بڑھاپا یہ بتاتا ہے کبھی ہم پر جوانی تھی---برائے اصلاح

الف عین
عظیم
خلیل الرحمن
-----------
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
------------
بڑھاپا یہ بتاتا ہے کبھی ہم پر جوانی تھی
ہمارے پاس بھی محبوب کی ہوتی نشانی تھی
--------------
کسی کے بن سہارے کے ہے چلنا بھی بہت مشکل
کبھی ہوتی ہماری چال میں بھی اک روانی تھی
----------------
مرا وعدہ تھا دینے کا، دیا پھر ہار سونے کا
مرے محبوب نے مانگا تھا جب صؤرت دکھانی تھی
-------------
وہ بیتے دن جوانی کے مجھے پھر یاد آتے ہیں
کبھی میلوں بھی چلتے تھے، تھکاوٹ بے معانی تھی
-----------------
ہمارا ساتھ چھوٹا جب ہوا مایوس مجھ سے وہ
مری جیبیں بھی خالی تھیں مری گاڑی پرانی تھی
-------------------
ہوا ناراض اتنا وہ ، کبھی ملنے نہ آیا پھر
اسی لمحے وہ آیا جب مری میت اُٹھانی تھی
---------------
سہانے دن جوانی کے کبھی بھولا نہیں ارشد
تمہیں اب فیصلہ کرنا مری کیسی کہانی تھی
-----------------
 

عظیم

محفلین
بڑھاپا یہ بتاتا ہے کبھی ہم پر جوانی تھی
ہمارے پاس بھی محبوب کی ہوتی نشانی تھی
--------------دوسرے میں 'ہوتی نشانی' اچھا نہیں لگ رہا۔
محبوب کی اپنے نشانی کیا جا سکتا ہے۔

کسی کے بن سہارے کے ہے چلنا بھی بہت مشکل
کبھی ہوتی ہماری چال میں بھی اک روانی تھی
----------------پہلے میں الفاظ کی ترتیب اچھی نہیں ہے۔ مثلاً 'کسی کے بن سہارے'
اس کے علاوہ اگر یہ کہا جائے کہ 'اب کسی کے سہارے کے بغیر چلنا مشکل ہے' تو شاید زیادہ بہتر ہو۔ اور دوسرے مصرع کے ساتھ ربط بھی اچھا ہو جائے گا۔ 'اک روانی' میں بھی 'اک' کی جگہ اگر کوئی اور لفظ لے آئیں تو بہت خوب ہو جائے گا۔ مثلاً ایسی، کیا وغیرہ

مرا وعدہ تھا دینے کا، دیا پھر ہار سونے کا
مرے محبوب نے مانگا تھا جب صؤرت دکھانی تھی
-------------یہ مجھے ٹھیک لگ رہا ہے

وہ بیتے دن جوانی کے مجھے پھر یاد آتے ہیں
کبھی میلوں بھی چلتے تھے، تھکاوٹ بے معانی تھی
-----------------اچھا ہے یہ شعر ۔ 'بیتے' کی جگہ 'گزرے' بہتر رہے گا

ہمارا ساتھ چھوٹا جب ہوا مایوس مجھ سے وہ
مری جیبیں بھی خالی تھیں مری گاڑی پرانی تھی
-------------------پہلا واضح نہیں ہے۔ کنفیوژن ہو رہی ہے۔ کہ ساتھ چھوٹنے کے بعد وہ مایوس ہوا یا جب وہ آپ سے مایوس ہو گیا تب ساتھ چھوٹا۔

ہوا ناراض اتنا وہ ، کبھی ملنے نہ آیا پھر
اسی لمحے وہ آیا جب مری میت اُٹھانی تھی
---------------بیان کے اعتبار سے نامکمل لگ رہا ہے۔ پہلے میں 'کہ کبھی ملنے نہ آیا' ہونا چاہیے تھا۔ اور دوسرے میں 'اگر آیا تو اس لمحے' وغیرہ ہونا چاہیے تھا۔ یعنی اگر آیا بھی تو تب آیا جب مری... الخ

