بیوی کو قتل کرنے کا سہل ٹوٹکا۔۔۔ وہ بھی عین اسلامی فتوے کی روشنی میں

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

Rehmat_Bangash

محفلین
سورہ نور کی جن آیات کا حوالہ دیا گیاہے (آیت 6 سے 9) ان میں تو کہیں قتل کا لفظ نہیں آیا ؟ بلکہ ان آیات کا مطالعہ کرنے سے تو یہ پتہ چلتاہے کہ جو کچھ بھی ہوگا وہ معاملہ عدالت کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہوگا۔ تو یہ دنیا میں رائج عام طریقہ ہے، ہم قرآن کو غور سے پڑھتے ہی نہیں ہیں، ورنہ اتنی پوسٹنگ ضرورت ہی نہیں تھی، مسلہ تو پہلے ہی حل ہو چکا تھا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ اندھی تقلید اور اندھے تعصب کے بجائے کھلی آنکھوں سے قرآن کا مطالعہ کیا جائے۔
 
سورہ نور کی جن آیات کا حوالہ دیا گیاہے (آیت 6 سے 9) ان میں تو کہیں قتل کا لفظ نہیں آیا ؟ بلکہ ان آیات کا مطالعہ کرنے سے تو یہ پتہ چلتاہے کہ جو کچھ بھی ہوگا وہ معاملہ عدالت کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہوگا۔ تو یہ دنیا میں رائج عام طریقہ ہے، ہم قرآن کو غور سے پڑھتے ہی نہیں ہیں، ورنہ اتنی پوسٹنگ ضرورت ہی نہیں تھی، مسلہ تو پہلے ہی حل ہو چکا تھا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ اندھی تقلید اور اندھے تعصب کے بجائے کھلی آنکھوں سے قرآن کا مطالعہ کیا جائے۔
گزارش ہے کہ یہ مراسلہ ایک اہم دینی ادارے کے عالم سے منسوب بیان کے تناظر میں پوسٹ کیا گیا ہے- اب ہر کوئی آپ کی طرح قرآن و سنت کا مستند عالم تو ہو نہیں سکتا، جو دعوی سے اپنی بات کہہ سکے - ہم عامی مسلمان کا علماء کی رائے کو اہمیت دینا غلط ہے کیا؟؟؟
من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من النار
(ترمذی،باب ماجاء یفسر القرآن،حدیث نمبر:۲۸۷۴)
جو شخص قرآن کریم کے معاملے میں علم کے بغیر کوئی بات کہے تو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
تفسیر کے اصولوں اور اسلام کے اجماعی طور پر طے شدہ ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے اگر تفسیر میں کسی ایسی رائے کا اظہار کیا جائے جو قرآن وسنت کے خلاف نہ ہو تو وہ حدیث کی وعید میں داخل نہیں ہے؛ البتہ اس قسم کا اظہار رائے بھی قرآن وسنت کے وسیع وعمیق علم اور اسلامی علوم میں مہارت کے بغیر ممکن نہیں اور علماء نے اس کے لیے بھی کچھ کار آمد اصول مقرر فرمائے ہیں جو اصول فقہ اور اصول تفسیر میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں اور ان کا ایک نہایت مفید خلاصہ علامہ بدرالدین زرکشی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب"البرہان فی علوم القرآن کی نوع ۴۱ میں بالخصوص اقسام التفسیر کے زیر عنوان (صفحہ:۱۶۴۔۱۷۰)
 

محمداحمد

لائبریرین
گزارش ہے کہ یہ مراسلہ ایک اہم دینی ادارے کے عالم سے منسوب بیان کے تناظر میں پوسٹ کیا گیا ہے- اب ہر کوئی آپ کی طرح قرآن و سنت کا مستند عالم تو ہو نہیں سکتا، جو دعوی سے اپنی بات کہہ سکے - ہم عامی مسلمان کا علماء کی رائے کو اہمیت دینا غلط ہے کیا؟؟؟
من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من النار
(ترمذی،باب ماجاء یفسر القرآن،حدیث نمبر:۲۸۷۴)
جو شخص قرآن کریم کے معاملے میں علم کے بغیر کوئی بات کہے تو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
تفسیر کے اصولوں اور اسلام کے اجماعی طور پر طے شدہ ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے اگر تفسیر میں کسی ایسی رائے کا اظہار کیا جائے جو قرآن وسنت کے خلاف نہ ہو تو وہ حدیث کی وعید میں داخل نہیں ہے؛ البتہ اس قسم کا اظہار رائے بھی قرآن وسنت کے وسیع وعمیق علم اور اسلامی علوم میں مہارت کے بغیر ممکن نہیں اور علماء نے اس کے لیے بھی کچھ کار آمد اصول مقرر فرمائے ہیں جو اصول فقہ اور اصول تفسیر میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں اور ان کا ایک نہایت مفید خلاصہ علامہ بدرالدین زرکشی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب"البرہان فی علوم القرآن کی نوع ۴۱ میں بالخصوص اقسام التفسیر کے زیر عنوان (صفحہ:۱۶۴۔۱۷۰)

یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ "ایک عالم" کے اخذ کردہ "غلط مطلب" کو "ایک عام شخص" کے اخذ کردہ "صحیح مطلب" پر ترجیح دی جانی چاہیے؟؟؟
 
یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ "ایک عالم" کے اخذ کردہ "غلط مطلب" کو "ایک عام شخص" کے اخذ کردہ "صحیح مطلب" پر ترجیح دی جانی چاہیے؟؟؟
میرا سوال یہ نہیں تھا میں نے لکھا تھا ہم عامی مسلمان کا علماء کی رائے کو اہمیت دینا غلط ہے کیا؟؟؟
ایک عالم" کے اخذ کردہ "غلط مطلب ایک عام شخص" کے اخذ کردہ "صحیح مطلب
اس بارے میں آپ دی گئی حدیث اور اس کی تشریح ملاحظہ کر لیں - ایک عالم کی تشریح، مناسب نہ لگے( فہم ، دھیان کا قصور بھی ہو سکتا ہے اور بیان کا نا مکمل ہونا بھی ایک وجہ ہو سکتا ہے ) تو پہلے تو اس سے پوری بات تفصیل سے پوچھ لیں یا کسی اور مستند عالم سے رجوع کرلیں - ( ایک عام شخص سے مراد دین کا عالم ہے؟؟ )
اگر طب کے معاملے کا فیصلہ، تشریح طبیب کرتا ہے تو دین کے معاملات کی تشریح کون کرے گا؟؟ عالم ہی کرے گا، یہ آپ بھی ہو سکتے ہیں اور میں بھی ، اگر ہمارے پاس دین کا مطلوبہ علم موجود ہے -
 

محمداحمد

لائبریرین
اگر طب کے معاملے کا فیصلہ، تشریح طبیب کرتا ہے تو دین کے معاملات کی تشریح کون کرے گا؟؟ عالم ہی کرے گا، یہ آپ بھی ہو سکتے ہیں اور میں بھی ، اگر ہمارے پاس دین کا مطلوبہ علم موجود ہے -

اللہ رب العزت نے تو کہا ہے کہ ہم نے قران کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا تاکہ انسان سوچے سمجھے۔

ہم لوگ کہتے ہیں کہ قران عام آدمی نہ پڑھے گمراہ ہو جائے گا۔ بھٹک جائے گا۔ ایسا کیوں بھئی؟ ہمارے ہاں لوگ قران کی طرف بڑھنے والے کی حوصلہ شکنی کیوں کرتے ہیں۔ پھر اسلام تو وہ مذہب ہے کہ جس میں علم کا حصول فرض ہے تو پھر وہ کیا بات ہے کہ کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ عام آدمی ہمیشہ عام آدمی ہی رہے اور وہ کبھی اہلِ علم نہ بنے اور اپنے روز مرہ مسائل کے لئے بھی علماء کا محتاج ہی رہے۔ کیوں آخر؟

قران صرف عالموں کے لئے ہدایت نہیں ہے، عام لوگوں کے لئے بھی ہدایت ہے۔ اللہ تعالیٰ قران میں بارہا انسانوں کو مخاطب کرکے خطاب کیا ہے۔

ہر شخص جو چاہتا ہے کہ وہ قران سے براہِ راست فیض حاصل کرے۔ اُسے یہ حق ہونا چاہیے۔ ہاں البتہ قران کو احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کہیں ابہام ہو تو تفاسیر دیکھی جا سکتی ہیں، قران کا علم رکھنے والوں سے پوچھا جا سکتا ہے۔ ایک ہی آیت کو سمجھنے کے لئے مختلف علماء کے ترجمے و تفاسیر دیکھی جا سکتی ہیں۔

لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ آپ قران نہ پڑھیں۔ عالم سے پوچھیں۔ ارے بھئی کیوں آخر۔ انسان قران پڑھ کر بھی تو عالم سے پوچھ سکتا ہے نا؟

