں داغ دہلوی کی حمد:
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/حمدِ-رب-العالمین-داغ-دہلوی.22930/
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
بحرِ رمل مثمن مشکول مسکّن - یا - بحر رمل مضارع مثمن اخرب
مفعول فاعلاتن - مفعول فاعلاتن
122 2212 - 122 2212
جس میں ہر "فاعلاتن (2212)" کو "فاعلاتان (12212)" کِیا جا سکتا ہے۔
اور جس میں فاعلاتن (یا فاعلاتان) پر جملہ مکمل ہونا احسن ہے۔
۔۔۔
آپ کے اس شعر میں "فاعلاتن" پر جملہ مکمل ہو رہا ہے
میں انتظار کرتی کیا تیری واپسی کا
سانسیں رکی رکی تھیں تحریک جام سی تھی
لیکن
اس شعر میں 'سایہ' دو حصوں میں بَٹ رہا ہے، جو کہ مستحسن نہیں۔
ہمدم رہا ترا سایہ بے خودی میں میری
اے ہم سفر تو چاہِ حسرت نا کام سی تھی
۔۔۔ ۔

اس غزل کو دوبارہ دیکھ لوں گئ۔۔ شکریہہ اس کو دیکھ کر بتانے کا
اس بحر میں داغ دہلوی کی حمد:
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/حمدِ-رب-العالمین-داغ-دہلوی.22930/

بہت شکریہ روشنی ڈالنے کا
 
آخری تدوین:
Top