سہانے دن جوانی کے کبھی بھولا نہیں ارشد
تمہیں اب فیصلہ کرنا مری کیسی کہانی تھی
----------------- دوسرا 'تمہیں اب فیصلہ کرنا' بیانیہ پر غور کریں۔ 'تمہیں اب یہ فیصلہ کرنا ہے' مکمل بیان ہو گا۔ حالانکہ ابھی بھی 'کہ' کی کمی لگ رہی ہے۔ یعنی 'کہ مری کیسی کہانی تھی۔
 
الف عین
عظیم
------------
بڑھاپا یہ بتاتا ہے کبھی ہم پر جوانی تھی
ہمارے پاس بھی محبوب کی اپنے نشانی تھی
--------------
کسی کے بن سہارے کے ہے چلنا بھی بہت مشکل
کبھی ہوتی ہماری چال میں ایسی روانی تھی
-------------یا
ہمیشہ چال میں اپنی بڑی اچھی روانی تھی
--------
مرا وعدہ تھا دینے کا، دیا پھر ہار سونے کا
مرے محبوب نے مانگا تھا جب صؤرت دکھانی تھی
------------
وہ گزرے دن جوانی کے مجھے پھر یاد آتے ہیں
کبھی میلوں بھی چلتے تھے، تھکاوٹ بے معانی تھی
-----------------
چھڑایا مجھ سے دامن جب بڑا مایوس تھا مجھ سے
مری جیبیں بھی خالی تھیں مری گاڑی پرانی تھی
-------------------
خفا مجھ سے وہ اتنا تھا نہ ملنے پھر کبھی آیا
جنازہ دیکھ کر آیا وہ جب میت اُٹھانی تھی
---------------
سہانے دن جوانی کے کبھی بھولا نہیں ارشد
سنائی جو تمہیں میں نے مری اپنی کہانی تھی
--------------
 

عظیم

محفلین
بڑھاپا یہ بتاتا ہے کبھی ہم پر جوانی تھی
ہمارے پاس بھی محبوب کی اپنے نشانی تھی
--------------اب ٹھیک ہو گیا ہے

کسی کے بن سہارے کے ہے چلنا بھی بہت مشکل
کبھی ہوتی ہماری چال میں ایسی روانی تھی
-------------یا
ہمیشہ چال میں اپنی بڑی اچھی روانی تھی
--------پہلے مصرع میں کوئی تبدیلی نہیں کی؟.


مرا وعدہ تھا دینے کا، دیا پھر ہار سونے کا
مرے محبوب نے مانگا تھا جب صؤرت دکھانی تھی
-----------دوبارہ دوبارہ پوسٹ کرتے ہیں تو میرا بھی دل کرتا ہے کہ کچھ اور بہتری اگر دیکھ سکوں تو بتا دوں۔ یہاں بھی پہلے مصرع کا پہلا ٹکڑا بیان کے اعتبار سے اچھا نہیں لگ رہا۔ درست تو ہے مگر خوب نہیں۔ الفاظ بدل کر دیکھیں، مثلا 'دینے' کی جگہ کچھ اور جو پڑھنے اور سننے میں اچھا لگے

وہ گزرے دن جوانی کے مجھے پھر یاد آتے ہیں
کبھی میلوں بھی چلتے تھے، تھکاوٹ بے معانی تھی
-----------------مِیلوں لکھیں کہ میلے جو لگتے ہیں ان کی طرف بھی دھیان جاتا ہے

چھڑایا مجھ سے دامن جب بڑا مایوس تھا مجھ سے
مری جیبیں بھی خالی تھیں مری گاڑی پرانی تھی
-------------------اب بھی ربط نہیں بن پایا۔ پہلے میں اگر یہ بات ہوتی کہ میری حالت دیکھ کر مایوس ہوا تو دوسرے سے ربط بن جانا تھا