سمجھ سے باہر ہے ان لوگوں کا فلسفہ جو عام آدمی کو قران سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور طب اور طبیب کی مثال دیتے ہیں۔

قران کتابِ ہدایت ہے، انسان کی زندگی کے لئے رہنمائی ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
اس لڑی کی پوسٹ نمبر 2 میں ایسی کیا مشکل بات ہے جو ایک عام آدمی کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرنی چاہیے۔ بہت صاف صاف ہیں یہ آیات۔

ہمیں اللہ سے ہدایت کی دعا کرنی چاہیے کہ اللہ اسی قران سے لوگوں کو ہدایت بھی دیتا ہے اور چاہے تو اسی قران سے لوگوں کو گمراہ کر دیتا ہے۔ اور اس کے لئے عالم یا عامی کی تخصیص نہیں ہے۔

پھر انسان کوشش تو کرے ۔ سمجھ نہ آئے تو علماء سے پوچھنے کا راستہ موجود ہے۔
 

arifkarim

معطل
کون کس کو سمجھا رہا ہے واہ بھئی واہ یہ لڑی بنی اسلئے کہ مسلمانوں کے ساتھ تمسخر کیا جائے۔
اور تمسخر کرنے والے بھی یہی مسلمان ہی تو ہیں۔ اپنے ہی شامت اعمال ہے جسکی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان نام نہاد مفتیوں کو اسلامی فتٰوی سوچ سمجھ کر دینے چاہئے۔ تاکہ دیگر مسلمان اسکو ہنسی اور ٹھٹھے کا نشانہ نہ بنائیں!
 

Rehmat_Bangash

محفلین
گزارش ہے کہ یہ مراسلہ ایک اہم دینی ادارے کے عالم سے منسوب بیان کے تناظر میں پوسٹ کیا گیا ہے- اب ہر کوئی آپ کی طرح قرآن و سنت کا مستند عالم تو ہو نہیں سکتا، جو دعوی سے اپنی بات کہہ سکے - ہم عامی مسلمان کا علماء کی رائے کو اہمیت دینا غلط ہے کیا؟؟؟
من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من النار
(ترمذی،باب ماجاء یفسر القرآن،حدیث نمبر:۲۸۷۴)
جو شخص قرآن کریم کے معاملے میں علم کے بغیر کوئی بات کہے تو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
تفسیر کے اصولوں اور اسلام کے اجماعی طور پر طے شدہ ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے اگر تفسیر میں کسی ایسی رائے کا اظہار کیا جائے جو قرآن وسنت کے خلاف نہ ہو تو وہ حدیث کی وعید میں داخل نہیں ہے؛ البتہ اس قسم کا اظہار رائے بھی قرآن وسنت کے وسیع وعمیق علم اور اسلامی علوم میں مہارت کے بغیر ممکن نہیں اور علماء نے اس کے لیے بھی کچھ کار آمد اصول مقرر فرمائے ہیں جو اصول فقہ اور اصول تفسیر میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں اور ان کا ایک نہایت مفید خلاصہ علامہ بدرالدین زرکشی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب"البرہان فی علوم القرآن کی نوع ۴۱ میں بالخصوص اقسام التفسیر کے زیر عنوان (صفحہ:۱۶۴۔۱۷۰)
پہلے تو محمد احمد صاحب کا شکریہ کہ وہ تفصیلی جواب دے چکےہیں، پھر میں یہ عرض کردوں کہ میں قرآن کا ایک انتہائی ادنی سا طالبعلم ہوں۔ میرے بھائی قرآن کیا ہے؟ کیا یہ وہ ہدایت کا سرچشمہ نہیں جو اللہ پاک نے رسول کریم حضرت محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم کے ذریعے ہم "عام"انسانوں تک پہنچایا۔ خود اس قرآن میں یہ کہاں لکھا ہے کہ یہ کتاب کچھ خاص لوگوں کے لیے مخصوص ہے اور عام لوگ ان خاص لوگوں کی بتائی ہوئی باتوں کو ہی درست مانیں۔ بلکہ اگر آپ قرآن کا مطالعہ کریں تو سورہ بقرہ کی ابتدئی آیات میں ہی یہ بات واضح کردی گی ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے متقی لوگوں کے لیے، اب تقوی پر تو کسی کا اجارہ ہے نہیں ، بلکہ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کون متقی ہے اور کون نہیں، یہ فیصلہ بھی اللہ نے کرناہے، میرے عرض کرنے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ جب قرآن کریم کی واضح آیات موجود ہیں تو فضول بحثوں میں اُلجھنے کا فائدہ ؟ علما دین کی اہمیت اپنی جگہ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، لیکن ان کےپاس تو تب جایا جائے جب کوئی ابہام ہو ، جب بات ہماری سمجھ میں نہ آرہی ہو، یا ہمارا علم کسی بات کو سمجھنے کے لیے ہمارا ساتھ نہ دے رہاہو۔ صرف اندھی تقلید کی وجہ سے قرآن یا صحیح حدیث کو چھوڑ کر علما کی رائے کو قبول کر لینا کہاں کا اسلام ہے۔
 
لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ آپ قران نہ پڑھیں۔ عالم سے پوچھیں۔ ارے بھئی کیوں آخر۔ انسان قران پڑھ کر بھی تو عالم سے پوچھ سکتا ہے نا؟
سمجھ سے باہر ہے ان لوگوں کا فلسفہ جو عام آدمی کو قران سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور طب اور طبیب کی مثال دیتے ہیں۔
قران کتابِ ہدایت ہے، انسان کی زندگی کے لئے رہنمائی ہے۔
محترم ، آپ نے میرے مراسلے کا اقتباس لیا ہے اور طب اور طبیب والی مثال بھی میں نے دی ہے تو میرے مراسلے کی کس فقرے سے آپ نے یہ سمجھا ہے؟ کہ ""قران نہ پڑھیں عالم سے پوچھیں" " بہت مشکور ہوں گا اگر آپ میری تصحیح کر دیں
میں نے تو یہ لکھا تھا کہ اگر طب کے معاملے کا فیصلہ، تشریح طبیب کرتا ہے تو دین کے معاملات کی تشریح کون کرے گا؟؟ عالم ہی کرے گا، یہ آپ بھی ہو سکتے ہیں اور میں بھی ، اگر ہمارے پاس دین کا مطلوبہ علم موجود ہے -
یعنی آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ "ایک عالم" کے اخذ کردہ "غلط مطلب" کو "ایک عام شخص" کے اخذ کردہ "صحیح مطلب" پر ترجیح دی جانی چاہیے؟؟؟
بہت مشکور ہوں گا اگر آپ میری تصحیح کر دیں یہ مطلب بھی آپ نے میرے کس مراسلے کے کس فقرے سے اخذ کیا ہے ؟ جبکہ میں نے لکھا تھا گزارش ہے کہ یہ مراسلہ ایک اہم دینی ادارے کے عالم سے منسوب بیان کے تناظر میں پوسٹ کیا گیا ہے- اب ہر کوئی آپ کی طرح قرآن و سنت کا مستند عالم تو ہو نہیں سکتا، جو دعوی سے اپنی بات کہہ سکے - ہم عامی مسلمان کا علماء کی رائے کو اہمیت دینا غلط ہے کیا؟؟؟
 

محمداحمد

لائبریرین
محترم ، آپ نے میرے مراسلے کا اقتباس لیا ہے اور طب اور طبیب والی مثال بھی میں نے دی ہے تو میرے مراسلے کی کس فقرے سے آپ نے یہ سمجھا ہے؟ کہ ""قران نہ پڑھیں عالم سے پوچھیں" " بہت مشکور ہوں گا اگر آپ میری تصحیح کر دیں۔

آپ کی یہ پوسٹ دیکھیے:

گزارش ہے کہ یہ مراسلہ ایک اہم دینی ادارے کے عالم سے منسوب بیان کے تناظر میں پوسٹ کیا گیا ہے- اب ہر کوئی آپ کی طرح قرآن و سنت کا مستند عالم تو ہو نہیں سکتا، جو دعوی سے اپنی بات کہہ سکے - ہم عامی مسلمان کا علماء کی رائے کو اہمیت دینا غلط ہے کیا؟؟؟

ناصر بھائی ۔۔۔۔۔!

