ترکش کا تیر ہاتھ کا پتھر بڑا ہوا.۔۔ ۔۔۔ غزل برائے اصلاح

کافی دنوں سے ایک غزل اصلاح کے لئے پیش کرنا چاہتا تھا لیکن محفل میں اسے چسپاں کرنا یاد ہی نہیں رہتا تھا ۔ استاد. محترم جناب الف عین سر اور دیگر احباب سے اصلاح کا منتظر ہوں.
بحر مضارع
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
★★★★★★★★★★★★★★★
ترکش کا تیر، ہاتھ کا پتھر بڑا ہوا
میری مخالفت میں یہ اکثر، بڑا ہوا

میں جانتا نہیں تھا مگر دوستی کے ساتھ
اک مارِ آستیں بھی برابر بڑا ہوا

کروٹ کی عادتیں شبِ تنہائی سے پڑیں
یوں میری خواب گاہ کا بستر بڑا ہوا

خود رائے ہونا اتنا برا بھی نہیں، مگر
پوچھے بغیر پیڑ یہ کیونکر بڑا ہوا ؟

زخموں کا جوں جوں معاملہ کُھلتا گیا مرے
چاکِ بدن، طبیب کا نشتر بڑا ہوا

حالات کا وہ رخ جو مرا کل سنوار دے
تاروں میں شب کو ڈھونڈنا دوبھر بڑا ہوا

سچائی اپنے خوں میں نہائے پڑی رہی
قتلِ عمد کے بعد گو محشر بڑا ہوا

تم کیسے روک پاؤگے دفتر یہ جھوٹ کا
کاشف یہ اب تو پہلے سے بہتر، بڑا ہوا

★★★★★★★★★★★★★★
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
مجھے ردیف پسند نہیں آئی۔ ویسے تو ایک آدھ معمولی سی غلطی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن زمین کی وجہ سے مجھے اکثر زبردستی کا اشعار محسوس ہو رہے ہیں۔

کروٹ کی عادتیں شبِ تنہائی سے پڑیں
یوں میری خواب گاہ کا بستر بڑا ہوا
۔۔۔ بستر تو جہاں ہو وہی خواب گاہ ہے، اس تخصیص کی کیا ضرورت، اس کے علاوہ بستر کا بڑا ہونا کچھ درست محاورہ نہیں لگا۔

زخموں کا جوں جوں معاملہ کُھلتا گیا مرے
۔۔۔ معاملہ کا درست تلفظ مفاعلن ہے، فعلن نہیں۔
 
مجھے ردیف پسند نہیں آئی۔ ویسے تو ایک آدھ معمولی سی غلطی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن زمین کی وجہ سے مجھے اکثر زبردستی کا اشعار محسوس ہو رہے ہیں۔

کروٹ کی عادتیں شبِ تنہائی سے پڑیں
یوں میری خواب گاہ کا بستر بڑا ہوا
۔۔۔ بستر تو جہاں ہو وہی خواب گاہ ہے، اس تخصیص کی کیا ضرورت، اس کے علاوہ بستر کا بڑا ہونا کچھ درست محاورہ نہیں لگا۔

زخموں کا جوں جوں معاملہ کُھلتا گیا مرے
۔۔۔ معاملہ کا درست تلفظ مفاعلن ہے، فعلن نہیں۔
بہت بہتر استاد محترم۔
ان شا اللہ جلد ہی میں اشعار درست کرتا ہوں۔
جزاک اللہ
 

شکیب

محفلین
خود رائے ہونا اتنا برا بھی نہیں، مگر
پوچھے بغیر پیڑ یہ کیونکر بڑا ہوا ؟
قطع نظر اس بات کے کہ آپ پیڑ کو کس بات کا استعارہ بنا رہے ہیں، استعارے سے اصل معنی کا حسن بڑھتا یا کم از کم ادا ہوتا نظر آنا چاہیے۔ میری رائے میں یہاں یہ بات نہیں آ رہی۔:)

نیز اکثر اشعار میں محض ردیف کی وجہ سےابلاغ میں مشکل ہو رہی ہے۔
 
قطع نظر اس بات کے کہ آپ پیڑ کو کس بات کا استعارہ بنا رہے ہیں، استعارے سے اصل معنی کا حسن بڑھتا یا کم از کم ادا ہوتا نظر آنا چاہیے۔ میری رائے میں یہاں یہ بات نہیں آ رہی۔:)

نیز اکثر اشعار میں محض ردیف کی وجہ سےابلاغ میں مشکل ہو رہی ہے۔
یہاں آپ سے متفق ہوں۔
میں بھی مطمئن نہیں ہوں۔
شکریہ
 

علی امان

محفلین
کاشف بھائی میرے خیال میں آپ یوں لکھنا چاہ رہے تھے:
تاروں کو شب میں ڈھونڈنا دوبھر بڑا ہوا
دونوں صورتوں میں بات بنتی نہیں لگتی۔
بھائی مقصد یہ ہے کہ ستاروں سے حاات کا وہ رخ معلوم نہیں کیا جا سکے جس سے میں اپنے کل میں مناسب تبدیلیاں کر لوں اور برے وقت سے بچ پاؤں۔
اب دوبارہ شعر "پڑھیے گا"۔ :)
 
Top