خفا مجھ سے وہ اتنا تھا نہ ملنے پھر کبھی آیا
جنازہ دیکھ کر آیا وہ جب میت اُٹھانی تھی
---------------دوسرا مزید بگڑ گیا ہے

سہانے دن جوانی کے کبھی بھولا نہیں ارشد
سنائی جو تمہیں میں نے مری اپنی کہانی تھی
--------------سنائی ہے جو میں نے وہ مری اپنی کہانی تھی
روانی کے اعتبار سے بہتر ہو گا۔ لیکن دونوں مصرعوں میں ربط نہیں ہے۔
دوسری غزل بعد میں ان شاء اللہ ۔
 
عظیم
بڑھاپا یہ بتاتا ہے کبھی ہم پر جوانی تھی
ہمارے پاس بھی محبوب کی اپنے نشانی تھی
--------------
بنا اب تو سہارے کے ہے چلنا بھی بہت مشکل
ہمیشہ چال میں اپنی بڑی اچھی روانی تھی
----
مرا وعدہ تھا دینے کا، دیا پھر ہار سونے کا
مرے محبوب نے مانگا تھا جب صؤرت دکھانی تھی
---------
وہ گزرے دن جوانی کے مجھے پھر یاد آتے ہیں
کبھی میلوں بھی چلتے تھے، تھکاوٹ بے معانی تھی
----------------
ہوا مایوس مجھ سے جب تبھی دامن چھڑایا تھا
مری جیبیں بھی خالی تھیں مری گاڑی پرانی تھی
------------------
خفا مجھ سے وہ اتنا تھا نہ ملنے پھر کبھی آیا
وہ آیا تو تب آیا جب مری میت اُٹھانی تھی
---------------
سہانے دن جوانی کے کبھی بھولا نہیں ارشد
سنائی ہے جو میں نے وہ مری اپنی کہانی تھی
-----------
 

عظیم

محفلین
بڑھاپا یہ بتاتا ہے کبھی ہم پر جوانی تھی
ہمارے پاس بھی محبوب کی اپنے نشانی تھی
--------------بہتر ہو گیا ہے، اگرچہ وہ کیا نشانی تھی سمجھ میں نہیں آ رہا۔ دو لخت ہے

بنا اب تو سہارے کے ہے چلنا بھی بہت مشکل
ہمیشہ چال میں اپنی بڑی اچھی روانی تھی
----بنا اب تو، کا بیانیہ اچھا نہیں لگ رہا۔
دوسرے میں 'بڑی اچھی' بھی کچھ عجیب لگ رہا ہے۔
پہلا مصرع تو یوں بہتر ہو سکتا ہے
بہت مشکل ہے چلنا اب سہارے کے بنا لیکن
لیکن دوسرا ابھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا

مرا وعدہ تھا دینے کا، دیا پھر ہار سونے کا
مرے محبوب نے مانگا تھا جب صؤرت دکھانی تھی
---------ٹھیک

وہ گزرے دن جوانی کے مجھے پھر یاد آتے ہیں
کبھی میلوں بھی چلتے تھے، تھکاوٹ بے معانی تھی
----------------یہ بھی

ہوا مایوس مجھ سے جب تبھی دامن چھڑایا تھا
مری جیبیں بھی خالی تھیں مری گاڑی پرانی تھی
------------------ اب بھی دو لخت ہے

خفا مجھ سے وہ اتنا تھا نہ ملنے پھر کبھی آیا
وہ آیا تو تب آیا جب مری میت اُٹھانی تھی
---------------دوسرے میں 'وہ' کا دوہرایا جانا اور 'تو' کا طویل کھینچنا اچھا نہیں
اس کے علاوہ 'اگر، مگر کی بھی ضرورت ہے

سہانے دن جوانی کے کبھی بھولا نہیں ارشد
سنائی ہے جو میں نے وہ مری اپنی کہانی تھی
-----------دو لخت
 
Top