اس لڑی کی دوسری پوسٹ میں شوکت پرویز بھائی نے قران کا حکم پیش کر دیا ہے (اور جو ایسا مشکل بھی نہیں کہ اُس کو پڑھ کر بات سمجھ نہ آسکے) اسی بات کی بابت رحمت بنگش صاحب نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ جب واضح حکم مل گیا تو پھر بحث کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ آپ نے رحمت بنگش صاحب کی پوسٹ کا اقتباس لیا ۔ اور اپنی رائے کا اظہار کیا جس سے یہ نتیجہ نکالنا بعید از قیاس نہیں تھا کہ آپ اس بات سے مطمئن نہیں ہیں۔

میری رائے کچھ اسی تناظر میں تھی اور کچھ ہمارے ہاں لوگوں کے عمومی رویے کے حوالے سے، جو قران کو خود سے سمجھنے کی کوشش کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ اسلام میں تو حصولِ علم کو فرض قرار دیا گیا ہے پھر قران کو خود سے سمجھنے کے بارے میں ایسی شدید مخالفت سمجھ سے بالا تر ہے۔

اب ہر کوئی آپ کی طرح قرآن و سنت کا مستند عالم تو ہو نہیں سکتا، جو دعوی سے اپنی بات کہہ سکے - ہم عامی مسلمان کا علماء کی رائے کو اہمیت دینا غلط ہے کیا؟؟؟

کوئی کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو۔ اگر اُس کی بات قران و سنہ سے متصادم ہو تو پھر اُس کی بات کو چھوڑ کر قران و سنہ کی بات کو اپنایا جانا چاہیے۔ اسلام میں حکم ہے کہ جب مسلمانوں میں آپس میں کسی بات پر اختلاف ہو تو پھر اُس بات کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف موڑ دینا چاہیے ۔ یعنی اُس مسئلے کے حل کے لئے قران و سنہ سے مدد لی جائے۔

بہرکیف، میری کوئی بات یا انداز آپ کو ناگوار گزرا ہو تو اس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
 
آپ کی یہ پوسٹ دیکھیے:



ناصر بھائی ۔۔۔ ۔۔!

اس لڑی کی دوسری پوسٹ میں شوکت پرویز بھائی نے قران کا حکم پیش کر دیا ہے (اور جو ایسا مشکل بھی نہیں کہ اُس کو پڑھ کر بات سمجھ نہ آسکے) اسی بات کی بابت رحمت بنگش صاحب نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ جب واضح حکم مل گیا تو پھر بحث کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ آپ نے رحمت بنگش صاحب کی پوسٹ کا اقتباس لیا ۔ اور اپنی رائے کا اظہار کیا جس سے یہ نتیجہ نکالنا بعید از قیاس نہیں تھا کہ آپ اس بات سے مطمئن نہیں ہیں۔

میری رائے کچھ اسی تناظر میں تھی اور کچھ ہمارے ہاں لوگوں کے عمومی رویے کے حوالے سے، جو قران کو خود سے سمجھنے کی کوشش کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ اسلام میں تو حصولِ علم کو فرض قرار دیا گیا ہے پھر قران کو خود سے سمجھنے کے بارے میں ایسی شدید مخالفت سمجھ سے بالا تر ہے۔



کوئی کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو۔ اگر اُس کی بات قران و سنہ سے متصادم ہو تو پھر اُس کی بات کو چھوڑ کر قران و سنہ کی بات کو اپنایا جانا چاہیے۔ اسلام میں حکم ہے کہ جب مسلمانوں میں آپس میں کسی بات پر اختلاف ہو تو پھر اُس بات کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف موڑ دینا چاہیے ۔ یعنی اُس مسئلے کے حل کے لئے قران و سنہ سے مدد لی جائے۔

بہرکیف، میری کوئی بات یا انداز آپ کو ناگوار گزرا ہو تو اس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔

ایک مسلمان کی حرمت (عزت) حرمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ میں مذکور ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
اس حوالے سے سارے مسلمان میرے لیے قابل احترام ہیں پھر آپ کا تو نام ہی اتنا مبارک ہے
باقی یہ معاملہ کہ خود عالم بن جانا یا خود کو عالم سمجھنا، اور علم کے فیصلے کرنا، کس حد تک علم کے ساتھ فیصلہ کرنا ،خود پڑھنے کے بعد کس عالم سے پوچھنا یا کسی عالم پر بھروسہ کرنا
یا جو بھی ہے، اس پر فیصلہ کن بحث کے لیے یہ فورم مناسب جگہ نہیں ہے، پھر ذاتیات ،بغض،اور بہت سے مسائل آ جاتے ہیں -مثلا میں کسی کو ایک بات سے منع کروں اور اور وہ اشتعال میں آ کر مزید غلط الفاظ بول دے تو پھر ہمیں حکم ہے کہ حکمت دانائی کو مدنظر رکھ کر بات ضرور کریں-
وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٥٥﴾ سورة الذاريات - ا ور نصیحت کرتے رہیے۔ کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کو فائدہ دیتی ہے۔
رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
سیدنا تمیم داری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دین خیر خواہی کا نام ہے، ہم نے عرض کیا کس چیز کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے ائمہ کی، اور تمام مسلمانوں کی۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 198
Rehmat_Bangash سورہ بقرہ کی ابتدئی آیاتذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ﴿٢﴾ میں ہی یہ بات واضح کردی گی ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے متقی لوگوں کے لیے، جو اللہ سے ڈرے،اس کے سارے احکامات کو مانے ،پورے کا پورا دیں اپنے اوپر نافذ کرے - یہ نہ ہو کہ کبھی اسلام کی قبا پوری طرح پہن لی اور کبھی تھوڑی ڈھیلی کر دی کہ اب خیر ہے -
اللہ بزرگ و برتر آپ کو بہترین جزا دے آمین
 

