بے سمتی کے وبال سے آگے نہیں گئے

نمرہ

محفلین
بے سمتی کے وبال سے آگے نہیں گئے
چلتے تھے اس کمال سے، آگے نہیں گئے
رکھتے ہیں ہم وجود جہاں میں کہیں ، یا پھر
اک وہم ، اک خیال سے آگے نہیں گئے؟
ہم راہ ِ جستجو پہ سفر یوں نہ کر سکے
گم گشتہ کے ملال سے آگے نہیں گئے
ٹھہرے ہیں دہر کے بھی کتب خانے میں ، مگر
ہم گردِ ماہ و سال سے آگے نہیں گئے
نقشِ دوام ثبت ہوا دل پہ جو کبھی
اس حسنِ لازوال سے آگے نہیں گئے
ہمراہیوں سے بڑھ کے سبک رو تھے یوں تو ہم
اوروں کے ہی خیال سے آگے نہیں گئے
رکھنے سے پاسِ وضع، رہے دلبری میں ہیچ
اک سرسری سوال سے آگے نہیں گئے
 

الف عین

لائبریرین
اچھی غزل ہے نمرہ ماشاء اللہ، بس کچھ ،صرعوں میں وضاحت یا روانی کی کمی محسوس ہوئی۔
رکھتے ہیں ہم وجود جہاں میں کہیں ، یا پھر
اک وہم ، اک خیال سے آگے نہیں گئے؟
پہلا مصرع واضح بھی نہیں اور رواں بھی نہیں۔ کیا یوں مراد ہے
رہتے تھے ہم جہاں میں کہیں، اور گئے اگر

ٹھہرے ہیں دہر کے بھی کتب خانے میں ، مگر
ہم گردِ ماہ و سال سے آگے نہیں گئے
//کتب خانے ہی کی کیا تخصیص؟ یہ کہیں بھی ہو سکتا ہے۔

نقشِ دوام ثبت ہوا دل پہ جو کبھی
اس حسنِ لازوال سے آگے نہیں گئے
//واضح نہیں

ہمراہیوں سے بڑھ کے سبک رو تھے یوں تو ہم
اوروں کے ہی خیال سے آگے نہیں گئے
//دوسرا مصرع ‘ہی‘ کی نشست کی وجہ سے چست نہیں لگ رہا
اگر یوں کہیں تو
ہمراہیوں سے بڑھ کے سبک رو تھے ، کیوں مگر
ہم اوروں کے خیال سے آگے نہیں گئے

رکھنے سے پاسِ وضع، رہے دلبری میں ہیچ
//روانی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اس طرح
تھا پاس وضع ہم کو، رہے دلبری میں ہیچ/ سو ہیں دلبری میں ہیچ
 

نمرہ

محفلین
رکھتے ہیں ہم وجود جہاں میں کہیں ، یا پھر
اک وہم ، اک خیال سے آگے نہیں گئے؟
پہلا مصرع واضح بھی نہیں اور رواں بھی نہیں۔ کیا یوں مراد ہے
رہتے تھے ہم جہاں میں کہیں، اور گئے اگر
کیا اس طرح واضح ہے استاد محترم؟
رکھتے بھی ہیں وجود ، جہاں میں کہیں، بھلا
یا پھر ہم اک خیال سے آگے نہیں گئے؟
ٹھہرے ہیں دہر کے بھی کتب خانے میں ، مگر
ہم گردِ ماہ و سال سے آگے نہیں گئے
//کتب خانے ہی کی کیا تخصیص؟ یہ کہیں بھی ہو سکتا ہے۔
کیونکہ کتابوں کا ایک اپنا مقام ہوتا ہے کتب خانے میں۔ مٹی بھی موجود ہوتی ہے مگر اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، کیا یہ غیر واضح ہے؟
نقشِ دوام ثبت ہوا دل پہ جو کبھی
اس حسنِ لازوال سے آگے نہیں گئے
//واضح نہیں
اگر اس کا پہلا مصرعہ اس طرح کر دیا جائے :
نقشِ دوام ثبت ہوا دل پہ ایک بار؟
ہمراہیوں سے بڑھ کے سبک رو تھے یوں تو ہم
اوروں کے ہی خیال سے آگے نہیں گئے
//دوسرا مصرع ‘ہی‘ کی نشست کی وجہ سے چست نہیں لگ رہا
اگر یوں کہیں تو
ہمراہیوں سے بڑھ کے سبک رو تھے ، کیوں مگر
ہم اوروں کے خیال سے آگے نہیں گئے
جی، ٹھیک ہے۔
رکھنے سے پاسِ وضع، رہے دلبری میں ہیچ
//روانی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اس طرح
تھا پاس وضع ہم کو، رہے دلبری میں ہیچ/ سو ہیں دلبری میں ہیچ
اگر اس طرح کر لیا جائے:
لاحق تھا پاس وضع ، رہے دلبری میں ہیچ
 

الف عین

لائبریرین
کیا اس طرح واضح ہے استاد محترم؟
رکھتے بھی ہیں وجود ، جہاں میں کہیں، بھلا
یا پھر ہم اک خیال سے آگے نہیں گئے؟
÷÷÷ درست

کیونکہ کتابوں کا ایک اپنا مقام ہوتا ہے کتب خانے میں۔ مٹی بھی موجود ہوتی ہے مگر اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، کیا یہ غیر واضح ہے؟
÷÷÷مجھے تو اب بھی غیر واضح لگ رہا ہے!!

اگر اس کا پہلا مصرعہ اس طرح کر دیا جائے :
نقشِ دوام ثبت ہوا دل پہ ایک بار؟
÷÷کس کا نقش، یہ سوال تو اب بھی رہ جاتا ہے!!

اگر اس طرح کر لیا جائے:
لاحق تھا پاس وضع ، رہے دلبری میں ہیچ
÷÷درست ہے
 
Top