تحریک پاکستان میں علماء اہل سنت کا کردار

Islamic Student نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 25, 2018

  1. Islamic Student

    Islamic Student محفلین

    مراسلے:
    7
    مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

    تاریخ کیا ہے ؟ عجیب دو دھاری تلوار ہے ۔یہ مخالفت و موافقت کے تمام پہلوؤں کو نکھار کر پیش کرتی ہے ۔اگر کسی قوم کے پاس اس کی صحیح تاریخ موجود ہو تو وہ قوم اپنے ماضی کے تجربات کے آئینے میں اپنے حال کو درخشندہ اور مستقبل کو تابندہ بنا سکتی ہے۔ آج ہماری تاریخ آزادی کو صاحبانِ قلم و قرطاس کے تعصب نے سراسر خلاف حقیقت اور مسموم کر کے رکھ دیا ہے ۔ بقول مفتی جلال الدین صاحب

    ایک خاص ذہن کے حامل آزادی کی کہانی لکھنے والوں نے نہ جانے کس مصلحت کے تحت ہمیشہ علماء عظام کے کردار کو مسخ کرنے کی سعیِ مذموم کی ہے ۔ تعصب اور عناد کی رو میں بہہ کر انصاف کا دامن چھوڑنے والوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا یہ رویہ اور عمل بھی تاریخ محفوظ کر رہی ہے۔

    (پاکستان بنانے والے علماء و مشائخ: جلالدین قادری ۔ ص:۱۲ : عالمی دعوت اسلامیہ مطبوعہ ۳۔۱۹۹۷)

    حقائق بحر حال حقائق ہیں ۔ جھوٹ و افترا کی ہزار ہا تہیں بھی اس نور کو دھندلا نہیں سکتیں۔

    تاریخ پاکستان در حقیقت جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی تحریک آزادی سے عبارت ہے ۔ مملکت خدا داد کے مطالبے پر مبنی تحریک کو شروع کرنے ، برصغیر کے کونے کونے تک پہچانے اور مسلمانوں کو اس میں شامل کرنے کے لیے سعی و جدوجہد کا سہرا جہاں قائداعظم اور ان کے رفقا کے سر سجا وہاں علماء کرامِ اہلِ سنت کی مساعی جمیلہ نے بھی نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ان اکابر علماء کرام کے لیے جذبہِ احسان شناسی کا تقاضہ ہے کہ ان کی شاندار خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جائے اور نسل نو کو ان کے کردار سے اگاہ کیا جائے ۔ ذیل میں علماء اہل

    آل انڈیا سنی کانفرنس
    سنت کی تحریک پاکستان کے سلسلے میں کی جانے والی چند خدمات کا تذکرہ کیا جائے گا۔



    تحریک پاکستان کی اشاعت میں آل انڈیا سنی کانفرس نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔اس کانفرس کا پہلا جلسہ1925، دوسرا 1935 اور تیسرا 1946 کوبنارس میں منعقد ہوا جس میں 500 مشائخ ،7000 علماء کرام اور دو لاکھ(200000) سے زائد عوام نے شرکت کی ۔

    (سید اختر حسین سیرت امیر ملت ۔ ص:۴۴۱)

    اس کانفرس میں یہ متفقہ قرار داد منطور ہوئی۔

    آل انڈیا سنی کانفرس کا یہ اجلاس مطالبہ پاکستان کی پرزور حمایت کرتا ہے اور علان کرتا ہے کہ علماء اہل سنت اسلامی حکومت کے قیام کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے ہر امکانی قربانی کے لےے تیار ہیں اور اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی اسلامی حکومت قائم کریں جو قرآن و حدیث کی روشنی میں فقہی اصول کے مطابق ہو ۔

    (ماہنامہ میثاق لاہور، ستمبر ۱۹۸۵ ۔ ص:۲۶ )

    (کل پاکستان سنی کانفرس کے پس منظر کا اجمالی مطالعہ ۔ ص: ۱۸)

    (محمد صادق قصوری : اکابر تحریک پاکستان ۔ ص:۲۷۲)

    بلکہ بات یہاں تک پہنچی کہ

    آل انڈیا سنی کانفرس اپنے اس مطالبے کو کسی حال میں ترک نہیں کرسکتی ، خواہ مسٹر جناح اس کے حامی رہیں یا نہ رہیں ۔

    (ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی ؛ علماء میدان سیاست میں ۔ ص: ۴۴۰)



    تحریک پاکستان کے مخالفین کی گواہی
    تحریک پاکستان کے مخالفین کی گواہی بھی پیش خدمت ہے۔

    ” مسلم لیگ مولوی اور پیروں کی مدد سے کامیاب ہوئی ہے۔مولوی اور پیروں نے ”اسلام خطرے میں ہے” کا نعرہ لگایا اور ووٹروں کو غضب الہی سے ڈرا کر مسلم لیگ کی کامیابی کے لیے میدان صاف کیا۔

    (ہندو اخبارات)

    ( تحریک پاکستان نوائے وقت کے اداریوں کی روشنی میں:سرفراز حسین مرزا ص:۴۹۱)

    ( ماہنامہ کنزالایمان لاہور ، اگست ۱۹۹۵ تحریک پاکستان نمبر ۔ ص: ۱۸۰)
     

اس صفحے کی تشہیر