بیسویں صدی۔ دنیا بھر میں امریکہ کے 100جنگی جرائم

عبداللہ شاہ نے 'آپ کے کالم' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 12, 2018

  1. عبداللہ شاہ

    عبداللہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    42
    اپریل 1916ء میں امریکی بری فوج نے ڈومنیکن میں ہونے والی عوامی آزادی کی تحریک کو سرکوب کرکے 8 سال تک اس ملک پر جابرانہ قبضہ کئے رکھا۔ 6 اگست 1945ء کو اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹمی حملہ کرنے کا حکم دیا۔ اس حملے کے باعث چند منٹوں میں 78150 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ علاوہ ازیں ان حملوں میں وہاں کے لاکھوں شہری متاثر ہوئے۔ 9 اگست 1945ء کو ہیری ٹرومین نے دوسری مرتبہ جاپان کے شہر ناگاساکی پر ایٹمی بمباری کا حکم دیا۔ وہاں پر امریکی حملے کے نتیجے میں 73884 افراد لقمہ اجل اور 60 ہزار افراد سے زیادہ وہاں کے بے گناہ شہری زخمی ہوئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف وہاں کے انسان متاثر ہوئے بلکہ حیوانات سمیت وہاں کے کھیت کھلیاں بھی مکمل کھنڈرات میں بدل گئیں۔ 28 دسمبر 1945ء کو امریکی صدر ہیری ٹرومین نے سعودی عرب کے شہر ظہران میں امریکی فوج کے لئے باقاعدہ فوجی چھاونی بنانے کا حکم دیا۔ یہ سعودی عرب بلکہ جزیرۃ العرب میں پہلی امریکی چھاؤنی شمار ہوتی ہے۔ 1946ء کو امریکہ نے اتریش میں 250 ہزار ٹن کیمیائی گیس کا انکشاف کیا۔ پھر اسے ختم کرنے کی بجائے مخفیانہ طور پر امریکہ منتقل کر دیا گیا۔
    1949ء میں امریکہ نے یونان کو داخلی جنگ میں الجھا دیا۔ جس کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ افراد جان سے گئے، 40 ہزار افراد گرفتار ہوئے اور ان میں سے 6 ہزار افراد کو یونانی عدالت کی وساطت سے پھانسی پر چھڑھایا گیا۔ امریکی سفیر میکویچ نے بعد میں اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ1947ء سے لیکر 1949ء تک یونان میں ہونے والی قتل و غارت گری کی پلاننگ مکمل طور پر وائٹ ہاؤس میں ہوئی تھی۔ 3مارچ 1949ء کو امریکی سی آئی نے شام پر حسنی زعیم کے ذریعے حملہ کرایا۔ 14 اگست 1949ء کو شام کے بعض آفیسروں کے ذریعے اسی حسنی الزعیم کا محاصرہ کرایا، جس کی وساطت سے امریکہ نے وہاں پر آپریشن لانچ کیا تھا۔ بعد میں امریکہ کے حکم کی عدولی پر اسے قتل کرایا گیا۔ 26 جون کو امریکہ نے جنوبی کوریا کی خاطر شمالی کوریا میں فوجی مداخلت شروع کر دی۔ 10 مارچ 1952ء کو امریکہ نے جنرل بٹیسٹا (General Batista) کو کیوبا میں فوجی بغاوت پر اکسایا۔ جب اس نے وہاں کی زمام اقتدار اپنے ہاتھوں لے لی تو امریکہ نے اپنی پالیسیوں پر اس کے ذریعے وہاں عملدرآمد کرایا۔ 19 اگست 1953ء کو امریکی سی آئی اے نے مصدق حکومت کے خلاف بغاوت کی چال چلی۔ جو اس وقت ایران میں 25 مرداد کی بغاوت کے عنوان سے مشہور ہے۔
    27 جون 1954ء کو امریکی ائیرفورس نے گواتما لا (Guatemala) کے اطراف میں B26 کے ذریعے حملہ کیا۔ 15 جولائی 1958ء کو لبنان پر بحری بیڑے کے ذریعےحملہ کرکے وہاں پر اپنا قبضہ جما لیا۔ پھر وائٹ ہاؤس نے باضابطہ کمیل شمعون کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ 16 اپریل 1961ء کو امریکہ نے کیوبا میں وہاں سے فرار شدہ افراد کی وساطت سے بغاوت کراکر زمام اقتدار اپنے اختیار میں لینے کی ٹھان لی۔ بحری بیڑے کے ذریعے مدد پہنچانے کے علاوہ وہاں کھل کر باغیوں کی بھرپور مدد کی۔ اس جنگ کو (Bay Of Pigs Invasion) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں امریکہ کو اپنے منہ کی کھانی پڑی اور بری طرح شکست سے دوچار ہوا۔ 