arifkarim

معطل
کوئی کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو۔ اگر اُس کی بات قران و سنہ سے متصادم ہو تو پھر اُس کی بات کو چھوڑ کر قران و سنہ کی بات کو اپنایا جانا چاہیے۔ اسلام میں حکم ہے کہ جب مسلمانوں میں آپس میں کسی بات پر اختلاف ہو تو پھر اُس بات کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف موڑ دینا چاہیے ۔ یعنی اُس مسئلے کے حل کے لئے قران و سنہ سے مدد لی جائے۔
درست۔ عالم اسلام کو برباد کرنے والے یہی نام نہاد عالم دین ، علماء کرام اور مولوی حضرات ہے۔ خلافت عثمانیہ کو یورپی انقلابی ایجاد پرنٹنگ پریس کا علم 14 ویں صدی عیسوی ہی میں ہوگیا تھا۔ اور بجائے اسکے کہ جدید علوم کی عام ترسیل کیلئےاس نئی سہل ایجاد کا فائدہ اٹھایا جاتا، اس زمانہ کے اسلامی علماء نے اس عظیم انقلابی ایجاد کو حرام قرار دے کر اسکو مکمل بین کروادیا۔ اس پر ستم ظریفی دیکھئے کہ اس زمانہ کے مسلمان حکمرانوں، دانشورں، مصنفین وغیرہ نے اس جاہلانہ فتویٰ پر کوئی آواز بلند نہیں کی اور جب 300 سال کی تاریکی کے بعد 17 ویں صدی میں یہ ایجاد خلافت عثمانیہ میں دوبارہ عام ہونا شروع ہوئی تب تک مغربی اقوام علم سائنس، فلسفہ، ہنر، عسکری قوت اور ٹیکنالوجی میں ہم مسلمانوں سے کئی سو سال آگے جا چکی تھیں۔
http://en.wikipedia.org/wiki/Global_spread_of_the_printing_press#Ottoman_Empire
 

فاتح

لائبریرین
اس سے زیادہ خود اپنا تمسخر اڑانا کیا ہوگا کہ "لڑی بنی ہی اس لیے ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ تمسخر کیا جا سکے"۔۔۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ ویڈیو والا چوَل ملاں ایسے گھٹیا بیانات جھاڑ کے مسلمانوں کے ساتھ تمسخر کر رہا ہے۔ :rollingonthefloor:
 

قیصرانی

لائبریرین
فاتح بھائی، فتویٰ ایک دینی عالم کی ذاتی رائے ہوتی ہے کہ اگر اس کے ساتھ یہ معاملہ پیش آئے تو وہ اپنے علم کی روشنی میں کیا کرے گا۔ شاید ان مفتی صاحب نے یہی کچھ کیا ہوگا جو بتا رہے ہیں :)
 

شوکت پرویز

محفلین
فاتح بھائی، فتویٰ ایک دینی عالم کی ذاتی رائے ہوتی ہے کہ اگر اس کے ساتھ یہ معاملہ پیش آئے تو وہ اپنے علم کی روشنی میں کیا کرے گا۔ شاید ان مفتی صاحب نے یہی کچھ کیا ہوگا جو بتا رہے ہیں :)
بہت خوب قیصرانی بھائی ! :applause::ROFLMAO::laughing::rollingonthefloor:
میں تو سمجھ رہا تھا کہ معاملہ hypothetical ہے، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ 'آپ بیتی' بھی ہو سکتی ہے۔
اگر کہیں 'مفتی' صاحب یہ لڑی دیکھ لیں تو شاید وہ کہیں:
ہم کہیں گے حالِ دل اور 'لوگ' فرمائیں گے 'بحث' :)
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top