1964ء میں امریکہ نے اپنے حمایتیوں کی مدد کرنے کے لئے لاؤس پر مسلحانہ کارروائی کی۔ اس ظالمانہ حملے میں 50 ہزار امریکی فوج اور آفیسر، 1500 لڑاکا طیارے اور 40 بحری بیڑے حصہ لے رہے تھے۔ اس جنگ میں امریکہ نے کھل کر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ 30 جولائی 1964ء کو امریکی سی آئی اے نے ویتنام کی خلیج ٹونکین میں فوجی آپریشن کیا۔ یہ آپریشن B34 کا حصہ تھا، تاکہ ویتنام میں امریکی مداخلت کے لئے جواز فراہم کیا جاسکے۔ یکم مئی 1965ء کو امریکی بحری بیڑے اور جنگی جہازوں سمیت 1700 بحری فوج اور 2500 بری فوج کو ڈومنیکن منتقل کیا گیا۔ 4 مئی 1965ء کو امریکی صدر جانسن نے بغیر کسی سبب کے 1400 امریکی فوج سان ڈومنجو پر قبضہ جمانے کے لئے بھیجنے کا حکم دیا۔
    24 دسمبر 1966ء کو امریکی فوجیوں نے ویتنام کے بے گناہ ایک لاکھ پیچیس ہزار عوام کا قتل عام کیا۔ درحالیکہ اس حملے سے پہلے امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ نئے سال کی مناسبت سے 48 گھنٹوں کے لئے جنگ کو روکا جائے گا۔ 1968ء میں سی آئی اے نے سوہارتو کے ذریعے انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو کے خلاف بغاوت کرائی۔ سوئیکارنو نے پہلے انڈونیشیا کو جاپان سے، پھر ہالینڈ سے آزاد کرایا تھا۔ اس بغاوت کے نتیجے میں ایک ملین شہری لقمہ اجل بن گئے۔ 4 اپریل 1968ء کو سی آئی اے نے مارٹین لوٹر کو قتل کرا دیا، جو سیاہ پوستوں کے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھایا کرتا تھا۔ 1969ء کو اس وقت کے سی آئی اے کے سربراہ نے 1800 ویتنام کے عام شہریوں کو قتل کرایا۔ تاکہ اس کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی تعداد کو 40 ہزار تک پہنچایا جاسکے۔ 20 اپریل 1970ء کو 32 ہزار بری فوج، 500 جنگی جہازوں اور 40 بحری بیڑوں کی مدد سے امریکہ نے کامبوج پر اپنا قبضہ جما لیا۔ 5 ستمبر 1973ء کو امریکی صدر نیکسن نے مشرق وسطی میں تیل صادر کرنے والے ممالک کو دھمکی دی کہ اپنے سیاسی مفادات کی خاطر تیل کی قیمت بڑھانے سے باز رہے، بصورت دیگر ان ممالک کو تیل کی مارکیٹوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
    11 ستمبر 1973ء کو سی آئی اے نے اس وقت کے شیلی کے صدر سلواڈورآلندہ (Salvador Allende) کے خلاف بغاوت کھڑی کر دی، درنتیجہ اسے قتل کیا گیا اور اس بغاوت کے نتیجے میں 30 ہزار افراد کو پھانسی ہوئی اور ایک لاکھ افراد گرفتار ہوگئے۔ 14 جولائی 1977ء کو امریکی "سینیٹ" نے نائٹروجن بنانے کی اجازت دے دی۔ 23 جون 1977ء کو امریکی "سینیٹ" نے نائٹروجن بم بنانے پر پابندی کی مخالف کر دی۔ نائٹروجن بم عمارتوں اور بلڈنگ وغیرہ کو خراب کئے بغیر انسانوں کو قتل کرسکتا ہے۔ 20 اکتوبر1977ء کو وہاں کے توانائی کے وزیر جیمی چلنجر نے اعلان کر دیا، ممکن ہے کہ کل کو مشرق وسطیٰ میں ہماری آنے والی حکومت کو تیل سپلائی کرنے والے ممالک کو سپورٹ کرنا پڑے۔ اس وقت امریکہ والے سمجھ جائیں گے کہ اس وقت کے لئے ابھی سے پلاننگ کئے رکھنا کتنا اہم ہے۔ ممکن ہے یہ ہمیں ان مقاصد کے حصول کے لئے وہاں فوج داخل کرنا پڑے۔ 20 جنوری 1979ء کو اس وقت کی امریکی حکومت نے سی آئی سے تقاضا کیا کہ دنیا بھر میں ہونے والی اسلامی تحریکوں پر ایک جامع تحقیق انجام دی جائے۔ 9 اگست 1979ء کو سکیورٹی کے سربراہ(Zbigniew Brzezinski) نے اعلان کیا کہ امریکہ 2 سال پہلے ہی اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کی خاطر ایک خصوصی فورس تشکیل دے کر ان کے ذریعے مختلف جگہوں میں بحرانی صورت پیدا کرکے دنیا کو بے سکون بنا دیا ہے۔
    (جاری ہے)
     

اس صفحے کی تشہیر